آہ فصیح بھائی ۔۔۔ اب کب ملیں گے؟

بدھ کی صبح موبائل دیکھا تو آنکھوں پر یقین نہیں آیا۔ وزرات اطلاعات کے سینیئر افسر دانیال گیلانی نے ٹویٹ کر رکھی تھی کہ سینئیر صحافی اور ان کے دی نیشن اخبار کے دوست فصیح الرحمان خان اب اس دنیا میں نہیں رہے۔
کچھ لوگ زندگی سے اتنے بھرپور ہوتے ہیں کہ ان کے ساتھ موت کا تصور کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ فصیح بھائی ایسے ہی تھے۔ دراز قد، خوش گفتار اور ذہین انسان تھے۔
میری ان سے ملاقات اس وقت ہوئی تھی جب ہم دونوں جیو نیوز اسلام آباد میں رپورٹنگ کرتے تھے۔ سینیئر کولیگ کے طور پر فصیح الرحمان بہت پروقار انداز میں پیش آتے تھے۔ ہمیشہ مسکراہٹ چہرے پر سجائے رکھتے اور اپنے کام سے کام رکھتے تھے۔ سیاست کی گہری سمجھ تھی اور پارلیمنٹ کی رپورٹنگ پر ملکہ حاصل تھا۔
فصیح الرحمان نے دی نیشن، جیو اور دی نیوز میں کام کیا اور اتفاق سے مجھے بھی ان تین اداروں میں کام کرنے کا موقع ملا۔ ان کے بارے میں جب بھی سنا اچھا ہی سنا۔ کئی بار کچھ ٹاک شوز میں اکھٹے بھی بیھٹے۔ وہ سیاسی معاملات پر بے لاگ تجزیہ کیا کرتے تھے۔ ان کو اختلاف بھی وقار کے ساتھ کرنے کا گر آتا تھا۔ ہمیشہ شائستگی کے ساتھ گفتگو کرتے تھے اور نہایت سلجھی ہوئی شخصیت کے مالک تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی ہر ایک سے دوستی چلتی رہتی تھی۔
جواں سالی میں ان کی موت نے صحافی برادری کو شدید صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ کسی کو یقین نہیں آ رہا۔ کوئی ان سے کل پرسوں فون پر ملنے کو یاد کر رہا ہے تو کوئی ہفتہ قبل ہونے والی ملاقات کا ذکر کر رہا ہے۔
صحافی نجم سیٹھی نے کا کہنا تھا کہ وہ حالت صدمہ میں ہیں۔ ’اس خبر پر یقین نہیں کر پا رہے۔ خدا انہیں غریق رحمت کرے۔‘

فصیح الرحمان دراز قد، خوش گفتار اور ذہین انسان تھے

صحافی مطیع اللہ جان کے مطابق چند ہفتے قبل فصیح ان کے ساتھ ایک یوٹیوب چینل کے شو میں تھے اور اپنی زیابیطس کا ذکر کر ہے تھے۔ صحافی عمرچیمہ، مرتضیٰ سولنگی اور مبشر زیدی نے بھی فصیح الرحمان کی اچانک موت کو انتہائی افسوس ناک خبر قرار دیا ۔ وفاقی دارالحکومت جہاں فصیح نے اپنا زیادہ تر کیریئر گزارا کا ہر صحافی آج سوگوار نظر آ رہا ہے ۔
صحافیوں کے ساتھ ساتھ سیاست دانوں اور سرکاری افسران نے بھی فصیح بھائی کی ناگہانی موت پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔

’کل صبح کیمرہ لے کر اخبار کے دفتر آ جانا‘

پاکستانی صحافیوں کی عدالت میں طلبی

’اب کسی بیٹے کو کیمرہ مین نہیں بنانا‘
مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے اپنے تعزیتی بیان کے بعد مجھ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں فصیح الرحمان وفات نے بے انتہا رنجیدہ کر دیا ہے۔’یہ خبر بہت دردناک ہے۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی۔‘
وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بھی فصیح الرحمان کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہارکیا ہے۔ اپنے پیغام میں معاون خصوصی نے کہا کہ ’شعبہ صحافت میں ان کی خدمات کو یاد رکھا جائے گا۔‘ واضح رہے کہ فصیح الرحمان اسلام آباد مقیم تھے اور وہاں ہی فوت ہوئے ان کی میت کو تدفین کے لیے لاہور لے جایا گیا۔
ان کے صاحبزادے عبداللہ کے مطابق فصیح کو دل کا دورہ پڑنے پر منگل کی رات ہسپتال لے جایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔
ابھی اپنے فون پر چند ماہ قبل ان کے کیے گئے میسج دیکھ رہا تھا۔ آخری میسج میں انہوں نے لکھا تھا کہ ’جلد ملیں گے۔۔۔‘ آج سوچ رہا ہوں کب ملیں گے؟

وسیم عباسی -اردو نیوز، اسلام آباد

اپنا تبصرہ بھیجیں