آرمی کا ڈنڈا نہ ہو تو کام نہیں؟

پاکستان کی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم اپنے علاج کیلئے پی آئی اے کے جہاز کو لندن لے گئے، ججز نے سفر کرنا ہو تو جہاز ملتا ہے نہ ٹکٹ، ہمیں بزریعہ سڑک ہی سفر کرنا پڑتا ہے.

سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ ارشد ملک ایئرفورس یا پی آئی اے میں سے ایک کا انتخاب کریں، پی آئی اے کو عارضی نہیں مستقل سربراہ کی ضرورت ہے۔

عدالت نے مزید کہا کہ پی آئی اے میں عارضی تعیناتی حکومت کی غیر سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے،پی آئی اے کو ایسا سربراہ چاہیے جو اسے عالمی معیار کی ایئرلائن بنائے،ارشد ملک کی خدمات ایئرفورس کبھی بھی واپس لے سکتی ہے،عوام کو مناسب کرائے میں بہترین سفری سہولت ملنی چاہیے. عدالت نے جہاز گمشدگی سے متعلق پی آئی اے کی رہورٹ مسترد کر دی.
چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نےپی آئی اے سربراہ تعیناتی کیس کی سماعت کی.

سی ای او ایئر مارشل ارشد محمودکی تعیناتی کو صفدر انجم نے سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے.

چیف جسٹس نے پوچھا گمشدہ جہاز کے حوالے سے پی آئی اے کی رپورٹ پڑھی ہے. نیب وکیل نے جواب دیا پی آئی اے بورڈ نے عدالت کو مکمل حقائق نہیں بتائے،تحقیقات جاری ہیں عدالت مزید وقت دے.

چیف جسٹس بولے نیب کو صرف وقت ہی چاہیے ہوتا ہے،نیب اپنی تحقیقات جاری رکھے.

جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا جہاز فروخت کرنے کا فیصلہ کب اور کہاں ہوا؟. چیف جسٹس نے کہافیصلہ یہ ہوا تھا کہ جہاز کمرشل مقاصد کیلئے استعمال نہیں ہوگا.

ایڈووکیٹ سلمان اکرم راجہ نے کہاجہاز مالٹا میں فلم کی شوٹنگ کیلئے استعمال ہوا،مالٹا سے شوٹنگ کے بعد جہاز جرمنی گیا.

وکیل پی آئی اے بورڈ نے مزید کہا شوٹنگ کی مد میں ادارے کو دو لاکھ دس ہزار یورو ملے. چیف جسٹس نے کہا پی آئی اے کے لوگوں کیساتھ کیا معلوم کونسی فلم شوٹ ہوئی ہوگی، فلم بنانے والی کمپنی اسرائیلی ہونا بہت سنجیدہ بات ہے،جہاز کی قیمت فروخت سے زیادہے تو لگتا ہے جرمنی پہنچانے کی ادائیگی کی گئی، جہاز جرمنی ایئرپورٹ پر پارک ہوا.

ایڈووکیٹ سلمان اکرم راجہ نے کہا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ جہاز اتنا عرصہ جرمنی میں کیوں کھڑا رہا، جہاز فروخت کا فیصلہ پی آئی اے بورڈ نے نہیں کیا.چیف جسٹس بولے نجی کمپنیاں اپنے ادارے کے حوالے سے ایک دن میں فیصلے کرتی ہیں،پی آئی اے نے اپنا ایک جہاز ہی بھگوا دیا،پی آئی اے نے مزید چار جہاز بھی گرائونڈ کیے ہیں،بقیہ تین جہاز کہاں فروخت ہوئے کچھ معلوم نہیں،کیا بقیہ تین جہاز کھول کر کباڑ خانے میں تو نہیں دے دیے.

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ کیا ایسے حالات میں موجودہ انتظامیہ کو کام کرنے دیں؟کھلی عدالت میں مزید کچھ نہیں کہنا چاہتا،پی آئی اے والے صرف کاغذی کارروائی کرکے آتے،ارشد محمود اپنی ائیرفورس کی سروسز سے دستبردار ہو کر پی آئی اے میں آجائیں.

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہافوج نے پاکستان اسٹیل ملز کو سنبھالا تو کچھ ڈیلور نہ کیا،اسٹیل ملز ہر ماہ منافع دئیے بغیر اربوں کا خسارہ کررہی ہے.

وکیل صفائی نے کہا ائیرفورس سے ریٹائرڈ آفسیر کو پی آئی اے میں چیف ایگزیکٹو لایا گیا تو یونین نے انہیں آفس میں بند کردیا. جسٹس سجاد علی شاہ بولے آپ کی دلیل مان لیں تو پھر ساری حکومت دفاتر بند کردے،آپ کی دلیل ہے آرمی کا ڈنڈا نہ ہو تو یونین والے پی آئی اے کو چلنے نہیں دیں گے، کیا حکومت اتنی ناکام ہوگئی ہے.

عدالت نے کہا سب کچھ ایڈہاک ازم پر چل رہا کچھ تبدیل نہیں ہوا،پی آئی اے کو پروفیشل انداز میں چلانا جانا چاہیے،پی آئی اے میں سہولیات کا غلط استعمال کیا جاتا ہے،پی آئی اے ملازمین جہاوں کو ذاتی استعمال میں لاتے ہیں،ارشد محمود ملک کی تقرری حکومت کی غیرسنجیدگی کو ظاہر کرتی ہے،ائیرچیف جب چاہے ارشد ملک کی خدمات واپس لے سکتے ہیں،پی آئی اے کو مستقل سربراہ کی ضرورت ہے،ایسا چیئرمین جو ادارے کو پیشہ ورانہ انداز میں چلا کر پی آئی اے کو منافع بخش بنائے،عوام کو بہترین سروس مناسب کرایوں پر ملنی چاہیے،ارشد محمود ملک ایک ساتھ دو عہدے نہیں رکھ سکتے.

عدالت نے کیس کی سماعت مارچ کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردی.
جہانزیب عباسی
Pakistan24.tv-report

اپنا تبصرہ بھیجیں