
سندھ ہائیکورٹ نے بیک وقت 2 سرکاری عہدے رکھنے سے متعلق چیئرمین میٹرک بورڈ غلام حسین سوہو کی تقرری کیخلاف درخواست پر وفاقی حکومت سے تفصیلی جواب طلب کرلیا۔ ہائیکورٹ میں بیک وقت 2 سرکاری عہدے رکھنے سے متعلق چیئرمین میٹرک بورڈ غلام حسین سوہو کی تقرری کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواستگزار کے وکیل بیرسٹر علی زیدی نے موقف دیا کہ غلام حسین سوہو فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن میں بطور گریڈ 19 کے افسر تعینات تھے۔ غلام حسین سوہو کو 3 سالہ مدت کے لئے چیئرمین میٹرک بورڈ تعینات کیا گیا. غلام حسین سوہو نے فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن میں ریٹائرمنٹ کی درخواست دیکر فوری طور پر چیئرمین کا عہدہ سنبھال لیا۔ غلام حسین سوہو نے نیا عہدہ سنبھالنے کے لئے ریٹائرمنٹ کی منظوری کا انتظار بھی نہیں کیا۔ اسٹبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے غلام حسین سوہو کو تاحال ریلیو آرڈر جاری نہیں کیا گیا ہے۔ چیئرمین میٹرک بورڈ نے 2 ماہ تک بیک وقت 2 اداروں سے تنخواہیں وصول کی ہیں۔ درخواستگزار نے معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت اسٹبلشمنٹ ڈویژن سے متعلقہ ریکارڈ کی تفصیلات مانگیں۔ چیئرمین میٹرک بورڈ کی تقرری کو خلاف ضابطہ قرار دی جائے۔ چیئرمین میٹرک بورڈ کی تقرری کے معاملے پر شفاف انکوائری کا حکم دیا جائے۔ چیئرمین میٹرک بورڈ تقرری کے نوٹیفکیشن کو درخواست پر فیصلہ ہونے تک معطل کیا جائے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ بتایا جائے غلام حسین سوہو کو وفاقی حکومت نے کب ریلیو کیا؟ یہ بھی بتایا جائے کہ غلام حسین سوہو کب تک تنخواہ اور دیگر مراعات حاصل کرتے رہے۔ عدالت نے وفاقی حکومت کو 2 تفصیلی جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی۔
سندھ ہائیکورٹ نے کالعدم تنظیم کی ویڈیو وائرل کرنے کے ملزم کی درخواست ضمانت منظور کرلی۔ ہائیکورٹ میں کالعدم تنظیم کی ویڈیو وائرل کرنے کے ملزم کی درخواست ضمانت کی سماعت ہوئی۔ سی ٹی ڈی افسر نے کہا کہ ملزم نے مزار قائد کے پس منظر میں کالعدم ٹی ٹی پی کے نام کے ساتھ انشاء اللہ لکھ کر ویڈیو بنائی۔ یہ ویڈیو وائرل کرکے افغانستان تک پہنچائی گئی۔ قائم مقام چیف جسٹس نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ کیا ٹرائل کورٹ میں یہ ویڈیو پیش کی گئی۔ تفتیشی افسر نے کہا کہ نہیں، عدالت میں یہ ویڈیو پیش نہیں کی ہے، اس واقعہ کے متعدد گواہ ہیں۔ پراسیکیوٹر نے موقف دیا کہ یہ سنگین جرم ہے، جس دہشتگردی کو فروغ ملتا ہے، اس لیئے ملزم ضمانت کا حقدار نہیں۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ عدالت میں ویڈیو پیش نہیں کی گئی، اس کے علاوہ کوئی الزام نہیں کہ شہری کو جیل میں رکھا جائے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اگر قابل ضمانت دفعات ہیں تو ضمانت دینا ہوگی یا آپ قانون سے ضمانت کی شق ختم کردیں۔ پراسیکیوٹر نے موقف دیا کہ سپریم کورٹ نے رحمت اللہ کیس میں ٹرائل شروع ہونے کے باعث ضمانت کی درخواست مسترد کردی تھی۔ عدالت نے ریمارکس دیئے ہم ضمانت منظور کرتے ہیں، آپ اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کردیں، شاید کوئی نئی تشریح سامنے آجائے۔ عدالت نے ملزم محمد عمر کی ضمانت منظور کرلی۔























