ریاست کو پتا ہے کہ وہ چلا گیا ہے اور آپ جلد خوش خبری بھی سنیں گے

پاکستان کے وزیر داخلہ بریگیڈیر (ریٹائرڈ) اعجاز شاہ نے پہلی بار سرکاری سطح پر تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے فرار کی تصدیق کر دی ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’احسان اللہ احسان کے فرار ہونے کی خبر درست ہے۔‘ وزیر داخلہ سے پوچھا گیا تھا کہ احسان اللہ احسان کے فرار کی خبریں آرہی ہیں، وہ اس حوالے سے کیا کہیں گے، تو انھوں نے کہا کہ انھوں نے وہ خبر پڑھی ہے اور وہ خبر درست ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’ریاست کو پتا ہے کہ وہ چلا گیا ہے تو ہی اس کے فرار کی خبر کو درست کہہ رہے ہیں۔ اس حوالے سے مزید کام بھی ہو رہا ہے اور آپ جلد خوش خبری بھی سنیں گے۔‘ کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے خود کو 2017 میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کیا تھا۔ گذشتہ ماہ انڈین اخبار نے دعوی کیا تھا کہ احسان اللہ احسان جیل سے فرار ہوگئے ہیں۔ اس کے ایک ماہ بعد سوشل میڈیا پر ایک مبینہ آڈیو پیغام میں احسان اللہ احسان نے کہا کہ ان کے ساتھ پاکستانی اداروں نے وعدے پورے نہیں کیے جس کی وجہ سے وہ 11 جنوری 2020 کو سکیورٹی اداروں کی تحویل سے بھاگنے میں کامیاب ہوئے۔کالعدم تنظیم کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ وہ بہت جلد ان باتوں سے بھی پردہ اٹھائیں گے کہ ان کا ضامن کون تھا اور ان کے ساتھ کیا وعدے کیے گئے تھے؟ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ احسان اللہ احسان ان دنوں ترکی میں موجود ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کی جانب سے کسی سرکاری شخصیت نے ان کے فرار کی باضابطہ تصدیق کی ہے-urdunews-report

اپنا تبصرہ بھیجیں