حکمران میڈیا سے خوفزدہ کیوں؟؟

تحریر: مظہرعباس

جب بات کالے قوانین کے ذریعے میڈیا کو’روکنے‘ کی ہو تو عمران خان کی حکومت بھی ماضی کی حکومتوں سے مختلف نہیں ہے۔ حکمران جب اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو آزاد میڈیا کو پسند کرتے ہیں اور جب اقتدار میں ہوتے ہیں تو اسی سے نفرت کرتے ہیں۔
’خفیہ ریگولیشنز‘ کے ذریعے سوشل میڈیا پر پابندیاں عائد کرنے کی حالیہ کوشیشوں کا مقصد اختلافی آوازوں کو چیک کرنا ہے جن پر پہلے ہی غیرسرکاری طور پر پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیریا میں پابندی عائد کردی گئی ہے۔
تحقیقات سے انکشاف ہواہے کہ کچھ مضبوط آوازیں سامنے آئیں اور ان کی تقاریر اور عوامی جلسوں پر پابندی کے باوجودوہ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم کو موثر طریقے سے استعمال کررہے تھے اس کے بعد سے یہ قواعد و ضوابط کچھ مہینوں سے زیرغور تھے۔۔کالعدم قرار دیئے جانے والے گروپس اور کچھ دیگر گروپس کی سرگرمیوں کے بارے میں بھی کچھ تشویش پائی جاتی تھی۔حال ہی میں غیر ملکی میڈیا کے لئے کام کرنے والے کچھ صحافیوں کو ایک مخصوص گروہ کی سرگرمیوں کی کوریج کے لئے متنبہ کیاگیا تھااور کچھ لوگوں کو دفاتر میں بھی بلایاگیا تھااور انہیں اس کے بارے میں بتایاگیا تھا۔جس طرح سے سوشل میڈیا کے قواعدو ضوابط کو پارلیمنٹ کواعتمادمیں لئے بغیر بنایاگیا تھا،ان اصولوں کے مصنف کے بارے میں بھی بہت سارے سوالات اٹھتے ہیں،جن پر عمل درآمد غیرسرکاری پابندی اور سخت رکاوٹ بن سکتا ہے جس کے بعد سوشل میڈیا کارکنان کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے حال ہی میں لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ٹی وی ٹاک شوز نہ دیکھیں اور اخبارات نہ پڑھیں،جمعہ کے روز مختلف ٹی وی چینلز اور اخبارات کے نامہ نگاروں اور بیورو چیفس سے ملاقات کی اور پریس کیخلاف اپنی شکایت درج کرائی۔انہوں نے دعوی کیا کہ گزشتہ دو سالوں سے انہیں کسی اور سے زیادہ میڈیاحملوں کا سامنا کرنا پڑا اور یہاں تک کہ جسے وہ اپنے اور حکومت کے خلا ف جھوٹی کہانیاں شائع کرنا کہتے ہیں، اس پر پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا ہاؤسز جنگ اور ڈان کا نام بھی لیا، اپنی دلیل کی تائید کے لئے انہوں نے اپنے نئے مقرر کردہ میڈیا معاون شہباز گل سے بھی میڈیا کی مبینہ طور پر بے بنیاد کہانیوں کو بتانے کاکہا، جس پر انہوں نے بتایا کہ ایسی بیس خبریں ہیں۔۔انھوں نے بتایا اگر ایسی خبریں برطانیہ میں شائع ہوتی تو ایسے اخبار بندکردیئےجاتے۔ وزیراعظم نے خاص طورپر اپنے چین دورے کے بارے میں جعلی خبر کا حوالہ دیا، جس کے بارے میں انھوں نے کہاکہ اس سے انھیں کافی بے عزتی کاسامنا کرناپڑا۔۔۔انھوں نے یہاں تک کہاکہ جس چینل نے جعلی خبر چلائی اس کے خلاف انھوں نےپیمراسےکوئی ریلیف نہیں لیا۔ وزیراعظم نے برطانیہ کی مثال دی جہاں میڈیا کو مضبوط ہتک عزت کے کیس کاسامناکرناپڑسکتاتھا، یہاں تک ان میں سے کچھ کو بندکردیاگیاہے۔
سوال یہ ہےکہ وزیراعظم کو کس نے روکاہے کہ کہ وہ مضبوط ’ڈی فیمیشن لاز‘نہ بنائیں، جہاں فیصلہ سالوں میں نہیں بلکہ مہینوں میں آناچاہیئے۔ یہ قانون سب کیلئے ہوناچاہیئےکہ کوئی بھی کسی کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد نہ کرسکے اور یہ صرف میڈیاتک محدود نہیں ہوناچاہیئے۔ کس نے وزیراعظم اور حکومت کو میڈیا کمیشن کی سفارشات کو نافذ کرنے سے روکا ہےجو سپریم کورٹ نے 2012میں تشکیل دیاتھا اور اس کی رپورٹ وزیراعظم کے آفس اور وزارتِ اطلاعات کے پاس پڑی ہے۔وزیراعظم عمران خان نے اقتدار میں آنے سے قبل یہ وعدہ کیاتھا وہ وزارتِ اطلاعات ختم کردیں گے اور پی ٹی وی اور ریڈیوپاکستان کوبی بی سی کی طرزپر ایک خودمختار باڈی بنائیں گےاور فریڈم آف پریس کا دفاع بھی کیا تھا۔

ایک بار انھوں نے ان کوسپورٹ کرنے پر میڈیا کو کریڈٹ بھی دیاتھا۔ ’’ میں اس مقام پر کبھی نہ ہوتا جس پرآج ہوں اگر آپ لوگ میرےساتھ نہ ہوتے۔ایسا انھوں نے ایک جلسےمیں کہاتھااورکئی مواقع پریہ دہرایاتھا۔ماضی میں بھی رہنماپریس کی آزادی اور آزادیِ اظہارِرائےکےتحفظ کے وعدےکرچکےہیں۔ 70کی دہائی میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بھی پریس کی آزادی اور نیشنل پریس ٹرسٹ کوختم کرنے کا وعدہ کیاتھا لیکن دونوں کواستعمال کیا۔انہوں نے بھی آزاد پریس کو برداشت نہیں کیا۔جہاں تک سینسر شپ اور میڈیاپرپابندیوں کی بات ہے توجنرل ضیاء کادور بدترین دور تھاجب صحافیوں کو کوڑے بھی مارے گئے۔محمد خان جونیجو اور بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت کے نتیجے میں کچھ بہتری آئی تھی اور پریس نے آزادانہ طور پر ان کی حکومتوں پرتنقید کی۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اپنی دوسری حکومت کے دوران ’سزاو جزا‘دونوں ہی کی پالیسی استعمال کی۔انہوں نے پریس کےخلاف اپنے احتساب بیورو کےسربراہ سیف الرحمن کواستعمال کیا۔ بےنظیر نے اپنی دوسری حکومت کےدوران کراچے سے شائع ہونے والےشام کےچھ اخبارات پرکچھ دن کیلئےپابندی عائدکی تھی۔ جنرل پرویز مشرف دور میڈیا کو آزادی دینے اورپابندیوں کامرکب تھا۔
انہوں نےخود ایک بار کہا تھا کہ وہ اپنی ہی تخلیق کاشکارہوجاتےہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہےکہ نجی ٹی وی چینلز کو لائسنس کی اجازت دینے کی ابتدائی پالیسی کے بعد ان کی سرکاری ایجنسیوں نےپریس کو قابوکرنےکےلئےحربے استعمال کیے۔تاہم جب سے عمران خان اقتدارمیں آئےوہ میڈیاکےسخت ناقدرہے اوریہ ان کے غم و غصے کی وجہ تھی،ان کی حکومت نے بڑے پیمانے پر اشتہارات ختم کیے،جس سے سنجیدہ مالی بحران پیدا ہوا، اس کے بعد میڈیاکوکنٹرول کرنےکےلئےکئی قوانین بنائےگئے۔(بشکریہ جنگ)۔

اپنا تبصرہ بھیجیں