پرنٹ میڈیا کی ڈوبتی کشتی

گزشتہ دہائی سے پوری دنیا میں میڈیا کی آزادی کا معیار مسلسل گر رہا ہے حتیٰ کہ دنیا کی مقبول ترین جمہوریتوں کے مقبول ترین عوامی لیڈر بھی آزاد میڈیا کو دبانے کی کوششوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں آج پوری دنیا میں میڈیا کی آزادی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

تاریخ یہ کہتی ہے کہ میڈیا کو جتنا دبانے کی کوشش کی جاتی ہے وہ اتنا ہی اُبھر کر سامنے آتا ہے اور حکمرانوں کی یہ خواہش کہ وہ آزاد میڈیا کو کنٹرول کرکے اپنی خواہشات کے مطابق حکومت کر پائیں گے، ہمیشہ دلوں میں ہی رہ جاتی ہے۔

آج دنیا بھر کی جمہوریتوں میں یہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے رہنما اقتدار سے باہر تو میڈیا کی آزادی کا نعرہ بلند کرتے ہیں لیکن جیسے ہی وہ میڈیا کے سہارے برسراقتدار آتے ہیں تو تنقید کرنے والی آوازوں کو دبانے کی کوششوں میں مصروف ہو جاتے ہیں اور ایسے میڈیا کو آگے بڑھانے کا موقع دیتے ہیں جو ان کی خوشامدانہ تشہیر کرے۔ یہ رجحان آج دنیا بھر میں بڑی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، کیا امریکہ، کیا یورپ، کیا مشرقِ وسطیٰ اور ایشیائی ممالک کے حکمرانوں کی یہی کوشش ہے کہ وہ اپنے مخصوص ایجنڈے اور سوچ کو آگے بڑھائیں اور ایسی ہر آواز کا گلا گھونٹ دیں جو ان کی راہ میں حائل ہو۔

امریکی صدر ٹرمپ ہوں یا اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو، مودی سرکار کا آر ایس ایس انتہا پسندانہ ایجنڈا ہو یا روسی صدر پیوٹن کی سوچ، آج کی جمہوریتیں آمریت کی تصویریں اور آزادیٔ اظہار کے فقدان خصوصاً آزاد میڈیا سے خوف کا شکار نظر آتی ہیں جس کے واضح اثرات پاکستان جیسی انتہائی کمزور جمہوریت پر بھی بُری طرح پڑ رہے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ جہاں آپ ایک طرف دنیا بھر میں پاکستان کا خوبصورت چہرہ دکھانا چاہتے ہیں، بین الاقوامی سیاحت اور کاروبار کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔

اربوں روپے کا بجٹ راہداریاں کھولنے پر خرچ کر رہے ہیں تو اس امر کا بھی خاص خیال رکھنا ہوگا کہ جب دنیا بھر کے سیاح، کاروباری شخصیات ایک خوبصورت تاثر کے ساتھ پاکستان آئیں گے اور یہاں اظہارِ رائے پر نت نئی پابندیاں، ظلم و جبر کی پالیسیاں دیکھیں گے تو کیا تاثر لے کر واپس جائیں گے۔

اس ساری تمہید کا واحد مقصد میڈیا خصوصاً پرنٹ میڈیا کی ڈوبتی کشتی کو بچانا ہے کہ کون اسے سہارا دے اور یہ سب کیسے ممکن ہو؟ میڈیا بحران کے اسباب کی وجوہات کیا ہیں؟

حکمران میڈیا سے اس حد تک کیوں نالاں ہیں؟ افسوس ناک امر یہ بھی ہے کہ بڑے خان صاحب کے اردگرد کچھ ایسے لوگوں نے سایہ کر دیا ہے کہ انہیں میڈیا انڈسٹری کی تباہی نظر نہیں آرہی۔

سوال تلخ ضرور ہے مگر ان کا حل و جوابات اتنے مشکل یا تلخ نہیں کہ ہمارے وزیراعظم ان پر غور نہ کرسکیں اور ان کا حل بھی نہ نکال پائیں۔ جب سے تحریک انصاف کی سرکار نے اقتدار سنبھالا ہے بیوروکریسی کی طرح میڈیا کے بارے میں بھی یہ یک طرفہ تاثر قائم کر لیا گیا ہے کہ یہ سابق حکمرانوں کا ہم نوا اور پروردہ ہے۔

یہی وہ تاثر ہے جو دِلوں کو صاف نہیں ہونے دیتا اور حاکمِ وقت اس تاثر سے باہر نکلنے کو تیار نہیں۔ اسی خوف کی بنیاد پر میڈیا کو کنٹرول کرنے کے نت نئے طریقے، پالیسیاں ایجاد کرکے قوم کا پیسہ اور وقت ضائع کیا جارہا ہے۔

یاد رکھئے ایسی پالیسیاں ماضی کی طرح اب اور آئندہ بھی کبھی کامیاب نہیں ہوسکیں گی۔ اس وقت حکومت کو تین طرفہ میڈیا کا سامنا ہے۔ سب سے پہلے پرنٹ میڈیا جو حقیقی معنوں میں میڈیا کی ماں ہے اور اسی کے بطن سے الیکٹرونک میڈیا نے جنم لیا جبکہ سوشل میڈیا وہ بچہ ہے جس کی ذمے داری کوئی نہیں لے رہا اور یہ بچہ گلی گلی ٹھوکریں کھا رہا ہے اور جگہ جگہ گند پھیلا رہا ہے۔

موجودہ حکمرانوں نے پہلے اسی بچے کو گود لیا، پالا پوسا اور آج یہی بچہ ان کے اپنے گلے پڑ گیا ہے اور اب اس بچے کی تربیت کے بجائے اس کا گلا ہی گھونٹا جارہا ہے۔

پرنٹ میڈیا تحریک پاکستان سے لے کر اب تک ہمیشہ اپنا مثبت اور مسلمہ کردار انتہائی ذمے داری سے نبھارہا ہے اور یہی حقیقی پلیٹ فارم ہے جو ریاست، مقننہ اور عدلیہ کے درمیان اصلاح احوال کا بہترین کردار ادا کررہا ہے اور آئندہ بھی اس کے مثبت اور تعمیری کردار سے انکار ممکن نہیں مگر بدقسمتی یہ ٹھہری کہ موجودہ دور میں سب سے زیادہ معاشی قتلِ عام بھی اسی کا کیا جارہا ہے۔

الیکٹرونک اور سوشل میڈیا کی غیرذمہ داری کی سزا بھی پرنٹ میڈیا ہی بھگت رہا ہے۔ حکومتی پالیسی سازوں کو اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھنا ہوگا کہ پرنٹ میڈیا کی اپنی ایک الگ شان اور مسلمہ شناخت ہے اور اس کا کردار سوشل و الیکٹرونک میڈیا سے کہیں زیادہ مستند تصور کیا جاتا ہے۔

حالات کا تقاضا ہے کہ پرنٹ میڈیا کو بچانے کی خاطر اسے سہارا دیا جائے، آسانیاں پیدا کی جائیں اور سہولتیں دی جائیں۔ اگر پرنٹ میڈیا مر گیا تو سمجھئے پاکستان کی سوچ اور قومی زبان اُردو مر گئی۔

بہتر رائے یہی ہے کہ پرنٹ میڈیا پالیسی، حکومتی ایڈورٹائزنگ بجٹ کو سوشل و الیکٹرونک میڈیا سے منسلک نہ کیا جائے بلکہ وفاقی و صوبائی سطح پر پریس انفارمیشن ڈپیارٹمنٹ کے تین الگ شعبے قائم کئے جائیں اور ان کے سربراہ (پرنسپل انفارمیشن آفیسرز) بھی الگ ہوں۔ پرنٹ میڈیا کا بجٹ ہر صورت سوشل و الیکٹرونک میڈیا کے مجموعی بجٹ کے برابر ہو۔ (جاری)

Irfan-Ather-Qazi-Jang

اپنا تبصرہ بھیجیں