امریکہ کے شہر ڈیٹرائٹ میں 60 سالہ کرٹس ڈکسن کی زندگی چند ہفتے پہلے تک غربت اور کسمپرسی میں گزر رہی تھی۔ گھر کی بجلی منقطع تھی، جیب خالی، اور وہ اپنی شادی کی انگوٹھی گروی رکھ کر بل ادا کرنے کے لیے بینک جا رہا تھا۔
بینک کے دروازے پر ایک نابینا شخص نے اس سے مدد کی اپیل کی۔ ڈکسن نے اپنی تنگ دستی کے باوجود وعدہ کیا کہ وہ انگوٹھی گروی رکھ کر پیسے لائے گا اور اسے کچھ ڈالر دے گا۔ لیکن حقیقت یہ تھی کہ وہ شخص نابینا نہیں بلکہ مشہور یوٹیوبر زیک ڈیرینیوسکی تھا، جو نیک دل افراد کو ڈھونڈ کر ان کی مدد کرتا ہے۔
ڈکسن نے وعدہ نبھایا اور یہی لمحہ اس کی زندگی کا رخ بدلنے کا باعث بنا۔ زیک نے اس کی سچائی سے متاثر ہو کر اسے ایک ہزار ڈالر دیے، اور پھر یہ ویڈیو دنیا بھر میں وائرل ہوگئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے چندہ بڑھتا گیا اور ڈکسن کے حصے میں ایک لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے۔ وہ بار بار کہتا رہا: “یہ سب خدا کی مرضی سے ہوا ہے، موقع ملتا تو میں بھی دوسروں کے لیے یہی کرتا۔”
لیکن قسمت نے ایک اور موڑ لیا۔ چند ہفتوں بعد خبر آئی کہ مشرقی ڈیٹرائٹ میں ڈکسن اپنی جلی ہوئی گاڑی کے اندر، ہاتھ پاؤں بندھے اور زخمی حالت میں ملا۔ اس نے پولیس کو بتایا کہ اغواکاروں نے اسے زبردستی اے ٹی ایم سے پیسے نکلوانے پر مجبور کیا، تشدد کیا، پھر گاڑی سمیت آگ لگا دی تاکہ وہ زندہ جل جائے، لیکن وہ کسی طرح بچ گیا۔
تحقیقات نے معاملے کو مزید پراسرار بنا دیا۔ حکام کے مطابق ڈکسن کے بیان میں کئی تضادات ہیں، جس کے باعث کیس اب مقامی پولیس کے بجائے امریکی فیڈرل ادارے اے ٹی ایف کے پاس ہے، جو اغوا، آگ لگانے اور بھتہ خوری کے پہلوؤں پر تحقیقات کر رہا ہے۔
فی الحال کرٹس ڈکسن ایک نامعلوم مقام پر چھپ کر زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔
سوشل میڈیا پر لوگ پوچھ رہے ہیں: کیا وہ واقعی نیک دل انسان جرم کا شکار ہوا، یا اس داستان کے پیچھے کوئی چھپا ہوا راز ہے؟























