لاڈلی کی کہانی!

2017میں ’’بیگم جان‘‘ کے نام سے ایک بھارتی فلم ریلیز ہوئی جو اِن موضوعات کا احاطہ کرتی ہے کہ تقسیمِ ہند کے وقت وائسرائے ہند لارڈ مائونٹ بیٹن کے نمائندہ خصوصی ریڈ کلف نے کس طرح نقشہ سامنے رکھ کر دو لکیریں کھینچ کر پنجاب اور بنگال کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔

اس علاقے کے جغرافیہ اور مسائل سے ناواقف ہونے کی وجہ سے ریڈکلف نے بےرحمانہ اور غیرمنصفانہ تقسیم کا جو فارمولا اختیار کیا اس سے کروڑوں لوگ متاثر ہوئے مگر اس فلم کی کہانی ’’بیگم جان‘‘ نامی ایک نائیکہ کے گرد گھومتی ہے جس کی حویلی شکرگڑھ اور گورداسپور کی سرحد پر واقع ہونے کے باعث تقسیم کی زد میں آگئی۔

اس خاتون کی کہانی بھی بہت دلچسپ ہے مگر اس فلم کے دو مناظر نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ فلم کے آغاز میں چند آوارہ لڑکے بس میں سفر کر رہی لڑکی پر جھپٹ پڑتے ہیں، وہ اپنی عزت اور جان بچانے کے لئے بس سے نکل کر دوڑتی ہے تو ایک بزرگ خاتون اس کی ڈھال بن جاتی ہے۔

وہ غنڈے اس معمر خاتون کو بھی دھمکاتے ہیں مگر وہ ان کے دبائو میں آنے کے بجائے اپنے کپڑے اتار پھینکتی ہے۔ اپنی ماں نہیں بلکہ دادی، نانی کی عمر کی خاتون کو اس حالت میں دیکھنا بہت تکلیف دہ ہوتا ہے، اس لئے وہ بدچلن اور آوارہ لڑکے کراہت محسوس کرتے ہوئے وہاں سے رفو چکر ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح فلم کے آخر میں جب ’’بیگم جان‘‘ کی حویلی تباہ ہو جاتی ہے۔

شبنم، لاڈلی اور اس کی ماں وہاں سے نکل کر کسی محفوظ مقام کی طرف جانے کی کوشش کرتے ہیں تو ایک پولیس انسپکٹر ان کا راستہ روک لیتا ہے۔ اس ہتھیارے کے آگے بڑھتے ہی چھوٹی سی معصوم بچی لاڈلی اس کے قدم روکنے کیلئے اپنی قمیص اتار دیتی ہے۔

اپنی بیٹی جیسی عمر کی کم سن بچی کو اس حالت میں اس مقام پر دیکھنا بہت عجیب لگتا ہے اس لئے وہ پولیس انسپکٹر بھی ان کا راستہ چھوڑنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

یہ کہانی دراصل اس مفروضے کی بنیاد پر کھڑی کی گئی ہے کہ ہمارے معاشرے میں تمام تر اخلاقی انحطاط کے باوجود انسانیت کی اتنی رمق باقی ہے کہ بچوں اور بزرگوں کو برہنہ دیکھ کر وہ بھوت غائب ہو جاتا ہے جو دماغ پر سوار ہوتا ہے۔

اگرچہ یہ تخیل بہت کمال ہے مگر ملال یہ ہے کہ ہمارے عہد کے لکھاری خوش فہمیوں کے حصار میں جی رہے ہیں اور انہیں معلوم ہی نہیں کہ زمانہ قیامت کی چال چل چکا ہے اور اب اس قسم کے حربے موثر نہیں رہے۔

ہم تو اس معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں چار سال کی بچی سے 60سال کی خاتون تک کسی کی عزت محفوظ نہیں۔ قصور کی معصوم بچی زینب جیسی کتنی ہی بچیاں ہر روز درندوں کا نشانہ بنتی ہیں مگر کچھ عرصہ قبل راولپنڈی میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا معاشرہ گراوٹ کی آخری حدوں کو چھو رہا ہے۔

ایک 14سالہ بچی جو اپنے والد اور سوتیلی ماں کیساتھ رہ رہی تھی، اس کی والدہ بوجوہ گھر چھوڑ کر چلی گئی۔ اب جب اس کا باپ کام پر جاتا تو وہ گھر پر اکیلی ہوتی۔

محلہ داروں کو معلوم تھا کہ اس کا باپ کب جاتا اور کب آتا ہے۔ مچانوں پر گھات میں بیٹھے ایک شکاری نے موقع غنیمت جان کر جال پھینکا اور اس کے گھر جا کر دستِ شفقت رکھا۔

راہ و رسم بڑھانے کے بعد ایک روز اس بچی کے ساتھ جسمانی زیادتی کی اور یہ کہہ کر خاموش کروا دیا کہ اگر اپنے باپ کو بتایا تو اسے قتل کردیں گے۔ کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔

چند روز بعد وہ اپنے ایک اور دوست کو ساتھ لے آیا اور اسے بھی اپنے گھنائونے جرم میں شریک کر لیا۔ محلے کے ایک بڑےنے ان کی آنیاں جانیاں دیکھیں تو اسے محسوس ہوا کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے، ایک دن اس نے ان لڑکوں کا پیچھا کیا تو اسے معلوم ہو گیا کہ یہاں کیا ہو رہا ہےمگر اس نے رپورٹ کرنے کے بجائے اپنا حصہ وصول کرنے کا فیصلہ کیا اور اس بچی پر ڈھائے جا رہے ظلم میں مزید اضافہ ہو گیا۔

کم و بیش 6ماہ تک یہ سلسلہ چلتا رہا اور جب بچی کی طبیعت بگڑ جانے پر اس کے باپ کو حقیقت معلوم ہوئی تب اس نے متعلقہ تھانے میںFIR درج کروائی۔ یہ تینوں ملزم گرفتار ہو چکے ہیں جن میں وہ شیطان صفت محلے کا بڑا بھی شامل ہے۔

ہمارے معاشرے میں جبری زیادتیوں کا سلسلہ رپورٹ ہونے والے مقدمات سے کہیں زیادہ پھیلا ہوا ہے مگر ہمارے ہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا دلچسپ مشغلہ رضا مندی سے ایک ساتھ گھومنے والے ’’جوڑے‘‘ پکڑنے پر ہے اور معاشرے کی ترجیحات میں بھی یہی بالرضا کا جرم سرفہرست آتا ہے کیونکہ جب کسی جوڑے کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا جاتا ہے تو ان سے ’’تاوان‘‘ وصول کیا جا سکتا ہے۔

بعض معاملات میں تو اپنا حصہ وصول کرنے کا یہ سلسلہ مستقل بلیک میلنگ کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ چند روز قبل قومی اسمبلی میں ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ بچوں کیساتھ زیادتی کرنے والوں کو سرعام پھانسی دی جائے۔

اس مطالبے کی حمایت و مخالفت میں انواع و اقسام کے دلائل دیے جاتے رہے لیکن میرا خیال ہے کہ اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے معاشرے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ جب تک بالرضا کے بجائے جبری زیادتیوں پر فوکس نہیں کیا جاتا، پرنالہ وہیں کا وہیں رہے گا۔

کوئی ’’جوڑا‘‘ تو درکنار اگر کسی بدکردار خاتون کیساتھ بھی جبری زیادتی ہوتی ہے تو یہ اتنا ہی بڑا جرم ہے جتنا کسی عزت دار گھرانے کی بچی کے ساتھ جسمانی زیادتی کرنا۔ کسی کے بدچلن یا آوارہ ہونے، لبرل خیالات رکھنے یا پھر مغربی لباس زیب تن کرنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اس کیساتھ کبھی کوئی بھی چھیڑ چھاڑ کر سکتا ہے۔

سرعام پھانسی پر بحث بعد میں کر لیں گے پہلے آپ اس بات کو یقینی تو بنائیں کہ جبری زیادتی کے مرتکب ملزموں کو جرم ثابت ہونے پر 6ماہ میں سزائے موت ہو۔
m-bilal-ghouri-jang

اپنا تبصرہ بھیجیں