وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ پرائیویٹ اسکولز صوبے میں بچوں کو سستی اور بہتر تعلیم دینے کے لئے اپنے تمام وسائل کو بروئے کار لائے۔ سیشن، فیس اسٹریکچر، لیبر لاز بالخصوص کم سے کم اجرت سمیت دیگر پر اسٹیڈنگ کمیٹی کا جلد اجلاس طلب کرکے تمام مسائل کو مل جل کر حل کرلیا جائے گا۔

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ پرائیویٹ اسکولز صوبے میں بچوں کو سستی اور بہتر تعلیم دینے کے لئے اپنے تمام وسائل کو بروئے کار لائے۔ سیشن، فیس اسٹریکچر، لیبر لاز بالخصوص کم سے کم اجرت سمیت دیگر پر اسٹیڈنگ کمیٹی کا جلد اجلاس طلب کرکے تمام مسائل کو مل جل کر حل کرلیا جائے گا۔ جن معاملات میں عدلیہ کے فیصلے یا احکامات موجود ہیں اس کو بھی مدنظر رکھا جائے گا اور اس حوالے سے محکمہ تعلیم، اسکول ایجوکیشن اور نجی اسکولز کی تنظمیوں کو آن بورڈ لیا جائے گا۔ اسکولوں کی آن لائن رجسٹریشن، ہائیر سیکنڈری اسکول رجسٹریشن، ٹرانسفر سرٹیفیکٹ سمیت تمام اشیوز کا ہر پہلو سے جائزہ لیا جائے گا اور تمام اسٹیک ہولڈرز سے مکمل مشاورت کے بعد حتمی فیصلے کئے جائیں گے۔ نجی اسکولز اپنے اساتذہ کو تنخوائیں اتنی دیں گے وہ اس معاشرے میں اپنے آپ کو ڈھال نہ سکے تو اس کا براہ راست اثر بچوں کی تعلیم پر بھی ہوتا ہے اس لئے وہ اس نکتہ سے بھی اساتذہ کی تنخواہوں کو ضرور دیکھیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز اپنے دفتر میں آل پرائیویٹ اسکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن (اپسما)کے چیئرمین سید طارق شاہ کی قیادت میں صوبے بھر کی تنظیم کے عہدیداران کے وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر اپسماکے سنئیر وائس چیئرمین محمد احمد خان، وائس چیئرمین عتیق نصیر شمشی، جنرل سیکرٹری محترمہ قسیم، کو آڈینیٹر اظہر علی، سیکرٹری اطلاعات عمران خان، ڈپٹی جنرل سیکرٹری عشرت حسین، ایڈیشنل جنرل سیکرٹری صبیح احمد، سیکرٹری یوتھ افئیرز ولید بارک زئی، صدر میر پور خاص ریجن فیصل خان زئی، صدر ٹنڈو الہیار ریجن عامر خانزادہ، صدر حیدرآباد ریجن اشرف بن محمد، فنانس سیکرٹری ٹنڈو الہیار شہزاد آرائیں اور دیگر شامل تھے۔ وفد میں شامل تمام شرکاء نے صوبائی وزیر کو وزیر تعلیم بننے پر مبارکباد پیش کی اور انہیں پھولوں کے گلدستے اور اجرک کے تحائف بھی پیش کئے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی نے وفد کے شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ صوبہ سندھ میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے اور بچوں میں تعلیم کے رجحان میں اضافے کے لئے جہاں سندھ حکومت اپنے تمام وسائل کو بروئے کار لارہی ہے، میری خواہش ہے کہ پرائیویٹ اسکولز بھی اس میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں تاکہ صوبہ سندھ میں تعلیم کا معیار ہم زیادہ سے زیادہ بہتر بنا سکیں۔ چیئرمین اپسما سید طارق شاہ نے صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی کو پرائیویٹ اسکولز کو درپیش مسائل کے حوالے سے ایک یاد داشت پیش کی، جس میں تعلیمی سیشن کو جولائی کی بجائے اپریل سے شروع کرنے، آن لائن اسکولوں کی رجسٹریشن میں ویب سائیڈ میں سیکوریٹی کے فقدان، تعلقہ کی بنیاد پر ٹرانسفر سرٹیفیکٹ اور دیگر مسائل، ہائیر سیکنڈری اسکولز رجسٹریشن کے مسائل اور ڈی جی پرائیویٹ انسٹی ٹیوشن کو رجسٹریشن کا اختیار دینے، لیبر قوانین کو تعلیمی قوانین کے حوالے سے نافذ کرنے، پولیو سمیت دیگر مہم میں نجی اسکولز کی جانب سے تمام تر حکومتی سپورٹ کے باوجود والدین کی جانب سے تعاون نہ کرنے کی سزا اسکول کی انتظامیہ اور مالکان کو دینے اور اسکولوں کی رجسٹریشن کو منسوخ کرنے، پرائیویٹ اسکولز کے قوانین کو ازسر ترتیب دینے، اسکولز کی رجسٹریشن کے قوانین میں نجی اسکولز کی ایسوسی ایشن کو آن بورڈ لینے، تمام اضلاع کے ثانوی اور اعلیٰ ثانوی بورڈز کی جانب سے بچوں کی رجسٹریشن، امتحانی فیس، مارک شیٹ، سرٹیفیکٹ اور دیگر کی فیسوں میں بے تحاشہ اضافہ کئے جانے،صوبے کے تمام اضلاع کے بورڈز کی فیسوں میں متصادم ہونے سمیت دیگر کی طرف آگاہی دی۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ ایک سال سے اسٹیڈنگ کمیٹی کا اجلاس نہ ہونے کے باعث مسائل میں اضافہ ہوا ہے اور اس کا براہ راست اثر نجی اسکولوں اور ان کی انتظامیہ پر ہورہا ہے۔ اس موقع پر وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے کہا کہ سیشن، فیس اسٹریکچر اور دیگر اہم مسائل جنہیں ترجیعی بنیادوں پر حل کیا جاسکتا ہے، اس سلسلے میں وہ اسٹیڈنگ کمیٹی کے اجلاس کو جلد سے جلد بلانے کے حوالے سے اقدامات کریں گے، جبکہ سیشن کے حوالے سے وہ محکمے سے رپورٹ طلب کرکے نجی اسکولز کی تمام ایسوسی ایشنز کے ساتھ مل کر حتمی فیصلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ نجی اسکولوں کی رجسٹریشن، فیس اسٹریکچراور دیگر پر کچھ فیصلے عدلیہ کی جانب سے بھی آئیں ہیں اور ہم ان فیصلوں کی روشنی میں لائحہ عمل طے کرنے کے پابند ہیں اور اس پر عمل درآمد بھی مشاورت سے کرلیا جائے گا، تاہم انہوں نے لیبر قوانین اور بالخصوص کم سے کم اجرت کی اساتذہ کو ادائیگی پر کہا کہ وہ خود چاہتے ہیں کہ اساتذہ کو اتنی تنخواہ ضرور ملنی چاہیئے کہ وہ معاشرے میں اپنے آپ کو ڈھال سکے اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو اس کا براہ راست اثر بچوں کی تعلیم پر ہوتا ہے کیونکہ جب اساتذہ ہی ذہنی طور پر معاشی تنگ دستی کا شکار ہوگا تو وہ بچوں کی تعلیم پر کس طرح توجہ دے سکتا ہے۔۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں وہ محکمہ محنت جن کے بھی وہ خود وزیر ہیں بات کریں گے اور کم سے کم اجرت کو گھنٹوں کی بنیاد کے حوالے سے کوئی فارمولہ بنانے کے حوالے سے بات کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو والدین اسکول میں اپنے بچوں کو پولیو اور دیگر مہم کے دوران قطرے پلانے سے گریز کرتے ہیں اسکولز کی انتظامیہ اور مالکان ان والدین کو بلائیں اور انہیں اس بات پر قائل کریں کہ وہ اپنے بچوں کو کسی معذوری یا بیماری سے بچانے میں اپنا کردار ادا کریں اور اگر وہ اس کے بعد بھی ایسا نہیں کرتے ہیں تو اس کی تحریری طور پر متعلقہ اداروں کو آگاہی دیں۔ سعید غنی نے مزید کہا کہ نجی اسکولز کی انتظامیہ اگر اپنے تمام اساتذہ اور ملازمین کو سیسی میں رجسٹرڈ کروالیں تو انہیں ان تمام کی میڈیکل اور ان کے بچوں کو تعلیم کی سہولیات بھی حاصل ہوسکیں گی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ نجی اسکولز کی صوبے میں تمام ایسوسی ایشنز کو انشاء اللہ آن بورڈ رکھا جائے گا اور صوبے میں تعلیم کے نظام کو بہتر بنانے میں سب مل جل کر اپنا کردار ادا کریں گے تو ہم صوبہ سندھ میں تعلیم کے شعبے میں اپنے آپ کو منوا سکیں گے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نجی اسکولز بھی اپنی اسکولوں میں روزانہ اسمبلی کو یقینی بنائیں اور اپنے اساتذہ کو وقت کا پابند کریں تاکہ بچوں کی تعلیم میں کسی قسم کی کوئی کوتاہی نہ ہو۔ اس موقع پر اپسما کے تمام عہدیداران نے صوبائی وزیر کو یقین دلایا کہ وہ تعلیم کی بہتری سمیت تمام قوانین کی مکمل پاسداری میں ان کے ساتھ ہراول دستہ کا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔

جاری کردہ: زبیر میمن، میڈیا کنسلٹینٹ، وزیرتعلیم و محنت سندھ سعید غنی، فون 03333788079

وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی سے آل پرائیویٹ اسکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن (اپسما)کے چیئرمین سید طارق شاہ کی قیادت میں صوبے بھر کی تنظیم کے عہدیداران کے وفد نے اس کے دفتر میں ملاقات کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں