شارجہ میں پاکستان پھر فاتح

شارجہ میں پاکستان پھر فاتح
تین ملکی سیریز 2025
افغانستان اور متحدہ عرب امارات کی ٹیموں کا جارحانہ انداز
(تحریر: نوید انجم فاروقی)
ایشیاء کپ سے قبل پاکستان، افغانستان اور متحدہ عرب امارات کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان تین ملکی سیریز شارجہ میں کھیلی گئی جس میں حسب توقع پا کستان نے کامیابی حاصل کر کے ایشیاء کپ کیلئے اپنے ارادوں کا اظہار کر دیا۔ اِس ٹورنامنٹ کی مثبت بات افغانستان اور یو اے ای کی ٹیموں کا جارحانہ انداز تھا۔ اُنھوں نے بہت اچھی کرکٹ کھیلی اور ایشیاء کپ میں آنے والی ٹیموں کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ دونوں ٹیمیں نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل ہیں اور خاص طور پر افغانستان کے پاس بہت اچھے اسپنرز ہیں جو شارجہ کی وکٹ پر کسی بھی ٹیم کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ پھر اُن کے بلے باز ہیں جو بے خوف ہو کر کسی بھی باؤلنگ کا سامنا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اُنھوں نے اِس سیریز میں پاکستان کو ایک میچ میں شکست بھی دی اور دوسرا میچ بھی بہت قریب تک لے گئے تھے۔ لیکن بدقسمتی سے فائنل میں اُن کے بلے باز اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکے حالانکہ گیند بازوں نے پاکستانی کھلاڑیوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا اور عمدہ باؤلنگ کرتے ہوئے پاکستان کو صرف 141 رنز تک محدود رکھا۔ اُس موقع پر ماہرین کا خیال تھا کہ افغانستان فائنل جیت سکتا ہے مگر پاکستان کے اسٹار آل راونڈر محمد نواز کی گھومتی ہوئی گیندوں نے افغانیوں کو ایسے چکرایا کہ وہ کھیلنا ہی بھول گئے۔

نواز نے ہیٹ ٹریک سمیت ایک اوور میں چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کر کے افغان بیٹنگ لائن کی کمر ہی توڑ کر رکھ دی۔ اُنھوں نے پانچ وکٹیں حاصل کیں اور 25 قیمتی رنز بھی بنائے جس کی بنیاد پر اُنھیں پلیئر آف دی میچ اور سارے ٹورنامنٹ میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کا اعزاز بھی دیا گیا۔
پاکستان نے یہ ٹورنامنٹ تو جیت لیا لیکن اُس کی بیٹنگ لائن کی کارکردگی غیر تسلی بخش رہی ہے۔ تمام نئے کھلاڑیوں میں ٹیلنٹ مو جود ہے لیکن وہ اپنی صلاحیتوں کو درست انداز میں بروئے کار نہیں لا رہے۔ صائم ایوب میں بلا کا ٹیلنٹ ہے وہ کسی بھی قسم کی باؤلنگ کے خلاف اسکور بنا سکتے ہیں لیکن جلدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آؤٹ ہو جاتے ہیں۔ وہ گیپ میں کھیلنے اور ایک دو رنز سے اننگ آگے بڑھانے کے بجائے ہر بال پر بڑی ہٹ لگانے کی کوشش کرتے ہیں جو کہ ممکن نہیں،ضروری نہیں کہ ہر بال پر چھکا لگایا جائے صائم کو یہ بات سیکھنی ہو گی اور جتنی جلد سیکھ لیں اُن کے اپنے کیرئیر اور پاکستانی ٹیم کیلئے بہتر ہے۔ یہی مسئلہ حسن نواز کے ساتھ بھی ہے وہ بڑی ہٹیں لگا سکتا ہے اور کسی بھی باؤلر کی لائن لینتھ خراب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن کس بال پر ہٹ لگانی ہے اور کس باؤلر کو نشانہ بنانا ہے اِس کا انتخاب کرنا بھی ضروری ہے۔ ایک دن میں اگر ایک باؤلر اچھی باؤلنگ کروا رہا ہے تو آپ اُس کے خلاف بڑی ہٹ نہ لگائیں اُس سے سنگل ڈبل لیں اور کسی دوسرے باؤلر پر کسر پوری کر لیں لیکن وکٹ پر زیادہ وقت گزارنا سیکھیں۔ فخر زمان اپنے انداز میں ہی کھیل رہے ہیں لیکن قابل اعتماد بلے باز نہیں بن سکے چل گئے تو چل گئے ورنہ اللہ حافظ۔ گیند بازوں کو بھی رنز روکنے کی تکنیک سیکھنا ہو گی، ہر بال پر وکٹ نہیں ملتی لیکن اگر آپ سکور روک دیں گے تو بیٹسمین خود غلط ہٹ لگاکر وکٹ دینے پر مجبور ہو جائے گا جس کا مظاہرہ فائنل میں دیکھنے میں آیا ورنہ دو میچوں میں یو اے ای کے آصف خان اور افغانستان کے بلے بازوں نے خوب دھلائی کی۔ یہ صورتحال برقرار رہی تو ایشیا ء کپ میں فائنل تک رسائی مشکل ہو جائے گی۔