عزیز میمن کا اتنا بڑا قصور نہیں تھا اس نے صرف ٹرین مارچ کی حقیقت دکھائی تھی، حلیم عادل شیخ

صحافی عزیز میمن کے قتل کے واقعے پر پی ٹی آئی مرکزی رہنما و پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ نے اہنا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ میں ایک اور صحافی کو قتل کر کے اس کی آواز کو بند کر دیا گیا ہے۔ عزیز میمن کا اتنا بڑا قصور نہیں تھا اس نے صرف ٹرین مارچ کی حقیقت دکھائی تھی۔ دنیا کو دکھایا تھا کہ کس طرح پیپلزپارٹی دو دو سو میں خواتین کو خرید کر ٹرین مارچ میں لائی ہے ٹرین مارچ کی رپورٹنگ کے بعد مسلسل دھمکیاں مل رہی تھی۔ عزیز میمن چلا چلا کر تحفظ مانگ رہا تھا۔ تحفظ ملنے کے بجائے صحافی کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ صحافی عزیز میمن پولیس و مقامی پیپلزپارٹی کے لوگوں سے پریشان تھے۔ نوشہروفہروز ضلعی میں دوسرے اضلاع کی طرح پسند کے افسران لگائے جاتے ہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ عزیز میمن کے قاتلوں، سرپرستوں اور پلاننر کو فی الفور گرفتار کیا جائے۔ عزیز میمن نے سچ کی آواز اٹھائی جس کو ہمیشہ کے لئے بند کر دیا گیا۔ بہت ہی افسوسناک واقعہ ہے صحافی برادری کے احتجاج کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر ذوالفقار منگی کے کیس کو بھی دیکھنا چاہئے۔ نیرو سرنجن کا وڈیو بیان بھی موجود ہے جس کے بعد اسے بھی قتل کر دیا گیا چیف جسٹس آف سپریم کورٹ سے اپیل ہے کہ دونوں واقعوں کا سو موٹو ایکشن لیں دونوں قتل کی جڈیشنل انکوائری کروائی جائے۔ آئی جی سندھ کا بھی امتحان ہے قاتل جلد پکڑوائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں