
والدین اکثر پولیو وائرس کے خلاف حفاظتی قطرے پلاتے وقت یہ سوال کرتے ہیں کہ بار بار یہ ویکسین بچے کو دینے سے ان کی صحت پر کوئی اثر تو نہیں آئے گا؟
بچے کو بار بار پولیو کے قطرے پلانے سے کوئی نقصان نہیں ہوتا، ماہرین
کراچی: پاکستان میں پولیو کے خلاف جاری مہم کے دوران اکثر والدین یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا بچے کو بار بار پولیو ویکسین پلانے سے اس کی صحت پر کوئی منفی اثر پڑ سکتا ہے یا زیادہ مقدار پولیو کا سبب بن سکتا ہے۔
ڈاکٹر علی فیصل سلیم نے اس خدشے کی واضح طور پر نفی کرتے ہوئے کہا ہے کہ بار بار پولیو ویکسین دینے سے بچے کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔
انہوں نے بتایا کہ ویکسین کی متعدد خوراکیں دراصل بچوں میں بیماری کے خلاف مضبوط ترین مدافعت پیدا کرنے کے لیے ضروری ہیں، خاص طور پر ایسے ماحول میں جہاں وائرس کا خطرہ موجود ہو۔
ڈاکٹر علی فیصل نے زور دیا کہ پاکستان میں روٹین ایمونائزیشن کا احاطہ محدود ہونے کی وجہ سے اضافی مہموں کے ذریعے ویکسین پلانا نہایت اہم ہے، تاکہ ہر بچے کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ البتہ، جن بچوں میں قوت مدافعت کی بیماری (پرائمری امیون ڈیفیشینسی) ہو، انہیں ویکسین دینے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں پھیلے ہوئے امیونو ڈیفیشینسی نیٹ ورک کی بدولت ایسے بچوں کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق پولیو سے مکمل نجات حاصل کرنے تک ہر بچے کو ویکسین پلانا انتہائی ضروری ہے۔























