انور منصور نے حکومت کے مطالبہ پر استعفیٰ دیا

اٹارنی جنرل انور منصور خان کے مستعفی ہونے کے بعد حکومت کا ردعمل بھی سامنے آگیا ہے۔ وزیر قانون فروغ نسیم نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے اٹارنی جنرل انور منصور سے استعفیٰ مانگا تھا ، جس پر انہوں نے عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ فروغ نسیم نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ دل میں عدلیہ کی بہت عز ت و احترام ہے ۔
حکومت کی جانب سے اٹارنی جنرل کے ایک بیان پر جواب جمع کرایا گیا جس میں کہا گیا کہ انور منصور کا بیان حکومت کا موقف نہیں ہے۔ جبکہ دوسری جانب معاون خصوصی شہزاد اکبر نے کہا کہ انور منصور نے حکومت کے کہنے پر عہدہ چھوڑا۔ حکومت کی جانب سے ریفرنس سے متعلق دلائل جاری ہیں۔ واضح رہے کہ کچھ دیر قبل پاکستان کے اٹارنی جنرل انور منصور نے استعفیٰ دے دیا۔

انور منصور نے استعفیٰ صدر مملکت کو بھیج دیا جس کے بعد ان کا کہنا تھا کہ مجھ سے پاکستان بار کونسل نے استعفیٰ کا مطالبہ کیا تھا۔ پاکستان بار کونسل نے اٹارنی جنرل انور منصور اور وزیر قانون فروغ نسیم کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی تھی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کے دوران اٹارنی جنرل بیرسٹر انور منصور کے مبینہ متنازع بیان پر پاکستان بار کونسل نے اٹارنی جنرل انور منصور اور وزیر قانون فروغ نسیم کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی تھی۔
سپریم کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں اٹارنی جنرل کی طرف سے ججز پر لگائے گئے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اٹارنی جنرل کے الزام سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ ججز کی جاسوسی کا عمل اب بھی جاری ہے، اٹارنی جنرل نے جان بوجھ کرکھلی عدالت میں یہ بات کہی، اور اگر اس بیان میں صداقت ہوتی تو اٹارنی جنرل 133 دن تک خاموش نہ بیٹھتے، اٹارنی جنرل کا بیان سپریم کورٹ کو دبائو میں لانے، دھمکانے اوربلیک میل کرنے کی کوشش ہے

انور منصور نے کہا کہ پاکستان بار کونسل نے میرے استعفے کا مطالبہ کیا تھا، جس پر میں نے اپنا استعفیٰ صدر مملکت کو بھجوا دیا ہے، افسوس کہ جس بار کونسل کا میں چیئرمین ہوں اس نے مجھ سے استعفیٰ مانگا۔ اگر اپنی برادری کہے کہ استعفیٰ دیں تو پھر اسے ماننا پڑتا ہے، میں نے خود اپنا بیان جمع کرا دیا ہے اور معذرت بھی کر لی۔

اٹارنی جنرل کے استعفے میں لکھا گیا کہ میں پاکستان بار کونسل کے مطالبے پر خود کو عہدے سے الگ کر رہا ہوں، گزشتہ ڈیڑھ سال تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ذمہ داریوں کو نبھایا، کراچی بار، سندھ بار، سپریم کورٹ بار اور اے جی سندھ رہ چکا ہوں، ہائی کورٹ کا جج بھی رہ چکا ہوں، میں بار کے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہوں، اٹارنی جنرل کے عہدے سے فی الفور استعفیٰ دیتا ہوں، صدر پاکستان سے درخواست ہے استعفے کو منظور کریں۔

دوسری طرف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیس سے متعلق سپریم کورٹ میں حکومت نے جواب جمع کرا دیا ہے، وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم اور شہزاد اکبر نے کیس میں اٹارنی جنرل کے بیان سے اظہار لاتعلقی کیا، جواب میں کہا گیا ہے کہ انور منصور خان نے جو زبانی بیان دیا وہ حکومت کی مرضی کے خلاف تھا، وفاقی حکومت اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی عزت اور احترام کرتی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے فل بینچ نے اٹارنی جنرل کو سپریم کورٹ کے ججز پر لگائے گئے الزام کا تحریری ثبوت دینے یا معافی مانگنے کا حکم دیا تھا۔

وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا ہے کہ جو بات انور منصور نے کی، وہ اپنے طور پر کی، اس بات سے حکومت وقت کا کوئی تعلق نہیں، جس دن انہوں نے یہ بات کی ہم سب اچھنبے میں آ گئے تھے۔ کیس تو آنی جانی چیز ہے، اداروں کا احترام اصل چیز ہے

دنیا نیوز کے پروگرام ‘’ دنیا کامران خان کیساتھ’’ میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمارے علم میں بھی نہیں تھا کہ وہ ایسے دلائل دینگے۔ ناصرف عدلیہ کو بلکہ ہم سب کو اس بات سے دھچکا پہنچا۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انور منصور خان صاحب کو اٹارنی جنرل بنانے کا فیصلہ وزیراعظم کا تھا۔ اس سے پہلے بھی وہ تحریک انصاف کی جانب سے وکالت کر چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے عدلیہ سے بہترین تعلقات ہیں۔ عدالت ہمارے سر کا تاج ہے۔ اس حکوت کا عدلیہ سے کوئی تنازع نہیں ہے۔ بعض بار ہم سے خوش ہیں اور بعض نہیں، تاہم ہمارا کسی بار ایسوسی ایشن سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ہمارے لیے تمام جج قیمتی اور باوقار ہیں۔ اس معاملے پر کوئی بھی خوش نہیں ہے۔

فروغ نسیم نے کہا کہ پچھلے 70 سال سے سروسز چیف کا قانون نہیں بنا تھا۔ یہ صرف ایک پی ٹی آئی کی حکومت کا یا ایک انور منصور کا مسئلہ نہیں تھا۔ سپریم کورٹ نے یہی کہا کہ 70 سال اس پر قانون نہیں بنا۔

ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر قانون نے کہا کہ یہ ایک آرڈیننس ہے جس میں کسی کیلئے کوئی نرمی نہیں ہے۔ اس میں کسی قسم کا کوئی این آر او نہیں، ایسے قانونی کیسوں کو اٹارنی جنرل خود پیش کرتے ہیں۔ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ حکومت ان سے ایسی بات کرنے کا کہے۔

وزیر قانون کا کہنا تھا کہ نیب ایک خود مختار ادارہ ہے۔ ہمارا کام صحیح قانون بنانا ہے۔ نیب قانون کی اصل گائیڈ لائن ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ سے آئیگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں