1982 میں جب فلم قلی کی شوٹنگ جاری تھی، بھارتی سینما کو ایک ایسا واقعہ دیکھنے کو ملا جو آج بھی ہر فلمی شائق کے دل دہلا دیتا ہے۔ ایک فائٹ سین کے دوران، امیتابھ بچن اپنی ہم اداکار پُنیت اسر کے ساتھ ٹکرانے کی غلط ٹائمنگ کا شکار ہوگئے۔ وہ میز کے کنارے سے جا ٹکرائے اور شدید اندرونی چوٹیں لگ گئیں۔
حادثے کے فوراً بعد امیتابھ کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ صورتحال اتنی تشویشناک تھی کہ ڈاکٹروں نے ایک لمحے کے لیے انہیں “کلینکلی ڈیڈ” قرار دے دیا۔ لیکن اس وقت بھی ان کی زندگی کی لڑائی میں ایک غیر معمولی کردار تھا: جیا بچن۔ انہوں نے امید نہیں چھوڑی، اور ہنومان چالیسہ پڑھتے ہوئے، امیتابھ کے پاؤں کے ہلنے کو محسوس کیا۔ یہی لمحہ تھا جب ڈاکٹروں نے دوبارہ انہیں زندگی کی طرف واپس لانے کی کوشش کی، اور یہ کوشش کامیاب ہوگئی۔
حادثے نے امیتابھ کے جسم پر گہرا اثر چھوڑا۔ ان کی آنتوں میں شدید اندرونی چوٹیں آئیں، انہیں کئی بار سرجری سے گزرنا پڑا اور وہ اپنی تقریباً 75 فیصد جسمانی طاقت کھو بیٹھے تھے۔ چلنا پھرنا بھی ایک مشکل کام بن گیا تھا۔ اس کے بعد ایک نایاب بیماری مایاستھینیا گریوس نے ان کے پٹھوں کو مزید کمزور کر دیا، لیکن امیتابھ کی زندگی کی کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔
اہلیہ جیا کی محبت اور ڈاکٹروں کی محنت نے امیتابھ کو دوبارہ فلمی دنیا میں واپس لایا۔ وہ دوبارہ صحتیاب ہوئے اور اپنے مداحوں کو خوشیوں سے بھر دیا۔ یہ حادثہ اور اس کے بعد کی جدوجہد بھارتی سینما کی تاریخ میں ایک ایسا لمحہ ہے جو ہمت، محبت اور امید کی مثال بن گیا۔























