ایشیاء کپ کرکٹ ٹورنامنٹ 2025
بنگلہ دیش سے شکست اورافغانیوں کا رونا
(تحریر: نوید انجم فاروقی)
افغان بے چارے میدان میں ایک سو دس فیصد کارکردگی دکھاتے ہیں۔ ہر کھلاڑی میں جوش و جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہواہے۔ باؤلنگ ہو، بیٹنگ ہو یا فیلڈنگ وہ دل وجان سے زور لگاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ہار اُن کیلئے ناقابل قبول ہے اِس لئے تمام کوششوں کے بعد جب ناکام ہوتے ہیں تو باقاعدہ روتے ہوئے نظر آتے ہیں بس یہاں آ کر جہاں مردانگی دکھانے کی ضرورت ہوتی ہے اور کھیل کو کھیل سمجھتے ہوئے ہار کو برداشت کرنے کی بات آتی ہے تو وہ اپنا صبر کھو بیٹھتے ہیں اور دُنیا کیلئے تماشا بن جاتے ہیں۔ بے شک اُنھوں نے بہت جلد اپنی پرفارمنس بہتر بنائی ہے اور بڑی ٹیموں کیلئے خطرہ بن چکے ہیں بس اَب اُن کو اِس بات میں بھی بہتری لانی ہے کہ برداشت کرنا سیکھیں، بہادر وہی ہوتا ہے جو اپنے نفس پر قابو پانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایک اور بات اُن کے لئے خطرناک ہے کہ وہ اپنے محسن ملک پاکستان کو اپنا سب سے بڑا حریف سمجھنا شروع ہو گئے ہیں حالانکہ افغان روس جنگ میں پاکستان نے اِن کو نہ صرف پناہ دی بلکہ اپنے شہروں میں کاروبار کرنے اور رہائش اختیار کرنے اور جائیدادیں خریدنے کی بھی سہولت فراہم کی۔ اَن کو کرکٹ سکھائی، کھیلنے کے مواقع فراہم کئے ہر قسم کی مدد کی لیکن یہ لوگ کسی طرح دل سے ہمارے نہیں ہو سکے۔عجیب بات ہے کہ یہ ہمارے دشمن بھارت کو اپنا دوست سمجھتے ہیں اور ہمارے لئے دشمنی کے جذبات رکھتے ہیں۔ اِس لئے جب ہم سے ہارتے ہیں تو اِن کو برداشت نہیں ہوتا کئی مرتبہ یہ جیتا ہوا میچ ہمارے آخری کھلاڑیوں سے ہار گئے تب یہ روتے ہوئے نظر آئے اور جب یہ کبھی پاکستان سے جیت جاتے ہیں تو ایسے ظاہر کرتے ہیں جیسے اِنھوں نے کوہ ہمالیہ سر کر لیا ہے اور غیر مہذب طریقہ کار کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ خود کو بھارت کے بعد ایشیا کی نمبر دو ٹیم سمجھنے والے کل جب ایشیاء کپ میں بنگلہ دیش(سابق مشرقی پاکستان) سے میچ ہار گئے تب بھی اِن کی آنکھوں میں آنسو تھے اور ہاتھ سر پررکھ کر سوگ منا رہے تھے۔ دیکھا جائے تو ٹورنامنٹ میں ابھی اِنھوں نے سری لنکا سے میچ کھیلنا ہے اُس سے جیت کر یہ سپر فور میں پہنچ سکتے ہیں لیکن ایسے نیر بہا رہے تھے جیسے ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئے ہیں، اتنا غم تو اِنھوں نے افغانستان میں زلزلہ آنے پر نہیں منایا جتنا بنگلہ دیش سے ہار کر منایا ہے۔ بہرحال افغانستان ایک اچھی ٹیم ہے اور دن بدن اپنی کارکردگی کو بہتر سے بہتر بنا رہی ہے۔ بہت جلد وہ دُنیا کی اچھی ٹیموں میں بھی شمار ہو جائے گی لیکن اُس کیلئے اِن کو میدان میں اور میدان سے باہر اپنے روئیوں کودرست کرنا پڑے گا، یہی اُن کی مستقبل کی کرکٹ کیلئے اچھا ہے۔
Load/Hide Comments























