پیسر لیجنڈ وسیم اکرم نے پاکستان اور بھارت کے کھلاڑیوں پر زور دیا ہے کہ وہ شور شرابے کو بھول جائیں اور اتوار کو کھیلے جانے والے ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی میچ میں کھیل پر توجہ دیں اور اس کا مزہ لیں۔
گروپ اے کا یہ میچ دبئی میں ہوگا جو چار ماہ قبل ہونے والے فوجی تنازع کے بعد دونوں ہمسایہ ایٹمی ممالک کے درمیان پہلا کرکٹ ٹاکرا ہوگا۔ اس تنازع نے تعلقات کو دہائیوں کی کم ترین سطح پر پہنچا دیا تھا۔
بھارت نے ان مطالبات کو نظرانداز کیا کہ پاکستان کے ساتھ میچ کا بائیکاٹ کیا جائے۔ یاد رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان 2008 کے ممبئی حملوں کے بعد سے کوئی باہمی سیریز نہیں کھیلی گئی۔
اکرم نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: “یہ کرکٹ کا کھیل ہے، اس کا لطف اٹھائیں۔ کرکٹ کے علاوہ سب کچھ بھول جائیں۔ ایک ٹیم جیتے گی اور ایک ٹیم ہارے گی۔”
انہوں نے مزید کہا: “اگر آپ جیت جائیں تو اس لمحے کو انجوائے کریں۔ دباؤ آئے گا، مگر اسے بھی انجوائے کریں اور ڈسپلن دکھائیں کیونکہ یہ صرف ایک کھیل ہے۔ یہ دونوں ٹیموں اور دونوں ملکوں کے شائقین کے لیے ہے۔”
دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں 25 ہزار تماشائیوں کی مکمل موجودگی متوقع ہے۔ اکرم نے کہا کہ انہوں نے اپنے 19 سالہ کیریئر میں دباؤ کے انہی لمحوں سے لطف اٹھایا۔
انہوں نے یاد دلایا: “میں نے بھارت کے خلاف ہر میچ انجوائے کیا اور بھارتی کھلاڑیوں نے بھی ایسا ہی کیا۔” اکرم نے 1999 میں پاکستان ٹیم کو بھارت لے کر گئے تھے حالانکہ اس وقت انتہا پسندوں کی طرف سے دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔
59 سالہ اکرم 1987 کے دورۂ بھارت کا بھی حصہ تھے جب دونوں ممالک جنگ کے قریب پہنچ گئے تھے۔
اکرم نے غیر تجربہ کار پاکستانی ٹیم کو مشورہ دیا کہ وہ بڑے منظر کو دیکھے اور صرف بھارت کو ہرانے کے جنون میں نہ پڑے۔
انہوں نے کہا: “پاکستان کے پاس موقع ہے کیونکہ انہوں نے پچھلے ہفتے ایک ٹرائی سیریز جیتی ہے۔ انہیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ بس بھارت کو ہی ہرانا ہے بلکہ ایشیا کپ جیتنے کا ہدف رکھیں۔”
انہوں نے مزید کہا: “آپ کسی بڑی ٹیم سے ہار بھی جائیں تو پھر بھی ڈٹ کر کھیلیں اور ٹورنامنٹ میں اچھا پرفارم کریں۔”
اکرم نے کہا کہ یہ میچ یکطرفہ نہیں ہوگا جیسا کہ بھارت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ہوا تھا، جہاں بھارت نے 57 رنز پر میزبان کو آؤٹ کر کے صرف 4.3 اوورز میں ہدف پورا کر لیا تھا۔
انہوں نے کہا: “اس ٹورنامنٹ میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔”
پاکستان نے اپنے پہلے میچ میں عمان کو 93 رنز سے شکست دی۔
گروپ بی میں سری لنکا، افغانستان، ہانگ کانگ اور بنگلہ دیش شامل ہیں۔ ہر گروپ سے دو ٹیمیں سپر فور میں جائیں گی اور ایشیا کپ کا فائنل 28 ستمبر کو دبئی میں ہوگا۔























