نوشہروفیروز میں قتل ہونے والے صحافی عزیز میمن نے قتل کے بارے میں پولیس رپورٹ میں حساس معلومات بھی ملی ہے جس کو چھپایا گیا : گورنر سندھ عمران اسماعیل

کراچی : گورنر سندھ عمران اسماعیل نے انکشاف کیا ہے کہ نوشہروفیروز میں قتل ہونے والے صحافی عزیز میمن نے قتل کے بارے میں پولیس رپورٹ میں حساس معلومات بھی ملی ہے جس کو چھپایا گیا ہے، میری اس حوالے سے آئی جی سندھ سے تفصیلی بات ہوئی ہے ہم حساس معلومات کو بھی منظر عام پر لائیں گے اور صحافی کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔ان خیالات اظہار انہوں نے کراچی یونین آف جرنسلٹس کی جانب سے مقامی ہوٹل میں منعقدہ سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔پاکستان میں صحافیوں کو درپیش مشکلات پر منعقدہ سیمنار سے انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنسلٹس کے ڈپٹی ضنرل سیکرٹری جیرمی ڈیئر، پی ایف یو جے کے صدر جی ایم جمالی، معروف قانون دان شعیب احمد، سماجی رہنما کرامت علی، کے یو جے کے صدر حسن عباس، جنرل سیکرٹری عاجز جمالی، لبنی جرار، شہربانو، بچل لغاری، اور دیگر نے خطاب کیا۔سیمنار کے دو الگ الگ نشستوں میں صحافیوں کو درپیش مسائل پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا کہ وہ جلد اسلام آباد جا کر وزیر اعظم عمران خان اور وفاقی وزارت اطلاعات کو تفصیلی بریفنگ دیں گے، ہماری حکومت میڈیا، اور سوشل میڈیا کے ہر گز خلاف نہیں ہے لیکن ہمارے ہاں صرف من٘ی خبر کو اہمیت ملتی ہے دنیا میں ایسے نہیں ہوتا۔

گورنر سندھ نے کہا کہ ٹماٹر کا کلوگرام اگر چار سو روپے بکتا ہے تو بھی عمران خان کی حکومت کو ناکام کہا جاتا ہے اور آج ٹماٹر پانچ روپے کلوگرام بکتا ہے تو بھی عمران خان کی حکومت کو ناکام کہا جاتا ہے۔گورنر سندھ نے میڈیا مالکان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مالکان بزنس بڑھانے کے لئے منفی خبروں کو اہمیت دیتے ہیں۔ ہم صحافیوں کے ساتھ کھڑے ہیں ہماری حکومت ہیلتھ انشورنس اور سستی ہائوسنگ اسکیموں میں صحافیوں کو بھی شامل کر رہی ہے۔اس سے قبل آئی ایف جے کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری مسٹر جیرمی ڈیئر نے کہا کہ پاکستان میں صحافی لاتعداد مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں یہاں پر نا زندگی کا تحفظ ہے نا روزگار کا تحفظ، ہر طرح کے خطرات منڈلا ہے ہیں، ایک صحافی تنخواہ نہ ملنے سے ذہنی اذیت کی وجہ سے فوت ہوتا ہے تو وہ بھی قتل ہے، انہوں نے کہا کہ گذشتہ برس دنیا میں 49 صحافیوں کو قتل کیا گیا ہے، کشمیر میں انٹر نیٹ بند ہے، سوشل میڈیا کے لئے خطرات پیدا ہوگئے ہیں، جبکہ اطلاعات تک رسائی ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔قانون دان شعیط احمد کان کہنا تھا کہ قانون میں صحافیوں جو حقوق میسر ہیں وہ بھی نہیں مل رہے، ایک تو حکومت قانون پر عمل نہیں کرتی دوسرا ہمارے صحافی بھی اپنے قانونی حقوق سے واقف نہیں ہیں واقف ہیں تو عدالت میں نہیں جاتے۔کرامت علی نے کہا کہ اس ملک میں معاشی قتل عام ہو رہا ہے صحافی اور میڈیا ورکرز انتہائی مشکل صورتحال سے دوچار ہے جس کے خلاف عالمی سطح پر آواز بلند کی جائے۔ جی ایم جمالی نے کہا کہ پوری عالمی برادری سے وابسطہ صحافی آئی ایف جے کے پلیٹ فارم پر ہمارے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس وقت عمران خان کی حکومت کے خلاف بھی سازش ہو رہی ہے حکومت بھی بدنام ہو رہی ہے کیونکہ ہزاروں صحافیوں کو ایک سال میں بیروزگار کیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں