مستقبل میں بجلی بنانے کے لئے کوئلہ باہر سے نہیں منگوانا پڑے گا تمام ضروریات تھر کے کوئلے سے پوری ہوں گی

تھر میں کوئلے کے ذخائر سے بجلی بننے کے عمل کے بعد پاکستان میں غیر ملکی کوئلے پر پاور جنریشن کے نئے منصوبوں کی کوئی گنجائش نہیں رہی
سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید ابوالفضل رضوی سے جیوے پاکستان کی خصوصی بات چیت
دوران گفتگو یہ بات بھی سامنے آئی کہ اب پاکستان میں ایسے پاورپلانٹس کی قطعاً کوئی گنجائش اور ضرورت باقی نہیں رہی جن کا سارا انحصار درآمدی کوئلے پر ہو ۔حکومت پاکستان کو پالیسی وضع کر دینی چاہیے کہ آج کے بعد سے پاکستان میں کوئی بھی ایسا پاورپلانٹ نہیں لگایا جائے گا جس کا سارا انحصار درآمدی کوئلے پر ہو کیونکہ ملک میں تھر کے وسیع ذخائر سے اربوں ٹن کوئلہ نکالنے کا عمل شروع ہوچکا ہے جو آئندہ 50 سے دو سو برس سے زائد تک بجلی بنانے کے لیے کوئلہ فراہم کرتا رہے گا اب اگر ضرورت کسی بات کی ہے تو وہ تھرکوئلے کی محفوظ اور تیزرفتار ترسیل کے لیے ریلوے نیٹ ورک بچانے کی ضرورت ہے اگر جامشوروکے ریلوے لائن کو کنیکٹ کر دیا جائے یا پورٹ قاسم سے تھر کے کوئلے تک ریلوے ٹریک بچھایا جائے یا کھوکھراپار موناباؤ ریلوے ٹریک سے تھر کے کوئلے کے لیے ٹریک بچھاکر کنیکٹ کیا جائے تو صرف ایک سو پانچ کلومیٹر کے ریلوے ٹریکس سے یہ فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں ۔
اس حوالے سے پاکستان ریلوے کی وزارت سوچ بچار کر رہی ہے اور ایک فزیبیلٹی رپورٹ تیار کی جارہی ہے جس کی اسٹڈی مکمل کرنے کے لئے فنڈ بھی کمپنی نے فراہم کر دیے ہیں ۔
اطلاعات کے مطابق جامشورو میں جو دوسرا پاور پروجیکٹ لگایا جارہا ہے اس کو اس طرح سے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہاں پر کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کا تمام تر انحصار درآمدی کوئلے پر ہوگا حالانکہ اب ملک میں کوئلے کے وسیع ذخائر کی دریافت اور وہاں سے کوئلہ نکالنے جانے کے آغاز کے بعد سے ملک میں کسی بھی ایسے نئے پاور پروجیکٹ کی ضرورت نہیں ہے جس کا انحصار درآمدی کوئلے پر ہو ۔
دوران گفتگو یہ بات بھی سامنے آئی کہ اگر ریلوے ٹریک بچھانے کا عمل آج سے شروع کر دیا جائے تو دو سال بعد باآسانی تھر کا کوئلہ ان تمام پاور پلانٹس کو مہیا کیا جا سکتا ہے جو اس وقت درآمدی کوئلے پر انحصار کر رہے ہیں ۔

اصل میں حکومتی سطح پر ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے پاورپلانٹس تیار کرائے جائیں جن کا ڈیزائن ایک سے زائد طریقوں پر ہو۔اور وہ مستقبل کی ضروریات اور تقاضوں سے ہم آہنگ ہو ں۔
پڑھنے والوں کے لیے یہ بات قابل ذکر ہے کہ سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی اس وقت تین ہزار تین سو سے زائد تھری باشندوں کو روزگار کے مواقع فراہم کر رہی ہے جن میں خواتین کی بڑی تعداد شامل ہے جو ڈمپر چلانے سے لیکر مختلف کام کر رہی ہیں تھری باشندوں کو یہ کام کرنے کی تربیت دی گئی ہے اور اب وہ ہنسی خوشی سب کام کر رہے ہیں مجموعی طور پر کمپنی پانچ ہزار سے زائد ملازمین کو روزگار فراہم کر رہی ہے کمپنی نے ایک ہزار سے زائد چینی ماہرین کی خدمات بھی حاصل کی تھی مستقبل میں کمپنی کا انحصار مقامی باشندوں پر بڑھتا جائے گا اور یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایک کمپنی 95فیصد سرمایا ملک میں ہی محفوظ رکھے گی جبکہ دیگر کمپنیاں اور پاور پلانٹ جن کو پاکستان میں لگایا گیا ہے ان کا زیادہ تر منافع بیرون ملک چلا جاتا ہے یہ بات قابل ذکر ہے کہ حکومت سندھ کے 51 فیصد کی حصہ دار اور اس منصوبے میں سب سے زیادہ دلچسپی رکھنے والی پاٹنر ہے اس لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا یہ منصوبہ انتہائی کامیاب اور آئیڈیل ہے ۔جبکہ دیگر سرمایہ کاری منصوبے اس سے مختلف ہیں اور وہاں پر سرمایہ کار حاصل ہونے والا منافع غیر ملکی کرنسی کی شکل میں بیرون ملک لے جاتے ہیں۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایک مرتبہ کوئلہ کھودنے کے لئے گڑھا پیدا کیا جاتا ہے اس پر زیادہ سرمایہ کاری ہوتی ہے لیکن جب اس کو وست دی جاتی ہے تو اس پر سرمایہ کاری کام آتی ہے اس لئے آنے والے برسوں میں کمپنی جو کوئلہ حاصل کرے گی اس کی لاگت میں بتدریج کمی آتی جائے گی اور کوئلے کا حصول سستا ہوتا جائے گا کمپنی نے ترکے بلاک ٹو میں جو خدائی کی اور کوئلہ نکالا اس کی گہرائی کو آسان الفاظ میں سمجھنے کے لئے یہ کہا جاتا ہے کہ حبیب بینک پلازہ جیسی بلڈنگ کو ڈیرہ گنا نیچے کھودا جائے تو یہ گہرائی حاصل ہوتی ہے پاکستان کے علاقے تھر میں جو کوئلہ حاصل کیا گیا ہے اس کی عمر اور جنوبی افریقہ اور دیگر ملکوں سے حاصل ہونے والے کوئلے کی عمر میں فرق ہے پاکستانی کوئلہ نسبتا نوجوان ہے اسے جلانے پر زیادہ وقت لگتا ہے اور یہ کوئلہ درآمدی کوئلے سے فی الحال مہنگا پڑ رہا ہے لیکن متعدد کمپنیاں اگلے دو سال کا انتظار کر رہی ہیں جب یہ کوئلہ مزید سستا ہوگیا اور ماہرین کا اندازہ ہے کہ نصف قیمت سے کم ہو جائے گا ۔
یہ بات درست ہے کہ دنیا بھر میں کوئلے سے بجلی بنانے کے منصوبوں کو کم کیا جا رہا ہے لیکن ایسا صرف یورپ میں ہوا ہے جبکہ امریکہ اور دیگر ملکوں میں یہ منصوبے جاری ہیں بھارت تو پچاس کی دہائی سے کوئلہ نکال رہا ہے اور بجلی بنا رہا ہے لیکن بھارت کا کوئلہ مقدار کے لحاظ سے پاکستان کے کوئلے سے بہت کم ہے اگر مستقبل میں پاکستان اور بھارت کے تعلقات بہتر ہوں اور یہاں سے کوئلہ بھارت کو بھیجنے کی بات ہو تو پاکستان اپنا کوئی نہ بھارت کو بڑی تعداد میں ایکسپورٹ بھی کر سکتا ہے ۔

ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر ثمر مبارک نے جو طریقہ وضع کیا تھا اور چوری بتائی تھی وہ ناکام ہوچکی ہے اور کوئلے کو زمین سے نکالنے کے بعد اس کی گیسیفیکیشن کا عمل کرنا ہی مفید اور کامیاب ہے اور اسی طریقہ کار کو کامیابی سے اپنایا گیا ہے اور اس کے مثبت اور حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں ۔
میں نے بتایا کہ کمپنی سماجی بہبود کے شعبے میں بے پناہ کام کر رہی ہے اور کسی ایک شعبے میں نہیں بلکہ کئی شعبوں میں لوگوں کو زندگی بہتر بنانے کے لیے مدد فراہم کی گئی ہے اور تھر کی زندگی میں خوشحالی اور چہروں پر آنے والی رونق دیکھنے سے کال تعلق رکھتی ہے ۔
اس سوال پر کہ اکثر ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیمیں دو معاملات پر توجہ دلاتی ہیں کہ تھر میں پانی کے ذخائر کا مسئلہ ہےاورترمیم ماحولیاتی آلودگی کا سب سے بڑا خدشہ ہے انہوں نے کہا کہ ہاں یہ باتیں ہوتی ہیں ہم بھی یہ سوال نہ سنتے ہیں اور ہم ان کو تفصیل سے بتاتے ہیں کہ پانی کے معاملات پر کافی کام کیا گیا ہے آر او پلانٹ لگائے گئے ہیں بلکہ ہم نے صوبائی حکومت کو یہ دعوت بھی دی ہے کہ اسلام کوٹ کے علاقے میں بلاک ٹو اور ہمارے علاقے میں آنے والے تمام آبادی کے پانی کے ذخائر کے حوالے سے آرو پلانٹ کا انتظام ہمیں دے دیا جائے ہم آپ پر مفت دیکھ بھال اور رپیرنگ کا کام کرکے پانی فراہم کرتے رہیں گے باقی علاقوں میں بھی حکومت نے بڑے پیمانے پر آر او پلانٹس لگائے تھے لیکن اگر ان کو صحیح طریقے سے بروئے کار لایا جائے تو صورتحال میں مزید بہتری آسکتی ہے ۔ ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ تمام عالمی تنظیموں اور متعلقہ فورمز نے اس حوالے سے تصدیق کی ہے کہ وہاں پر تمام وسطی نقطہ نظر کے اقدامات یقینی بنائے گئے ہیں ۔
کان کنی کے دوران حادثات پر قابو پانے اور جانی نقصان کو کم سے کم رکھنے کے حوالے سے مطلوبہ معیار کے اقدامات پر انہوں نے بتایا کہ ہماری کمپنی نے یہ ورلڈ ریکارڈ قائم کیا ہے کہ ہمارے کام کے دوران اب تک کوئی ایسا حادثہ نہیں ہوا جس میں کسی بھی کانکن کو زخمی ہونے کے بعد اگلے دن کام سے چھٹی لی نہ پڑی ہو اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ ایسا کوئی حادثہ رونما نہیں ہوا جس کے زیادہ منفی اثرات ہوئے ہوں اس لیے ہمیں عالمی سطح پر انٹرنیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم نے تمام حفاظتی انتظامات کو عالمی معیار کے مطابق یقینی بنایا ہے اس بات کا پورا کیٹ کمپنی کے سیفٹی اقدامات کے وضع کردہ مکینزم کو جاتا ہے ۔

تھر فاؤنڈیشن
سماجی طور پر ذمہ دار تنظیموں کی حیثیت سے ، سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی (SECMC) اور اینگرو پاورجن تھر لمیٹڈ تھر میں کمیونٹی کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرنے کے لئے پرعزم ہیں۔ سنہ 2016 میں ، حکومت سندھ نے تھر کوئلے کے منصوبوں میں مصروف کمپنیوں کے اشتراک سے تھرپارکر کے عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لئے تھر فاؤنڈیشن کے نام سے ایک تنظیم قائم کی ، تاکہ فارغ التحصیل اور پائیدار مداخلتوں کے ذریعے تھرپارکر کے عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنایا جاسکے۔
ہم نے یو این ڈی پی کے پائیدار ترقیاتی فریم ورک کو اپنایا ہے تاکہ 2024 تک اسلام کوٹ غربت سے پاک زون بن جائے۔ اقوام متحدہ کے 2015 میں طے شدہ پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جی) کے مطابق ، ہمارا نظریہ صحت مند بنانے کے لئے خصوصی تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کرنا ہے۔ زیادہ تر خوشحال تھر ، خاص طور پر کان کنی اور بجلی کے منصوبوں کے آس پاس کی کمیونٹیز پر توجہ دینے کے ساتھ۔
یو این ڈی پی کے پائیدار ترقیاتی اہداف غربت کے خاتمے ، سیارے کی حفاظت اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ تمام افراد امن و خوشحالی سے لطف اٹھائیں ، ان اہداف کو تھر فاؤنڈیشن کی تمام تر مداخلتیں ملیں گی ، جو بلاک II میں کثیر جہتی غربت کے خاتمے کے لئے بنائے گئے ہیں۔ اس کے ارد گرد ایک عوامی نجی شراکت کے ماڈل کے ذریعے ، بشمول:
روزگار کی تخلیق اور مناسب معاوضہ
منتقلی قابل مہارت ’ترقی
مقامی ایس ایم ای کی ترقی
سستی معیاری تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال
تھر فاؤنڈیشن کے بارے میں مزید معلومات کے لئے ، براہ کرم ہماری ویب سائٹ www.tharfoundation.org دیکھیں

استحکام
صحت ، حفاظت اور ماحولیات
ہائی روڈ لے جانا: ماحولیات سے ہماری وابستگی
اینگرو انرجی میں ہم ضمیر کے ساتھ کاروبار کرنے اور مثال کے طور پر آگے بڑھنے پر یقین رکھتے ہیں۔ اونچی سڑک کو حاصل کرنے کی ہماری جستجو میں ، ہم مستقل کاروباری طریقوں کو یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہیں جو ہمارے قدرتی وسائل کے غیرضروری ضیاع کو روکتے ہیں اور اونچی سڑک لینے کی جستجو میں ہمیں ماحول سے وابستگی کے پابند رہنے میں مدد دیتے ہیں۔
ہم نے فضلہ کی کمی ، توانائی کے تحفظ ، اور قدرتی وسائل کے انتظام کی تعمیل میں مستقل پیشرفت ظاہر کی ہے۔ ہماری تمام کوششوں کے اعتراف میں ، ہمیں لگاتار چار سالوں سے قومی فورم برائے ماحولیات اور صحت کا سالانہ ماحولیاتی ایکیلینس ایوارڈ ملا ہے۔
پھر بھی ایک اور پیشرفت جو ہماری وابستگی کی بات کرتی ہے وہ ہے ماحولیاتی دوستانہ ضائع ہونے والے فضلہ کو ری سائیکلنگ کے ذریعے اور دھات نکالنے اور نمکیات اور مائکرو غذائی اجزاء کی تیاری کے لئے انوینٹری کا دوبارہ استعمال کرنا۔ اس وقت ، ہم پاکستان میں ان چند کمپنیوں میں شامل ہیں جو کرومیٹ کیچڑ کو ماحولیاتی دوستانہ انداز میں ضائع کرنے کے لئے سرگرم عمل ہیں۔
سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی نہ صرف دیسی توانائی سے چلنے والی توانائی پیدا کرنے میں مدد فراہم کر کے توانائی بحران کو ختم کررہی ہے بلکہ معاشرے کی ترقی اور فلاح و بہبود کو بھی فروغ دے رہی ہے۔

س بار پی ایچ ای ڈی (پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ) کے عہدیداروں کو تربیت دے کر پورے سندھ میں حکومت کے زیر انتظام آر او پلانٹس کو موثر انداز میں چلانے کے لئے۔ ایس ای سی ایم سی 468 انجینئرنگ اہلکاروں کو ان بیچوں میں تربیت دے گا جن میں سے 25 درمیانی سطح کے پی ایچ ای ڈی اہلکاروں کی دو کھیپ پہلے ہی ضلع تھرپارکر کے اسلامکوٹ تالکا کے تھر بلاک II میں ہاتھ سے چلنے والی تکنیکی تربیت حاصل کر چکی ہیں۔
تربیت یافتہ افراد کو نہ صرف نظریاتی کلاسز دیئے گئے بلکہ تھر فاؤنڈیشن کے زیر انتظام 18 آر او پلانٹس بھی دکھائے گئے۔
نیکسر کالج کے 44 طلبہ پر مشتمل ایک ٹیم نے اپنے کمیونٹی سروس پروگرام کے حصے کے طور پر نکسر اسپتال کے لئے رضاکارانہ خدمات انجام دیں۔
ایک روزہ مفت کیمپ میں تقریبا 33 332 خواتین اور مرد مریضوں کا دورہ کیا گیا اور ماہر امراض نسواں اور عمومی طبیبوں کی ایک 3 ممبر ٹیم نے ان کا معائنہ کیا۔ طلباء نے پی کے آر 60،000 مالیت کی دوائیں بھی تقسیم کیں جو انہوں نے عطیات کے ذریعے جمع کیں تھیں۔
تھر کے بچے اور سب کے لئے زندگی بھر کے مواقع کو فروغ دیتے ہیں۔ اس سندھ ایجوکیشن ڈے کے موقع پر آئیے ہم متحد ہوں اور پورے سندھ میں تعلیم کے استحکام کے لئے اپنی کوششیں آگے رکھیں۔
تھر میں تعلیم کے نظام کو تیار کرنے کے بارے میں مزید جاننے کے لئے ویڈیو دیکھیں۔
دنیا کی خوبصورتی اپنے لوگوں کے تنوع میں مضمر ہے “
پاکستان اپنی ثقافتی تنوع سے مالا مال ہے اور تھر کے رنگ پاکستان کے اسی متنوع زمین کی تزئین میں بنے ہوئے ہیں۔
تھر میں رنگین جشن منانے کے لئے اینگرو ، ایس ای سی ایم سی ، حکومت سندھ ، تھر فاؤنڈیشن ، پاکستان رینجرز اور شنگھائی الیکٹرک کے ذریعہ تھر میں “سلام پاکستان” ، ثقافتی میلہ کا انعقاد کیا گیا۔
اس تقریب کا افتتاح وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور ڈی جی رینجرز نے کیا۔
ایس ای سی ایم سی حکومت سندھ اور پاکستان کے معروف نجی اداروں کے مابین پاکستان کی سب سے بڑی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ہے۔
پاکستان میں بجلی کے بحران سے نمٹنے کے لئے ، ایس ای سی ایم سی نے تھر بلاک دوم میں پاکستان کی پہلی اوپن پٹ کوئلے کی کان کو دیسی اور سستی بجلی پیدا کرنے کے لئے تیار کیا ہے۔ یہ قومی اہمیت کا حامل منصوبہ اور پاکستان کی توانائی کے تحفظ کی کلید سمجھا جاتا ہے۔
دیسی ، پرچر اور سستی بجلی پیدا کرنے کے لئے ایس ای سی ایم سی کے وژن سے نہ صرف بجلی کے بحران کو کم کیا جاسکے گا بلکہ پاکستان کی مجموعی معیشت کو بھی مدد ملے گی۔

 

اپنا تبصرہ بھیجیں