فلمی دنیا، جو عام طور پر چمک دمک، شہرت اور تعریف سے جگمگاتی نظر آتی ہے، اس کے ایک اور رخ میں گہرائی میں اترنا ہمارا مقصد ہے۔ یہ وہ رخ ہے جہاں پرانی یادیں، مٹتے ہوئے چہرے اور وہ آوازیں آباد ہیں جنہوں نے اس صنعت کی بنیادوں کو مضبوط کیا، مگر وقت کی دھول نے انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ انہی فراموش کردہ ہیروز میں سے ایک ہیں غفور۔ نام سن کر شاید ہی کسی کے ذہن میں کوئی تصویر ابھرتی ہو، لیکن اگر ہم آپ کو یہ بتائیں کہ یہ وہی غفور ہیں جن کی آواز میں فلم ’پاکیزہ‘ (1972) کا وہ روح پرور، صوفیانہ کلام ’چل تو سہی ساون‘ گایا گیا تھا، تو یقیناً آپ کے ذہن میں ایک جھنجھناہٹ سی دوڑ جائے گی۔ ” (Session Singer) یہ مضمون اسی گمشدہ آواز، غفور، اور ان جیسے دوسرے فنکاروں کی داستان ہے جنہیں ہم ’بولی وڈ کے باسطے‘ کہہ سکتے ہیں۔
” (Session Singers)
یہ وہ گلوکار تھے جو کبھی ’پلے بیک سنگر‘ کے طور پر سامنے نہیں آئے، نہ ہی انہیں وہ شہرت ملی جو محمد رفیع، مکیش، کشور کمار یا لتا منگیشکر جیسے ستاروں کو حاصل ہوئی۔ یہ فنکار اسٹوڈیو کے اس ’باسطے‘ (Session) کا حصہ ہوتے تھے جہاں ایک وقت میں کورس (Chorus) گایا جاتا تھا یا پھر کسی خاص مقصد کے تحت ان کی آواز کو استعمال کیا جاتا تھا۔ یہ آوازیں کسی گیت کے آغاز میں، درمیان میں یا کسی بھی جگہ پر ہوتی تھیں جو گیت کے جذبات کو چار چاند لگا دیتی تھیں۔ انہی میں سے کچھ ایسے بھی تھے جو مکمل گیت گاتے تھے مگر کسی وجہ سے وہ کریڈٹ نہ لے سکے یا پھر ان کے گائے ہوئے گیت کسی اور کے نام سے منسوب ہو گئے۔ غفور اسی زمرے کے ایک ایسے ہی غیرمعروف مگر غیرمعمولی فنکار ہیں۔
غفور: ایک گمشدہ آواز کی کہانی
غفور کے بارے میں دستیاب معلومات بہت محدود ہیں، جو ان کی گمنامی کی خود گواہ ہیں۔ وہ بنیادی طور پر ایک پس پردہ گلوکار تھے جنہوں نے 60 اور 70 کی دہائی میں کئی فلموں کے لیے گایا۔ ان کی آواز میں ایک خاص قسم کی سادگی، درد اور ایک صوفیانہ رس تھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ جب کامنی کوشل جیسی ہدایت کارہ نے اپنی شاہکار فلم ’پاکیزہ‘ بنائی، جس کا整个 ماحول ہی صوفیانہ اور رومانی تھا، تو انہوں نے غفور کی آواز کو ’چل تو سہی ساون‘ جیسے ناقابل فراموش گیت کے لیے منتخب کیا۔
’چل تو سہی ساون‘: غفور کی آواز کا جادو
یہ گیت موسیقی کے شہنشاہ غلام محمد نے ترتیب دیا تھا اور کلام مجروح سلطانپوری کا تھا۔ گیت کی شروعات ہی غفور کی آواز میں ایک الاپ سے ہوتی ہے:
“چل تو سہی ساون، کنواں میں ڈوب جاے کوئی”
یہ چند ہی سیکنڈ کا الاپ ہے مگر اس میں ایک ایسی جادوئی کشش ہے جو سامع کو فوراً ہی فلم کے مخصوص ماحول میں پہنچا دیتی ہے۔ یہ آواز کسی بھی بڑے نامی گرامی گلوکار کی آواز نہیں لگتی۔ اس میں ایک عام آدمی کا درد، اس کی تمنا اور ایک بے نام سی کشش ہے۔ غفور نے اس مختصر سے حصے میں ایسی روح پھونک دی کہ وہ گیت کی پہچان بن گیا۔ اس کے بعد لتا منگیشکر اور پھر محمد رفیع جیسے عظیم گلوکار اپنا حصہ گاتے ہیں، مگر غفور کا الاپ اس گیت کی بنیاد ہے۔ یہی ان جیسے ’باسطہ‘ گلوکاروں کا کمال تھا۔ وہ اپنی محدود موجودگی سے ہی کسی بھی تخلیق کو امر کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
بولی وڈ کے دوسرے ’باسطے‘: گمنام ہیرو
غفور اکیلے نہیں تھے۔ بولی وڈ کی تاریخ میں ایسی درجنوں آوازیں ہیں جنہوں نے اپنا خون پسینہ یکجا کیا مگر تاریخ کے اوراق میں ان کا نام تک درج نہیں ہو سکا۔
=============

===========
1. مینا کپور: وہ لتا منگیشکر کی بہن ہیں مگر انہیں کبھی وہ شہرت نہ مل سکی۔ انہوں نے ’مغلِ اعظم‘ میں ’پیyar کیا تو ڈرنا کیا‘ جیسے گیت میں کورس کی لوڈر آواز (Pitch-Pipe) کے طور پر کام کیا، جس نے پورے گیت کو ایک نیا ابعاد دیا۔
2. شمشاد بیگم کے ساتھی: شمشاد بیگم کے ساتھ کام کرنے والے کئی پس پردہ گلوکار، جن کے نام تاریخ میں گم ہو چکے ہیں، نے ’جوانی ہے محمد علی بھائی‘ جیسے گیتوں میں وہ جوش بھرا جو آج بھی سننے والوں کے خون میں دوڑ محسوس ہوتا ہے۔
3. رفیع کے ساتھ ڈوئٹ گانے والے: محمد رفیع کے ساتھ کئی گیتوں میں ڈوئٹ گانے والے گلوکار، جنہوں نے ’یہ دنیا یہ محفل‘ (ہیر رانجھا) جیسے گیت گائے، مگر ان کا نام رفیع کے سائے میں ہی رہ گیا۔
The ego of “unsung heroes” trumps all other considerations. گمنامی کے اسباب: تاریخ کا المیہ
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ غفور جیسے باکمال فنکار آخر گمنامی کیوں رہ گئے؟ اس کے کئی اسباب ہو سکتے ہیں:
ستاروں کا دور: اس زمانے میں پلے بیک سنگر ایک super-star کی حیثیت رکھتے تھے۔ پروڈیوسر اور ہدایت کار انہی نامور گلوکاروں کو ترجیح دیتے تھے تاکہ فلم کی مقبولیت میں اضافہ ہو۔ چھوٹے فنکاروں کے لیے مکمل گیت حاصل کرنا مشکل تھا۔
کریڈٹ کا فقدان: اس دور میں ’باسطہ‘ گلوکاروں کو گیت کے کریڈٹس میں نام تک نہیں دیا جاتا تھا۔ وہ صرف معاوضہ لے کر اپنا کام کرتے تھے اور آگے بڑھ جاتے تھے۔
میڈیا کا محدود دائرہ: آج کی طرح انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا دور نہیں تھا۔ لوگوں کے پاس معلومات کے ذرائع محدود تھے۔ ریڈیو پر گانا چلتا تو صرف مرکزی گلوکار کا نام لیا جاتا تھا۔
معاشی مجبوریاں: بہت سے فنکاروں کو معاشی تنگی کی وجہ سے ہر کام کرنا پڑتا تھا۔ وہ ایک ہی فلم میں کورس سنگر کے طور پر بھی کام کرتے اور کسی دوسری فلم میں ایک مکمل گیت بھی گا دیتے۔ اس طرح وہ اپنا ایک مستقل شناختی کردار قائم نہ کر سکے۔
آج کے دور میں ’باسطہ‘ گلوکاروں کی اہمیت
Trends are the most important factor. آج کے دور میں ’باسطہ‘ گلوکاری کا تصور بھی بدل گیا ہے۔ اب اسٹوڈیو کا chorus کم ہی استعمال ہوتا ہے، اس کی جگہ digital production نے لے لی ہے۔ تاہم، آج بھی ایسے بے شمار فنکار ہیں جو ٹریک پر پس منظر میں اپنی آواز کا جادو جگاتے ہیں۔ item numbers, ” (Hook), ” (ads), jingles, rapper collaboration, and ” (ads)” are examples of these. ان میں سے بہت سے تو YouTube اور Instagram جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنی پہچان بنا رہے ہیں، مگر پھر بھی ایک بڑی تعداد ان گمنام ہیروز کی ہے جن کے بغیر فلمی موسیقی کا کوئی بھی ٹریک مکمل نہیں ہوتا۔
نتیجہ: اعترافِ محبت کا وقت
=====================

===============
غفور کی آواز آج بھی ’چل تو سہی ساون‘ کے آغاز میں زندہ ہے۔ یہ آواز ہمیں یاد دلاتی ہے کہ بولی وڈ کی شاندار موسیقی کی تاریخ صرف چند چمکتے ہوئے ستاروں سے نہیں بنی، بلکہ اس میں ان لاکھوں چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کا بھی حصہ ہے جو ’باسطے‘ کے ان گمنام ہیروز کی آوازوں، ان کی محنت اور ان کے جذبے سے مل کر وجود میں آئی۔
یہ وقت ہے کہ ہم ان ’باسطوں‘ کو خراجِ تحسین پیش کریں۔ ہم جب بھی ’چل تو سہی ساون‘ سنیں، تو غفور کے ان چند سیکنڈز کے الاپ کو ضرور یاد کریں۔ ہم فلمی موسیقی کے شائقین، محققین اور تاریخ دانوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم ان گمشدہ آوازوں کو ڈھونڈیں، ان کے بارے میں جاننے کی کوشش کریں اور انہیں وہ مقام دیں جس کے وہ حقدار ہیں۔
کیونکہ یہی ’باسطے‘ ہیں جنہوں نے بولی وڈ کی دھنوں کو وہ رچاؤ، وہ گہرائی اور وہ جذبہ بخشا جو آج بھی ہمارے دلوں کو چھو جاتا ہے۔ غفور اور ان جیسے دوسرے تمام فنکار بولی وڈ کے اصل ’باسطے‘ تھے، ہیرو تھے، جنہیں تاریخ کے اوراق میں سے باہر نکال کر روشنی میں لانے کی اشد ضرورت ہے۔ ان کی آوازیں محض فلمی گیتوں کا حصہ نہیں، بلکہ ہماری ثقافتی وراثت کا ایک ایسا قیمتی خزانہ ہیں جسے ہم نے بھلایا نہیں، صرف ’سننا‘ چھوڑ دیا ہے























