“ایشیا کپ میں کشیدگی: بھارتی رویے پر پی سی بی کا سخت مؤقف، ٹیم کی کارکردگی بھی زیرِ تنقید”

پاکستانی کرکٹرز اور بھارتی ٹیم کے درمیان ایشیا کپ میں میچ کے بعد کشیدگی عروج پر پہنچ گئی۔ پاکستانی کھلاڑیوں نے شکایت کی کہ بھارتی کھلاڑی مصافحے سے گریز کر رہے تھے، جس پر ٹیم مینجمنٹ نے معاملہ سنبھالنے کی کوشش کی لیکن کھلاڑی اس رویے سے ناراض دکھائی دیے۔ بعد ازاں جب پاکستانی آفیشلز بھارتی ڈریسنگ روم گئے تو وہاں بھی غیر دوستانہ رویہ اختیار کیا گیا۔

تقریب تقسیمِ انعامات میں پاکستانی کپتان احتجاجاً شریک نہ ہوئے اور صرف شاہین شاہ آفریدی کو انفرادی ایوارڈ وصول کرنے کے لیے بھیجا گیا۔ اس واقعے کے بعد کھلاڑیوں نے فیصلہ کیا کہ آئندہ وہ کسی بھارتی پریزنٹر سے انٹرویو نہیں کریں گے اور نہ ہی ایوارڈ وصول کرنے جائیں گے۔

چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے معاملے پر نوٹس لیتے ہوئے آئی سی سی سے میچ ریفری اینڈی پائی کرافٹ کو ہٹانے کا مطالبہ کیا اور سستی دکھانے پر عثمان واہلہ کو معطل کر دیا۔ پی سی بی نے سخت مؤقف اپنایا ہے کہ اگر ریفری کے خلاف کارروائی نہ ہوئی تو پاکستان ایشیا کپ کے باقی میچز سے دستبردار ہو جائے گا۔

پاکستانی ٹیم اور شائقین کا موقف ہے کہ بھارت کھیل کے بجائے سیاست کو کرکٹ میں شامل کر رہا ہے۔ بھارتی رویے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ کھیل اقوام کو قریب لانے کا ذریعہ ہیں لیکن موجودہ بھارتی حکومت اسے نفرت پھیلانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو بھارت کے رویے کے ساتھ ساتھ اپنی ٹیم کی ناقص کارکردگی پر بھی غور کرنا چاہیے۔ بڑے اسکور کرنے میں ناکامی، اوپنرز کی پرفارمنس اور پی ایس ایل کے ٹیلنٹ کا انٹرنیشنل سطح پر نہ چلنا بنیادی مسائل ہیں۔ اگر کارکردگی بہتر نہ ہوئی تو پاکستان بڑی ٹیموں کے ساتھ مقابلہ کرنے کی بجائے صرف کمزور حریفوں کو ہی ہرانے تک محدود رہ جائے گا۔