’اسقاط حمل‘ کو جائز قرار دلانے کیلئے خواتین پھر متحرک

جنوبی امریکی ملک ارجنٹینا میں ہزاروں خواتین ’اسقاط حمل‘ کو قانونی قرار دلانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئیں۔

ارجنٹینا میں گزشتہ تین سال سے ’فیمنسٹ‘ و خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی جانب سے ’ابارشن‘ کو قانونی قرار دلانے کے لیے مہم چلا رکھی ہے۔

اسقاط حمل کو قانونی قرار دلانے کی مہم 2018 میں اپنے عروج پر تھی اور اس وقت خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے ایک مجوزہ بل بھی حکومت کو پیش کیا تھا۔

حکومت کو فراہم کیے گئے مجوزہ بل میں 12 ہفتوں تک کے حمل کو ضائع کروانے کی قانونی اجازت کی تجویز دی گئی تھی تاہم مذکورہ بل کو ارجنٹینا کی پارلیمنٹ نے مسترد کردیا تھا۔

تحریر جاری ہے‎

جس وقت ارجنٹینا میں اسقاط حمل کو قانونی قرار دلانے کی مہم اپنے عروج پر تھی اس وقت ملک کے معروف سیاستدان اور اس وقت ملک کے صدر البرٹو فرنانڈز بھی اس مہم میں پیش پیش تھے۔

البرٹو فرنانڈز کو 2018 میں اسقاط حمل کو قانونی قرار دلانے کے متعدد مظاہروں میں شرکت کرتے ہوئے اور خواتین سے اسقاط حمل کو قانونی قرار دلانے کے لیے وعدے کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

تاہم بعد ازاں وہ دسمبر 2019 میں ہونے والے انتخابات میں ملک کے صدر بنے تو انہوں نے اسقاط حمل کو قانونی قرار دلانے کے معاملے کو پشت پر ڈال دیا جس کے بعد ایک بار پھر خواتین سڑکوں پر نکل آئیں۔

دسمبر 2019 میں ملک کے صدر بننے والے البرٹو ماضی میں خواتین کے مظاہروں میں شریک ہوتے رہے ہیں—فوٹو: اے ایف پی
فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق اسقاط حمل کو قانونی قرار دلانے کے لیے ہزاروں خواتین دارالحکومت بیونس آئرس میں جمع ہوئیں اور اس کو سب سے بڑا مظاہرہ بھی کہا جا رہا ہے۔

اسقاط حمل کو قانونی قرار دلانے کے لیے سڑکوں پر آنے والی خواتین نے سبز رنگ کے اسکارف اٹھا رکھے تھے جب کہ خواتین نے اسقاط حمل کی اجازت نہ دینے کے حوالے سے بھی پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔

مظاہرے میں شریک ہونے والی ایک سائکاٹرسٹ خاتون نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے پسند کے بغیر ہونے والے ’حمل کو ذہنی اذیت‘ سے تشبیح دی اور کہا کہ خواتین کو حمل ضائع کروانے کی اجازت ہونی چاہیے۔

مظاہرے میں شریک ہونے والی خواتین اپنے ساتھ کم عمر بچیوں کو بھی لائی تھیں، درجنوں خواتین کے پاس 5 سال یا اس سے کم عمر کی بچیاں بھی تھیں۔

اسی طرح کئی خواتین اپنی نوعمر اور بلوغت کو پہنچنے والی بچیوں کے ساتھ مظاہرے میں شریک ہوئیں اور ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی ان بچیوں کے لیے محفوظ مستقبل چاہتی ہیں، اس لیے ان کا مطالبہ ہے کہ اسقاط حمل کو قانونی قرار دیا جائے۔

عرب نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ نے اسی حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ دراصل ارجنٹینا میں کیتھولک مسیحی علما اسقاط حمل کو قانونی قرار دینے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ اس عمل کو قانونی قرار دیا جائے۔

رپورٹ میں بتایا کہ جہاں خواتین نے اسقاط حمل کو قانونی قرار دلانے کے لیے حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے 8 مارچ تک 80 سے زائد شہروں میں مظاہروں کا اعلان کر رکھا ہے۔

وہیں کیتھولک فرقے کے مذہبی پیشواؤں نے بھی اسقاط حمل پر پابندی کے حوالے سے عالمی یوم خواتین کے دن سمیت آئندہ ماہ تک اہم اجلاس طلب کر رکھے ہیں۔

مسیحی کیتھولک کے مذہبی پیشواؤں کا کہنا تھا کہ جس انسان کی کسی طرح بھی تخلیق ہوئی ہے، اسے دنیا میں آنے اور محفوظ زندگی گزارنے کا پورا حق ہے، ان سے زندگی کو جینے کا حق کوئی نہیں چھین سکتا۔

خیال رہے کہ ارجنٹینا کا شمار بھی دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں بہت زیادہ غیر قانونی اسقاط حمل ہوتے ہیں، ارجنٹینا سمیت جنوبی اور شمالی امریکا سمیت لاطینی امریکا کے ممالک میں غیر قانونی اسقاط حمل بہت زیادہ ہوتے ہیں۔

گزشتہ سال ارجنٹینا کی حکومت نے ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اندازہ ملک میں ہر سال ساڑھے تین لاکھ غیر قانونی اسقاط حمل ہوتے ہیں تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کا ماننا ہے کہ غیر قانونی اسقاط حمل کی تعداد 5 لاکھ تک ہے۔

ارجنٹینا کی طرح خطے کے دیگر ممالک میں بھی اسقاط حمل کو قانونی قرار دلانے کی مہم جاری ہے جب کہ امریکا کی کئی ریاستوں میں بھی اس عمل کو قانونی قرار دلانے کے لیے مہم جاری ہے۔
Dawnnews-report

اپنا تبصرہ بھیجیں