کراچی پریس کلب میں مسماة سحرش ولد بشیر احمد عمری 16سالہ نے اپنے وکیل کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب

کراچی (اسٹاف رپوٹر)کراچی پریس کلب میں مسماة سحرش ولد بشیر احمد عمری 16سالہ نے اپنے وکیل کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ میںپنجاب قصور کی رہائشی ہوںایک سال قبل میرے جانے والے اکرام عرف محسن شاہ نے مجھے نوکری کا جھانسا دے کر کراچی لایا میں مجبور تھی والدہ بیمار تھی مجبوری میں میں کراچی آگی ۔یہ شخص مجھے ڈیفنس کے علاقے میں وقار عرف (وکی) کہ پاس چھوڑ گیا ۔وکی اپنی فیملی کے ساتھ رہائش پذید تھا ۔دو ہی دن گزر تھے کہ وکی کی فیملی حیدر آباد چلی گئی ۔وقار گھر میں اکیلا تھا فیملی جانے کے بعد دوسری رات وقار شراب پی کر آیا میرے ساتھ زبر دستی کرنے کی کوشش کی مزاحمت پر مجھے مارا پیٹا ،اور میرے کپڑے پھا ڑدیئے اور ساتھ ہی دھمکیاں دیتا رہا ہے اور بولا اکرام تمھارے دس لاکھ مجھ سے لے چکا ہے وہ تجھے فروخت کرچکا ہے اسی دوران وقار نے دو آدمیوں کو بلایا جن میں ایک نادر خان اور نامعلوم تھا نادر اسلحہ ساتھ لایا تھا ان تینوں نے مجھے ذیاتی کا نشانہ بنایا ،اگلی صبح وقار اور نادر مجھے حیدر آباد کسی نامعلوم جگہ لے گئے حیدر آباد میں ایک سال تک قید کر کے رکھا ۔مجھے خود بھی جنسی درندگی کا نشانہ بنایا اور دیگر افراد سے بھی پیسوں کے عیوض ،اور مجھ کاغذات پر بھی زبر دستی دستخط کرواتے رہے ۔مورخہ 16فروری کو وقار نے مجھے رات کو ایک گیسٹ ہاوس میں چھوڑا ،سب سے گیسٹ ہاوس سے فرار ہونے کا موقع مجھے مل گیا اور میں بڑی مشکل کراچی اپنے بہنوئی کے گھر پہنچ گئی میری اعلی حکام سے اپیل ہے کہ میری ایف آئی آر دج کرائی جائے ،کیونکہ پولیس حدود کا بہانا بنا کر ایف آئی آر درج نہیں کررہی ہے 

اپنا تبصرہ بھیجیں