فلم انڈسٹری کے ٹیکنیشنز اور پس پردہ عملے کی مشکلات اجاگر کرتے ہوئے ماہرہ خان نے ان کے حق میں آواز بلند کی۔ تاخیر سے ادائیگیوں کے مسئلے پر فنکار برادری کی جانب سے اٹھنے والی آوازوں میں شامل ہوتے ہوئے ماہرہ نے جمعرات کو اپنی انسٹاگرام اسٹوری میں اس مسئلے کی سنگینی کی یاد دہانی کرائی۔
انہوں نے لکھا:
“سوچیں، اگر سینئر اداکار اور ہٹ ڈرامے بنانے والے ڈائریکٹرز اس مسئلے سے دوچار ہیں تو ٹیکنیشنز کے ساتھ کیا کچھ ہوتا ہوگا۔”

ماہرہ کا یہ بیان ہدایتکارہ مہرین جبار، سینئر اداکار محمد احمد اور دیگر فنکاروں جیسے احمد علی بٹ، رمشا خان، نادیہ افغان، یاسر حسین اور علیزہ شاہ کے پہلے سے کیے گئے بیانات کی توثیق ہے۔
جولائی میں مہرین جبار نے ڈرامہ انڈسٹری میں پیشہ ورانہ رویوں کی کمی اور غیر منظم نظام پر کھل کر بات کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ “ہمارے ڈرامے ترقی کر گئے ہیں اور ویورشپ بھی بہت بڑھ گئی ہے، مگر پس پردہ صورتحال انتہائی سمجھوتوں سے بھری ہوئی ہے اور انڈسٹری بہت غیر پیشہ ورانہ انداز میں چل رہی ہے۔”
مہرین نے مزید کہا کہ امریکا میں چاہے مسائل ہوں لیکن ادائیگیوں کا نظام وقت پر ہوتا ہے، جبکہ پاکستان میں ہر چینل اور پروڈکشن ہاؤس کے ساتھ فنکاروں کو اپنی محنت کی کمائی کے لیے مانگنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔
ہدایتکار محمد احمد نے بھی اس مسئلے پر مہرین کی حمایت کی اور کہا کہ تاخیر سے ادائیگیاں صرف اداکاروں کا نہیں بلکہ ہر فرد کا مسئلہ ہیں، چاہے وہ اسپॉट بوائے ہو یا ڈائریکٹر۔ انہوں نے کہا: “ہر پروجیکٹ میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ آپ کو پیسے دینا کوئی احسان ہے، اور فنکاروں کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ مانگ کر اپنی عزتِ نفس کو مجروح کریں۔”
انہوں نے اس حقیقت پر بھی روشنی ڈالی کہ ادائیگیوں میں تین سے چار ماہ کی تاخیر کو عام سمجھا جاتا ہے۔ احمد نے بھی انسٹاگرام پر کہا: “پروڈکشن ہاؤسز اور چینلز سب کے پاس 60 سے 90 دن کی ادائیگی کی شق ہوتی ہے لیکن یہ بھی وقت پر پوری نہیں کی جاتی۔ اکثر فنکاروں کو اپنی رقم قسطوں میں ملتی ہے۔”
ماہرہ خان کی اس شمولیت کے بعد انڈسٹری میں یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ پروڈکشن ہاؤسز اس مسئلے پر سنجیدگی سے اقدامات کریں اور پس پردہ عملے سمیت تمام فنکاروں کو ان کا حق وقت پر دیا جائے۔























