اٹارنی جنرل تحریری شواہد دیں یا معافی مانگیں: سپریم کورٹ

پاکستان کی سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کی سماعت کرنے والے بینچ کے بارے میں اٹارنی جنرل کے بیان پر ان سے تحریری شواہد مانگ لیے ہیں۔
عدالت نے حکم دیا ہے کہ شواہد پیش نہ کرنے کی صورت میں اٹارنی جنرل کو عدالت سے تحریری معافی مانگنا ہوگی۔
اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ وہ اس حوالے سے تحریری طور پر کچھ بھی نہیں دے سکتے۔
سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور دیگر کی درخواستوں پر سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں فل کورٹ بینچ نے کی۔
سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے ججوں کا ضابطہ اخلاق کے حوالے سے دنیا کی مختلف عدالتوں کے حوالہ جات پیش کیے۔
جج صاحبان کا اصرار تھا کہ ضابطہ اخلاق کے بارے میں حوالہ جات دینے کے بجائے اٹارنی جنرل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیس کے بارے میں بتائیں۔
ایک موقع پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ’اٹارنی جنرل صاحب آپ نے ہمیں ابھی تک حقائق نہیں بتائے۔ آپ ہمیں ثابت کریں کہ ایک شخص کو اس کے بیوی بچوں کی بیرون ملک جائیداد کے لیے قابل احتساب ٹھہرایا جا سکتا ہے تو ہم آگے بڑھیں گے۔‘
انہوں نے ریمارکس دیے کہ ’یہ ایف آئی آر ہے یا آرٹیکل 209 کے تحت ایک جج کے خلاف ریفرنس ہے صدارتی ریفرنس میں ٹھوس مواد ہوتا ہے۔ جج کی اہلیہ اور بچوں سے جواب مانگے بغیر ہی ریفرنس دائر کر دیا۔ اثاثہ جات ظاہر نہ کرنے کا کیس ہے جسے آپ نے عدالتی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی بنا دیا ہے۔‘
اٹارنی جنرل بولے کہ ’ہمارا مدعا ہے کہ بیرون ملک جائیدادیں خریدنے کے لیے پیسہ منی لانڈرنگ کے ذریعے باہر گیا۔ اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ یہ آپ ایف بی آر اور ٹیکس والوں سے پوچھیں کہ ان کا اس حوالے سے کیا کام تھا۔ ایسٹ ریکوری یونٹ کا کام تھا کہ آپ کو قانون بتاتا۔ آپ تیاری کے بغیر عدالت آگئے ہیں۔ آپ ہمارا وقت خوبصورتی کےساتھ ضائع کر رہے ہیں۔‘

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کل آپ نے اتنی بڑی بات کردی ہے۔ آپ اس پر ہمیں تحریری طور پر شواہد پیش کریں۔ یہی ہمارا آج کا حکم نامہ ہے۔ اس کے بعد جسٹس عمر عطا بندیال نے حکم نامہ تحریر کروایا۔
تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ’اٹارنی جنرل کو کیس سے متعلق بنیادی حقائق بتانے کے لیے وقت دے رہے ہیں۔ اٹارنی جنرل نے بینچ کے حوالے سے گذشتہ روز کا کچھ بیان دیا۔
اٹارنی جنرل اپنے بیان کے حوالے سے مواد عدالت میں پیش کریں۔ اگر اٹارنی جنرل کو مواد میسر نہیں آتا تو تحریری معافی مانگیں۔ امید کرتے ہیں مطلوبہ دستاویزات پیش کی جائیں گی۔
اٹارنی جنرل منگل کو سماعت کے دوران بینچ سے متعلق ایک نکتہ اٹھایا تھا جس پر جج صاحبان نے غصے کا اظہار کیا اور ایک مکالمے کے نتیجے میں اٹارنی جنرل نے وہ نکتہ واپس لے لیا تھا۔ جس پر عدالت نے اس واقعہ کو رپورٹ کرنے سے منع کر دیا تھا۔
اس سے قبل جب سماعت کا آغاز ہوا تو گذشتہ روز کی نسبت عدالت کا ماحول مختلف تھا۔ بینچ میں موجود دس میں سات ججز نے بار بار اٹارنی جنرل سے سوالات کیے۔
اٹارنی جنرل کی طرف سے گذشتہ روز کے دلائل کا مختصر خلاصہ پیش کیا گیا تو جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ’ہمیں بتائیں کیس ہے کیا؟ کل آپ ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے۔ ہم صرف کیس پر فوکس کریں گے۔ معاملہ تو انکم ٹیکس آرڈیننس 116 کے بارے میں ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ معاملہ یہ نہیں ہے۔ جج نے اپنے اثاثوں کو ظاہر نہیں کیا۔ سپریم جوڈیشل کونسل کی ذمہ داری ہے کہ جج کے کنڈکٹ کا جائزہ لے۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہ لفظ کنڈکٹ اور مس کنڈکٹ کے معنی اور تعریف بیان کرنا چاہتے ہیں۔ جسٹس عمر عطا بندیال بولے کس لفظ کی کیا تعریف ہے یہ مقدمہ نہیں ہے۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو برطانیہ کی جائیدادیں گوشواروں میں ظاہر کرنا چاہیے تھیں۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ یہ دکھا دیں گے اہلیہ کے اثاثے دراصل معزز جج کے اثاثہ ہیں۔ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ حقائق کا جائزہ جوڈیشل کونسل نے لینا ہے۔
جسٹس یحیٰ آفریدی نے کہا کہ ریفرنس سے پڑھ کر بتا دیں الزام کیا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر ریفرنس میں دو الزامات ہیں۔ ریفرنس میں جو الزامات ہیں ان کی انکوائری کونسل نے کرنی ہے۔
جسٹس منصورعلی شاہ نے سوال کیا کہ ’یہ بتا دیں کہ ریفرنس کے لیے مواد کس طرح اکھٹا ہوا‘ اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ بڑا اہم سوال ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ بڑا بنیادی سوال ہے۔
جسٹس منیب اختر نے پوچھا کہ ’اگر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ گوشواروں میں پراپرٹی ظاہر کر دیتے تو کیا ریفرنس دائر کرتے تو اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ گوشواروں میں پراپرٹی ظاہر کر دیتے تو ریفرنس نہ بنتا۔ گوشواروں میں پراپرٹی ظاہر نہ کر کے مس کنڈکٹ کیا گیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جائیدادیں تسلیم کر لی ہیں۔
مزید پڑھیں

سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس ختم، وکلا کا تحفظات کا اظہار
جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ میں اگر کوئی پراپرٹی ظاہر نہ کروں تو کیا میرے خلاف ریفرنس دائر ہوگا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم پراپرٹی کی خریداری کے ذرائع کو بھی دیکھ رہے ہیں۔
جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ وہ قانون بھی بتا دیں جس کے تحت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو قانون کے مطابق پراپرٹی ظاہر کرنی چاہیے تھی۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ کیا پراپرٹی پر جواب لیے بغیر ریفرنس بنایا جا سکتا ہے؟ میں سمجھنے سے قاصر ہوں آپ کیا کہہ رہے ہیں۔ بتا دیں پراپرٹی ظاہر کرنا کیوں ضروری ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ مس کنڈکٹ کے ساتھ منی لانڈرنگ کا مقدمہ بھی ہے۔
اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل میں مزید بتایا کہ جوڈیشل کونسل ریفرنس پر جج کو شوکاز نوٹس جاری کردے تو کوئی عدالت مخالفت نہیں کر سکتی۔ شوکاز کا مطلب ہے جوڈیشل کونسل ریفرنس پر احتساب کرنے جا رہی ہے۔
جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ آپ عدالتی حوالہ جات پڑھ رہے ہیں۔ جب تک حقائق ہمارے سامنے نہیں ہوں گے آپ کے عدالتی حوالہ جات کو پذیرائی کیسے ملے گی۔ اٹارنی جنرل بولے جج کے حوالے سےحقائق بھی بیان کر دوں گا۔ سب سے پہلے عدلیہ اور ججز کے لیے اقدار کو پڑھنے دیں۔
انہوں نے بتایا کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے جج کے خلاف ابتدائی کارروائی کی اور نوٹس جاری کیا۔ کونسل نے ابتدائی کارروائی کے بعد جج کو شوکاز نوٹس جاری کیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے شوکاز نوٹس کا جواب داخل کیا۔ اس وقت تک جوڈیشل کونسل کی کارروائی کو چیلنج نہیں کیا گیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے خلاف ایگزیکٹو نے کوئی انکوائری نہیں کی۔ شواہد اکٹھے ہوئے اور ان کی بنیاد پر ریفرنس دائر ہوا۔
صدارتی ریفرنس میں کونسل سے معاملے کا جائزہ لینے کی استدعا کی۔ جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے جوڈیشل کونسل پر بدنیتی کا الزام لگایا تھا۔
جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کونسل کی کارروائی کو چیلنج نہیں کیا۔ درخواست گزار جج نے ریفرنس کے آغاز کی کارروائی کو چیلنج کیا۔ اگر ہمارا دائرہ اختیار نہیں تو صاف بات کریں۔ آپ ہمیں مس کنڈکٹ پڑھا رہے ہیں۔
جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ جن غیر ملکی حوالہ جات کا ذکر کیا گیا ان کا اطلاق کدھر کریں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب آئندہ سماعت پر دوں گا۔ آئندہ سماعت سوموار کو کو ہوگی۔

بشیر چوہدری -اردو نیوز، اسلام آباد

اپنا تبصرہ بھیجیں