اطہر اقبال کی کتاب

اطہر اقبال کی کتاب

“ایک کہاوت ایک کہانی”

تاریخ ، سَماجِیَت اور بچوں کی ذہنی استعداد کے لیے ایک بہترین نسخہ کیمیا
_______ معروف اور سینیئر لِکھاری
حنیف سحر
کا تبصرہ
_______

اطہر اقبال نے اپنی کتاب ” ایک کہاوت ایک کہانی ” کے ذریعے سینکڑوں برسوں کی تہذیب اور لوک دانش کو ایک سلسلے میں جمع کردیا ہے ۔

“کہاوت” دراصل لفظ “کہنا” سے نکلا ہے۔

“کہاوت” کا مطلب ہے ایسی باتیں جنھیں بوقت ضرورت ایسے استعمال کیا جاسکتا ہو کہ مختصر سے جملے میں ساری بات کہی جاسکتی ہو اور جب ایسی کہاوتیں لوگوں میں مقبول بھی ہوجائیں تو انھیں سنتے ہی ان کے اندر حکمت انگیز معنی اور مفہوم کو سمجھنا چنداں دشوار نہیں ہوتا ۔ اطہر اقبال نے تاریخ کے اوراق میں بکھرے اور پھیلے ہوئے ایسے بے شمار واقعات اور کہاوتوں کو ایسی دیدہ ریزی سے ایک جگہ جمع کیا ہے کہ ان کے کام کو دیکھنے اور سمجھنے کے بعد کہنا پڑتا ہے کہ اطہر نے بے پناہ مشکل اور منفرد راستے کا انتخاب کیا جس پر چل کر وہ اپنے پڑھنے والوں کے ساتھ ساتھ علم و ادب کی جیّد شخصیات سے اپنی صلاحیتوں کے لیے اعترافی رائے حاصل کرچکے ہیں ان کے کام کو ہر سطح پر لائقِ ستائش سمجھا گیا اور اس کا اعتراف کیا گیا ہے۔ بچوں کے ادب میں ایسے کارہائے نمایاں انجام دینے والے افراد انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں ۔

کہاوت کے لیے عربی میں “مَثَل” کا لفظ آتا ہے، فارسی میں “ضرب المثل” اور اردو میں عام بول چال میں “کہاوت”یہ بتانا تو کسی کے لیے بھی آسان نہیں ہوگا کہ کہاوت کی قطعی ابتدا کب اور کس خطے سے ہوئی لیکن قیاسات کے حوالے سے کافی کچھ درست اندازے قائم کئے جاسکتے ہیں ۔

انسانی تاریخ میں کہاوتوں کی ابتدا اس وقت ہوئی جب لوگ اپنی تجربات، مشاہدات اور حکمت کی باتوں کو مختصر اور یاد رہنے والے جملوں میں بیان کرنے لگے۔
جیسے ۔۔
“اونٹ کے منہ میں زیرا۔قدیم زمانے میں لوگ دیکھتے تھے کہ اونٹ بہت بڑا جانور ہے اور اگر اسے ذرا سا دانہ دیا جائے تو اس کی بھوک نہیں مٹتی،سو یہ کہاوت بن گئی۔
کہاوت دراصل لوک دانش (Folk Wisdom) ہے جو صدیوں کے تجربے کے بعد مختصر جملوں کی شکل میں زبانوں پر رواں ہوجاتی ہے ۔

اطہر اقبال کی محنت اور تخلیقی اپج یہ بھی ہے کہ انھوں نے
بعض کہاوتوں کے لیے ایک سے زیادہ کہانیاں بھی لکھی ہیں ۔
اس سلسلے کی چوتھی اور حالیہ کتاب ” ایک کہاوت ایک کہانی ” (جِلد چَہارم) میں انھوں نے انتساب نظمیہ انداز میں اپنے والدین کے نام منسوب کیا ہے ۔
دیدہ زیب سرِورق جو مجلد یعنی ضخیم گتے کا، اس پر لیس دار کاغذ سے مزید ایک ٹائٹل چڑھایا گیا ہے ۔ موسموں سے حفاظت کے لیے کتاب کو پلاسٹک کے اضافی کور میں محفوظ کیا گیا ہے ۔ اتنے بہت سے جتنوں کے بعد کتاب کی قیمت کچھ زیادہ نہیں ہے یعنی بارہ سو روپے ۔
اسکیچز بھی ہر کہانی کی مناسبت اور مطابقت سے نئے بنوائے گئے ہیں ۔ کتاب میں ایک اور پہاڑ اطہر اقبال نے اپنی راہ میں یہ کھڑا کیا کہ کہاوتوں کو حروف تہجی کے حساب سے ترتیب دیا گیا ہے جیسے الف کی ساری کہاوتیں پھر ب ،پ، ت، ٹ ،ث اور ج یعنی کتاب میں کسی بھی کہاوت کو تلاش کرنا انھوں نے انتہائی آسان بنا دیا ہے ۔آپ کو کہاوت یاد آتی ہے تو آپ اسے زبان سے ادا کیجیے ۔ اس کے پہلے حرف کے حساب سے کتاب میں تلاش کیجیے چند لمحوں میں آپ کی مطلوبہ کہاوت آپ کے سامنے ہوگی ۔
تین سو سے زیادہ صفحات کی اس کتاب میں ایک سو ایک کہانیاں اور کہاوتیں شامل ہیں ۔ آج کل پبلشرز نے ہر کتاب کا معیار یہ بنایا ہوا ہے کہ قیمت زیادہ سے زیادہ رکھتے ہیں تاکہ اسے باآسانی رعایتی نرخوں پر فروخت کرکے خریدار کو یہ خوشی بھی ساتھ میں عطا کریں کہ اسے بڑا بھاری ڈسکاؤنٹ دیا گیا ہے یعنی جس کتاب کی میں بات کررہا ہوں اس کی قمیت تین ہزار رکھتے ہوئے اسے باآسانی پندرہ سو کی آدھی قیمت میں فروخت کیا جاسکتا تھا مگر مذکورہ پبلشر المعروف ” فرید پبلشرز ” نے ایسا نہیں کیا ۔ وہ غالباً پچاس فیصد تک ڈسکاؤنٹ دینے والے کاروباری داؤ پیچ پر چلنا مناسب نہیں سمجھتے اسی لیے کتاب کی قیمت پہلے ہی اتنی مناسب رکھی گئی ہے کہ آپ پوری قیمت میں خریدنے کے بعد بھی گھاٹے میں نہیں رہیں گے اور افسوس بھی نہیں ہوگا ۔
علاوہ ازیں اطہر اقبال نے کہاوتوں کی تلاش اور ان کے انتخاب میں بے پناہ باریک بینی اور ان کے اثرات کا بھرپور جائزہ لینے، ان کے گھسا پٹا نہ ہونے کی یقین دہانیوں کے بعد ہی انھیں لکھا۔ ساتھ ہی عنوان کی دل چسپی کو سمجھنے میں مہینوں کی محنت شاقہ سے کام لیا ہے۔ وہ کہتے ہیں مجھے کہاوتوں کی کہانیاں لکھنے میں اتنا وقت نہیں لگا جتنا ان کے انتخاب اور چھان بین پر اَن گنت دن رات صرف ہوئے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی رہی کہ وہ قبل ازیں تین سو تین کہاوتوں کی کہانیاں پیش کرچکے ہیں جو تین مختلف ادوار میں شائع ہوئی ہیں یعنی ایک کہاوت ایک کہانی پہلا والیوم پھر دوسرے والیوم میں ایک سو ایک کہاوتیں شامل کی گئیں جو پہلے حصے کی کہاوتوں اور کہانیوں سے یکسر مختلف تھیں یعنی یہ ایک ہی کتاب کا دوسرا یا تیسرا ایڈیشن نہیں کہلا سکتا بلکہ ایک ہی سلسلے کی چار الگ الگ کتابیں ہیں اور ان چاروں کتابوں میں چارسو چار کہاوتیں اور ان کہاوتوں کی الگ الگ کہانیاں شامل ہیں ۔ بعد ازاں جب تین کتابیں آچکیں تو ان تینوں کتابوں کی کہاوتوں کو ایک ہی کتاب میں شامل کرکے ایک الگ کتاب بنادیا گیا یعنی مارکیٹ میں اب آپ کو ایک ایسی کتاب بھی مل سکتی ہے جس میں ایک ہی کتاب میں تین سو تین کہانیاں اور کہاوتیں مل جائیں گی۔ اتفاق سے اس کتاب کی قیمت بھی وہ ہی ہے جو اس تازہ کتاب کی ہے جسے ہم والیوم فور یا ” ایک کہاوت ایک کہانی ” (جِلد چَہارم) کہہ سکتے ہیں یہ دونوں کتابیں جن میں سے ایک کتاب تین سو تین کہاوتوں اور کہانیوں پر مشتمل ہے اور چوتھا والیوم یعنی جِلد چَہارم ایک سو ایک کہاوتوں اور کہانیوں پر مشتمل ہے ۔ یہ دونوں کتابیں اپنی دیدہ زیبی اور تزئین و آرائش میں بھی یکساں ہیں ۔ چھپائی کا معیار اور کاغذ بھی عمدہ ہے ۔
اطہر اقبال کی اس عرق ریزی کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ اطلاعات ہیں کہ ان کی کتاب ” ایک کہاوت ایک کہانی ” مختلف اسکولوں میں بچوں کو کہاوتوں اور محاوروں کے معنی اور استعمال بتانے کے لیے پڑھائی بھی جاتی ہیں، کئی اسکولوں میں بچے اسے متواتر اور پابندی سے خریدتے ہیں ۔ بعض اسکولوں نے اسے انعامات اور اعزازات کے گفٹ ہیمپرز کا حصہ بھی بنارکھا ہے۔متعدد لائبریریوں میں یہ کتاب اہتمام سے کیٹ لاگ کا حصہ بنائی گئی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ” ایک کہاوت ایک کہانی ” ایسی کتاب ہے جسے بچوں کو لازمی پڑھنا چاہیے ۔ اطہر اقبال نے سن دوہزار یعنی آج سے پچیس برس پہلے اس مشکل سفر کا آغاز کیا تھا اور آج پچیس برس گزرنے کے بعد بھی ان کی کتاب اول دن کی طرح مقبول و معروف ہے اور اس کی خریداری بھی لائق ذکر ہے ۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے جو پچیس برس تو کیا سینکڑوں برس تک بھی گُلِ تازہ کی طرح زندہ رہ سکتی ہے کیوں کہ جن کہاوتوں کا ذکر اس کتاب میں موجود ہے وہ تو پہلے ہی ہزاروں برسوں کا سفر طے کرچکی ہیں اور آج بھی زندہ ہیں ۔ بظاہر ایسا ہی لگتا ہے کہ اطہر اقبال نے ہر کہاوت کو اپنے ذہن رسا اور تخیل کے زور پر کہانی کے قالب میں اتارا ہے۔ ممکن ہے کچھ کہاوتوں کی کہانیاں پہلے سے موجود رہی ہوں مگر ہمیں زیادہ تر کہانیاں اطہر اقبال کی تخلیق ہی معلوم ہوتی ہیں ۔ انھوں نے کہانی لکھتے وقت زبان و بیان اور اپنے اسلوب کو اَز حد سادہ اور پرکاری کے ہنر سے کَس کے پکڑا ہوا ہے۔ جس کے لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ اطہر اقبال کو بچوں کی ذہنی سطحوں اور ان کی استعداد اور دل چسپی کا اِدراک بہت اچھی طرح سے ہے۔
جناب امجد اسلام امجد ، جناب احمد ندیم قاسمی، جناب محمود شام اور ڈاکٹر رؤف پاریکھ صاحب جیسے عظیم لکھاری اور شاعر کی آراء گزشتہ کتابوں میں شامل رہیں ۔ اس بار ” ایک کہاوت ایک کہانی ” (جِلد چَہارم) میں جناب رضا علی عابدی کی رائے کتاب کا حصہ ہے ۔ مزید برآں ” ایک کہاوت ایک کہانی” کی پہلی اور دوسری جِلد کو نیشنل بک فاؤنڈیشن کی جانب سے اعزازات سے نوازا جاچکا ہے اور فیڈرل گورنمنٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز (FGEI) سمیت حکومت سندھ کے محکمہ تعلیم نے بھی مذکورہ کتاب کو لائبریریوں کے لئے مفید قرار دیا ہے –
انھوں نے اپنے قارئین سے گفتگو کے علاوہ کہاوتوں کی افادیت پر بھی مضمون شامل کیا ہے ، یہ کتاب ایک ایسی ثقافتی اور تہذیبی دستاویز ہے جسے بچوں کے ساتھ ساتھ بڑوں کو بھی کسی راہ نما کی طرح ساتھ رکھنے میں قباحت محسوس نہیں کرنی چاہیے –