فرید الدین عطار: عطر فروش سے صوفی شاعر تک

شیخ فرید الدین عطار کا شمار اُن عظیم صوفیاء اور شعرا میں ہوتا ہے جن کا ذکر تاریخ کے اوراق میں خاص مقام رکھتا ہے۔ وہ پیشے کے اعتبار سے حکیم تھے، مگر کئی تذکروں میں انہیں عطر فروش بھی کہا گیا ہے، اسی نسبت سے وہ “عطار” کے نام سے مشہور ہوئے۔ ان کے بارے میں مستند معلومات زیادہ دستیاب نہیں، لیکن جو کچھ ہے، وہ انہیں ایک منفرد شخصیت کے طور پر نمایاں کرتا ہے۔

ان کا تعلق ایران کے شہر نیشاپور سے تھا جہاں وہ 1145ء میں پیدا ہوئے۔ اصل نام ابو حمید ابن ابو بکر ابراہیم تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ان کا مطب ہمیشہ ایسے مریضوں سے بھرا رہتا تھا جو ظاہری بیماریوں کے ساتھ ساتھ روحانی سکون کے متلاشی بھی ہوتے تھے۔ ان کی شہرت صرف نیشاپور تک محدود نہ تھی، بلکہ بغداد، بصرہ، دمشق، ترکستان اور خوارزم تک پھیل گئی تھی۔ انہوں نے کئی کتابیں بھی تصنیف کیں جو آج بھی ان کی فکری گہرائی کا پتہ دیتی ہیں۔ 1221ء میں ان کا انتقال ہوا اور نیشاپور ہی میں تدفین کی گئی۔

عطار کے افکار اور تعلیمات کو اکثر تمثیلی حکایات کے ذریعے بیان کیا جاتا ہے۔ ان میں سے ایک مشہور حکایت پروانوں اور شمع کی ہے۔

ایک رات پروانوں کا ایک گروہ جمع ہوا۔ سب کے دل میں شمع سے ہم کنار ہونے کی خواہش تھی۔ پہلا پروانہ شمع کی تلاش میں نکلا۔ اس نے دور سے شمع کی روشنی کو دیکھا اور واپس آکر دوسروں کو بڑے فخر سے بتایا کہ وہ شمع کو دیکھ آیا ہے۔ لیکن عقل مند پروانے نے کہا کہ یہ دیکھنا کافی نہیں، یہ ہمیں شمع کے راز سے واقف نہیں کرتا۔

پھر دوسرا پروانہ اڑا اور شمع کے قریب جا پہنچا۔ اس کے پروں نے شعلے کو چھو لیا، مگر گرمی اتنی شدید تھی کہ وہ برداشت نہ کرسکا اور پلٹ آیا۔ اس نے بھی اپنے تجربے کو بیان کیا مگر عقل مند پروانے نے کہا کہ یہ جانکاری بھی ادھوری ہے۔

آخرکار ایک تیسرا پروانہ اڑا۔ وہ گیا اور شمع میں جذب ہوگیا۔ اس نے خود کو شعلے کے سپرد کر دیا اور اس لمحے وہ خود شمع کی طرح روشن ہوگیا۔ تب عقل مند پروانے نے کہا: یہ پروانہ ہی وہ ہے جس نے عشق کی حقیقت کو پا لیا ہے۔ اس تجربے کو صرف وہی جانتا ہے، کوئی دوسرا نہیں جان سکتا۔