“چالی کرک کے قتل پر تعزیت پیش کرنے پر اشنا شاہ کو شدید تنقید کا سامنا”

پاکستانی اداکارہ اشنا شاہ نے امریکی سیاسی تجزیہ کار چارلی کرک کے قتل پر عوامی سطح پر دکھ کا اظہار کیا۔ چارلی کرک کو 10 ستمبر 2025 کو یوٹاہ کی ایک یونیورسٹی کیمپس پر طلباء سے خطاب کے دوران فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔ 31 سالہ کرک اپنے قدامت پسند نظریات اور Turning Point USA کی قیادت کے لیے جانے جاتے تھے۔ ان کے بعد ان کی بیوی اور دو چھوٹے بچے ہیں۔
اشنا شاہ نے انسٹاگرام پر اس قتل کو “دل دہلا دینے والا” قرار دیتے ہوئے کہا کہ کرک کی موت کے پرتشدد حالات نے انہیں شدید غم میں مبتلا کر دیا، حالانکہ ان کے نظریات کرک سے مختلف تھے۔ انہوں نے کہا، “ایک 30 کی دہائی میں عمر والے شخص، شوہر، بیٹا اور دو بچوں کے والد کو ٹھنڈے خون سے گولی مار کر ہلاک کرنا دل شکستہ کر دینے والا ہے۔” شاہ نے فلسطینی cause کے لیے اپنی طویل المدتی وابستگی کو بھی دہرایا اور اسے “ہمارے دور کا سب سے بنیادی مقصد” قرار دیا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس موقع پر ان کی ہمدردی انسانی جان کے نقصان کی وجہ سے تھی۔
ان کی پوسٹ پر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ کرک کو تعزیت پیش کرنا ان کی فلسطین کے حق میں حمایت کے متضاد ہے، کیونکہ کرک کے متنازع نظریات جیسے امیگریشن، اسقاط حمل، اسلحہ کے حقوق اور مشرق وسطیٰ کی سیاست پر موقف مشہور تھے۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ اس ہمدردی کا اظہار کرک کے سیاسی ریکارڈ کو نرم کرنے کے مترادف ہے، جبکہ دیگر نے کہا کہ شاہ نے اس کے نظریات کے اثرات کو نظر انداز کیا۔
شدید تنقید کے بعد، اشنا شاہ نے وضاحت جاری کی اور کہا، “میں چارلی کرک سے متفق نہیں تھی، خاص طور پر فلسطین کے معاملے میں۔” انہوں نے زور دیا کہ تشدد کی مذمت اور ذاتی نقصان کو تسلیم کرنا ان کی فلسطین یا کسی اور مقصد کے لیے سرگرمی کو کم نہیں کرتا۔ شاہ کے مطابق، “کسی کی سیاست سے اختلاف کے باوجود اس کے دکھ کو تسلیم کرنا انسانیت کا تقاضا ہے، سیاست کا نہیں۔”
یہ واقعہ مقامی میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز پر وسیع کوریج کا موضوع بنا۔ رپورٹس میں عشنا شاہ پر تنقید اور ان کی وضاحت دونوں شامل کی گئیں، اور اسے اس مثال کے طور پر پیش کیا گیا کہ عالمی واقعات پر عوامی شخصیات کے بیانات کس طرح تنقید اور مباحثے کا سبب بن سکتے ہیں۔