پاکستان کا ایشیاء کپ میں فاتح آغاز

پاکستان کا ایشیاء کپ میں فاتح آغاز
اومان کے خلاف جارحانہ باؤلنگ
انگلینڈ کا جنوبی افریقہ کے خلاف لاٹھی چارج
(تحریر: نوید انجم فاروقی)
ایشیاء کپ 2025 ء کے آغاز سے قبل تین ملکی سیریز میں پاکستان نے متحدہ عرب امارات اور افغانستان کی ٹیموں کو شکست دیکر فائنل جیتے کا اعزاز حاصل کیا۔بے شک پول میچ میں افغانستان نے پاکستان کو شکست سے دوچار کیا لیکن فائنل میں پاکستانی گیند بازوں نے افغانیوں کی ایک نہ چلنے دی اورصرف 66 رنز پر پوری ٹیم کو پویلین بھیج کر 75 رنز سے کامیابی حاصل کر کے ایشیاء کپ کیلئے اپنی تیاری مکمل کی۔
اَب ایشیاء کپ جس میں پاکستان کو بھارت، سری لنکا، بنگلہ دیش جیسی مضبوط ٹیمو ں کا سامنا ہے وہاں سنبھل کر کھیلنا ہوگا کیونکہ جلد بازی میں کی گئی کوئی ایک غلطی بھی پورے میچ کا پانسہ پلٹ سکتی ہے۔ ٹی۔20 چونکہ چھوٹا فارمیٹ ہے اِس لئے اِس میں گر کر دوبارہ سنبھلنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ کسی ایک کھلاڑی کی غیر معمولی کارکردگی پورے میچ کا نتیجہ بدل سکتی ہے۔ پاکستان کے پول میں یو اے ای، اومان اور بھارت شامل ہیں۔ کوئی بھی ٹیم اپنے پول کے دو میچ جیت کر اگلے مرحلے میں جا سکتی ہے۔اگر کوئی اَپ سیٹ نہ ہوا تو بظاہر پاکستان اور بھارت ہی دوسرے راؤنڈ میں جائیں گے جہاں اصل جنگ شروع ہو گی۔ دوسرے پول میں سری لنکا، بنگلہ دیش، افغانستان اور ہانگ کانگ چائنا کی ٹیمیں ہیں وہاں سری لنکا اور بنگلہ دیش کو افغانستان سے سخت مقابلہ کرنا ہو گا کیونکہ افغانستان بڑی جوشیلی ٹیم ہے جو پورے جذبے سے کرکٹ کھیلتی ہے اِس لئے کسی بھی ٹیم کو ہرانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اُنھوں نے اپنے پہلے میچ میں ہانگ کانگ کو شکست دے دی ہے اور اگر اگلے دو میچوں میں سے ایک اور میں کامیابی حاصل کر لی تو وہ اگلے راؤنڈ میں آکر تمام بڑی ٹیموں کیلئے خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
پاکستان نے اپنے پہلے میچ میں اومان کو بڑے مارجن سے شکست دی جس میں اسپنرز نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور اومانی بلے بازوں کو پریشان کر کے یکے بعد دیگرے پویلین کی راہ دکھائی اور پوری ٹیم صرف 67 رنز بنا سکی اِس طرح پاکستان نے 93 رنز کے بڑے فرق سے میچ جیت لیا۔ پاکستان کی فتح کے باوجود اُسے بیٹنگ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اومان جیسی نئی ٹیم کی باؤلنگ کے سامنے بھی پاکستانی بلے باز کھل کر نہیں کھیل سکے صرف محمد حارث نے جارحانہ بیٹنگ کی اور کافی عرصے کے بعد ایک اچھی اننگز کھیلی جس کی بدولت پاکستان نے 160 رنز کا ہدف حاصل کیا۔ حارث نے 66 رنز بنائے جس میں سات چوکے اور تین چھکے شامل تھے۔ باقی بلے باز مشکلات کا شکار نظر آئے یہاں تک کہ فخر زمان بھی ہاتھ نہیں کھول پائے۔ ایسی بیٹنگ بڑی ٹیموں کے خلاف شکست کا باعث بن سکتی ہے اِس لئے آنے والوں میچوں میں بہتر کارکردگی کی ضرورت ہے۔

اِس کی بہترین مثال انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم نے جنوبی افریقہ کے خلاف پیش کی جب اُنھوں نے بیس اوورز میں 304 رنز بنا کر تیسرے نمبر پر بڑا سکور کرنے کا اعزاز حاصل کر لیا لیکن اُن کا کارنامہ اِس لئے اہم ہے کہ اُنھوں نے ایک بڑی ٹیم کے خلاف یہ کارنامہ انجام دیا۔ورنہ اُن سے قبل زمبابوے نے گیمبیا کے خلاف چار وکٹوں پر 344 اور نیپال نے منگولیا کے خلاف تین وکٹو ں پر 314 رنز بنا رکھے ہیں لیکن ظاہر ہے وہ ہلکی باؤلنگ کے خلاف بنائے گئے تھے جبکہ انگلینڈ نے ایک مستند ٹیم اور تجربہ کار باؤلنگ کے خلاف یہ کارنامہ انجام دیا ہے۔ انگلینڈ نے پاور پلے کے چھ اوورز میں ہی اپنی سنچری مکمل کر لی تھی اور پھر بیس اوورز کے اختتام تک محض دو وکٹوں کے نقصان پر 304 رنز کا پہاڑ کھڑا کر دیا۔ ایک اوپنر فل سالٹ نے ناقابل شکست 141 رنز بنائے جبکہ دوسرے اوپنر جو بٹلر نے 83 رنز کی دھواں دھار اننگز کھیلی دیگر کھلاڑیوں میں کپتان ہیری بروک نے بغیر آؤٹ ہوئے 41 رنز اور دوسرے آؤٹ ہونے والے جیکب بیتھل نے 26 سکور کیا۔ جواب میں جنوبی افریقہ 168 رنز ہی بنا سکی جس میں کپتان مارکرم نے 41 رنز کا حصہ ڈالا۔ انگلینڈ نے 146 رنز کے بڑے مارجن سے نہ صرف کامیابی حاصل کی بلکہ تمام دُنیا کو سیکھا بھی دیا کہ ٹی 20 کیسے کھیلتے ہیں۔اِب دیکھنا یہ ہے کہ ایشیاء کپ میں بھی کوئی ٹیم ایسی کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتی ہے یا نہیں؟