انگریزی ایک بین الاقوامی زبان ایک بار پھر پوچھ لیتے ہیں (پروفیسر محمد سلیم ہاشمی)

انگریزی ایک بین الاقوامی زبان
ایک بار پھر پوچھ لیتے ہیں
(پروفیسر محمد سلیم ہاشمی)

کیا روس، جرمنی، فرانس، اٹلی، سپین، پرتگال، سویڈن، فن لینڈ، ڈنمارک، ناروے، بیلجئم، سوئٹزرلینڈ، بلغاریہ، چیک، سلاوک، ہولینڈ، ہنگری، جاپان، چین، ترکی، ایران، برما، تھائی لینڈ، تائیوان، کوریا، ویت نام، اور اسی طرح دنیا کے دیگر 170 ملکوں کے
صدور اور وزرائے اعظم اپنے ملکوں سمیت ہر جگہ انگریزی میں خطاب کرتے ہیں؟
کیا ان ملکوں میں ذریعہ تعلیم انگریزی ہے؟
کیا ان ملکوں میں انگریزی کو ایک لازمی مضمون کے طور پر پڑھایا جاتا ہے، کہ اس مضمون میں فیل تو پورے امتحان میں فیل؟
کیا ان ملکوں کی عدالتوں میں انگریزی میں مقدمات دائر ہوتے ہیں اور پھر ان کے فیصلے انگریزی میں لکھے جاتے ہیں؟
کیا ان ملکوں میں ملازمتوں کے لئے درخواستیں، ان کے لئے امتحانات اور گفت و شنید انگریزی میں ہوتی ہے؟
کیا ان ملکوں میں ان ملکوں کے باسیوں کو سائنس اور ٹیکنالوجی، طب و انجینئرنگ سمیت تمام اعلیٰ تعلیم انگریزی میں دی جاتی ہے؟
کیا یہاں کے سائنس دان اپنے سائنسی مقالات انگریزی میں تحریر کرتے ہیں؟
کیا یہاں کی حکومتیں اپنے دفتری اور انتظامی امور انگریزی میں طے کرتی ہیں؟ اور
اپنے بین الاقوامی معاہدات انگریزی میں تحریر کرتی ہیں؟ جیسے کہ روس اور فرانس میں اگر کوئی معاہدہ ہو تو کیا اسے انگریزی میں رقم کیا جاتا ہے؟
کیا اقوام متحدہ میں صرف ایک ہی سرکاری زبان ہے جو انگریزی ہے؟
میرے پیارے پیارے عقل کے اندھے گانٹھ کے پورے پاکستانی انگریزی کے کنویں کے مینڈک مجھے ان سوالات کا جواب دے کر مجھ پر انگریزی کی بین الاقوامیت ثابت فرمائیں۔
جن کا خیال ہے کہ ہم صرف انگریزی میں یہ سب کر کے دنیا میں کسی باعزت مقام تک پہنچ سکتے ہیں وہ ذہنی امراض کے کسی نزدیکی شفا خانے سے رجوع فرمائیں۔
پروفیسر محمد سلیم ہاشمی
اشتراک
فا طمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

اپنا تبصرہ بھیجیں