کیا میڈیا ہی وِلن ہے؟

چھ دن پہلے پاکستان تحریک اںصاف کے آفیشل پیج پر ایک ویڈیو اپ لوڈ کی گئی جس میں دکھایا گیا کہ کس طرح ایک رپورٹر ایک ٹھیلے والے کے پاس جا کر اس سے مہنگائی کے بارے میں سوال کرتا ہے اور اس ٹھیلے والے کا مکمل جواب سننے سے پہلے ہی اپنا تبصرہ کر کے مہنگائی کا ملبہ خان صاحب کی حکومت پر دھر دیتا ہے۔
اس پوری ویڈیو کا لب لباب یہ تھا کہ میڈیا غصہ میں ہے اس لیے حکومت کے خلاف من گھڑت مہم چلا رہا ہے۔ میڈیا کو جادو کی جپھی کی ضرورت ہے۔
اس ویڈیو کو سوشل میڈیا ٹیم کی کاوش سمجھ کر اس وقت زیادہ توجہ نہیں دی گئی لیکن سنیچر کو وزیراعظم عمران خان نے لاہور میں خطاب کرتے ہوئے ہو بہو یہی بات دہرا دی۔ خان صاحب کو لگتا ہے کہ میڈیا کا ایک حصہ باقاعدہ پلان کے تحت غریب لوگوں سے مہنگائی کے بارے میں سوال پوچھ کر ان کی حکومت کے خلاف کیمپین چلا رہا ہے۔میڈیا سے شاکی یہ پہلی حکومت ہے اور نہ ہی آخری مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس حکومت سے جلدی کوئی میڈیا سے اتنا متنفر بھی نہیی ہوا۔ 22 سال کی جدوجہد میں اپوزیشن اور میڈیا کے تال میل کا بھر پور فائدہ اٹھانے کے بعد پہلی مرتبہ خان صاحب کو حکومت اور میڈیا کے بگڑتے تعلقات کا عملی طور پر سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
حالانکہ پاکستان تحریک انصاف وہ پہلی سیاسی جماعت ہے جس نے میڈیا کی افادیت کو سمجھا۔ عددی قوت تو موجود نہیں تھی لیکن اس کے باوجود قومی اسمبلی کی ایک سیٹ رکھتے ہوئے بھی خان صاحب مختلف ٹاک شوز میں بطور مہمان مدعو کیے جاتے تھے۔ جہاں پر ان کا ٹاکرا بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے برابری کی سطح پر ہوتا جس کی وجہ سے وہ منظر عام پر بھر پور طریقے سے موجود رہے۔
خان صاحب کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ پاکستان میں سب سے زیادہ ایئر ٹائم حاصل کرنے والے سیاستدان ہیں اور ہر موضوع اور موقع کی مناسبت سے کسی نہ کسی جگہ ان کا موقف کیمرے پر محفوظ ہے۔ انہی دنوں کے دیے ہوئے انٹرویوز میں کہی گئی باتیں خان صاحب کے آج کے دیے ہوئے بیانات کے تناظر میں دوبارہ سنوائی بھی جاتی ہیں کہ ارے اس وقت تو خان صاحب فلاں معاملے کے بارے میں یہ کہا کرتے تھے۔وقت کا پہیہ آگے بڑھا، پہلے لانگ مارچ اور پھر پانامہ لیکس میں میڈیا اور پی ٹی آئی لازم و ملزوم ہو گئے۔ چاہے کنٹینر سے کی گئی تقرریں ہوں یا بنی گالہ کے لان سے پریسر، میڈیا تندہی سے خان صاحب کوکوریج دیتا رہا۔ اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف اور ان کی جماعت اگرچہ واویلا کرتے رہے کہ یہ سب کچھ پلاننگ کے تحت ہو رہا مگر میرٹ پر بھی ان کی بات کو کسی نے اہمیت نہیں دی کہ آخر کار اگر وزیراعظم بنے ہیں تو جواب بھی دیں۔ اب خیر سے عمران خان وزیراعظم کی کرسی پر براجمان ہیں اور میڈیا ہیرو سے ولن کا روپ دھار چکا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نوبت ان حالات تک آتی کیسے ہے؟ اس کا جواب حکومت کے اپنے گھر یعنی وزیراعظم ہاؤس میں ملے گا۔ وزیراعظم ہاؤس کا اپنا ایک مخصوص ماحول ہوتا ہے۔ چاپلوسوں اورخوشامدیوں کی ایک پلٹن ہر وزیراعظم کے گرد طواف کرتی رہتی ہے۔ وزیراعظم کو وہی دکھایا جاتا ہے اور وہی سنایا جاتا ہے جو وہ سننا چاہتے ہیں۔ وہی صلاح دی جاتی ہے جو کانوں کو بھانے والی ہو۔ کوئی خان صاحب کو بتانے والا نہیں کہ جو بات لوگ مائیک کے سامنے کرتے ہیں اس سے کئی گنا سخت باتیں وہ کیمرے کے پیچھے کر رہے ہیں۔ جو کچھ ٹی وی پر ایئر کرنے کے قابل ہوتا ہے اس میں کافی کانٹ چھانٹ کر کے قابل اعتراض زبان والے حصے نکالنے پڑتے ہیں۔
وزیراعظم کی کچن کیبنٹ سے اکثر گلہ ان کی جماعت کے اپنے لوگوں کا ہی ہوتا ہے کہ وزیراعظم ہاؤس پر حواریوں کا ایسا ٹولہ حاوی ہو جاتا ہے جس کا عوامی جذبات سے کوئی رابطہ نہیں ہوتا۔ خان صاحب کی جماعت میں کبھی ببانگ دہل اور کبھی دبے دبے الفاظ میں ان کے منتخب نمائندے یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ وزیراعظم صاحب کا انحصار غیر منتخب نمائندوں پر بہت زیادہ ہے جو پالیسیز اور فیصلوں پر بھر پور طور پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ظاہر ہے حکومت پر تنقید کے مواقع ضرور زیادہ ہوتے ہیں مگر حکومت کے پاس تنقید کا جواب دینے کے لیے ذرائع بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ پی ٹی آئی تو ویسے ہی میڈیا کے بارے میں پہلے سے تیار تھی۔ حکومت میں آتے ہی پی ٹی آئی نے وفاق اور پنجاب میں ترجمانوں کی ایک فوج رکھی اور باقاعدہ فہرستیں جاری کیں کہ کس موضوع پر ترجمانی کرنے کے لیے کس کو مدعو کرنا ہے۔
اب یہ اور بات ہے کہ کبھی کبھی کچھ ایشوز میں دو ترجمانوں کی ترجمانی ایک دوسرے سے مختلف ہوا کرتی تھی۔ بہرحال خان صاحب اپنی نگرانی میں میڈیا سٹریٹجی ترتیب دیتے ہیں۔ ہفتے میں اگر دو بار نہیں تو کم از کم ایک بار تو ترجمانوں کے اجلاس ک سربراہی بھی کر لیتے ہیں۔ خان صاحب کے درجن بھر خصوصی معاونین میں سے آدھ درجن کسی نہ کسی طرح میڈیا سٹریٹیجی سے منسلک ہیں۔ اس کے باوجود جب حکومت کے دفاع کا وقت آئے تو دو چار کے علاوہ کوئی نظر نہیں آتا۔ حکومت خود اپنا دفاع نہ کر سکے تواس کا الزام میڈیا پر دھرنے کو نالائقی نہیں تو اور کیا کہا جائے؟
امید ہے اگلے ترجمانوں کی میٹنگ میں خان صاحب اپنے گفتار کے غازیوں سے یہ سوال ضرور پوچھیں گے کہ چند گنے چنے چہروں کے علاوہ، ٹی وی پر جا کر پالیسیز کا دفاع کیوں نہیں کیا جا رہا۔ یہ سوال بھی ضروری ہے کہ حکومتی عہدیدار اور وزیر ایک دوسرے کے خلاف جو خبریں دیں اس کو بچوں کی لڑائی سمجھ کر کیا بالکل نظر انداز کر دیا جائے؟ اور وہ غیر سیاسی اور غیر منتخب معاون اور وزیر جن کے ذمے اہم ترین وزارتیں ہیں ان کی نمائندگی کون کرے گا کیونکہ وہ خود تو پردہ نشینی سے باہر آنا پسند نہیں کرتے۔ اور آخر میں اگر حکومت اپنی کارکردگی نہ بتا سکے تو میڈیا خود سے کیسے فرض کر لے۔
ایک مودبانہ تجویز ہے کہ خان صاحب کسی کے ذمے یہ کام لگا دیں کہ ان کا کون سا وزیر، کب کب کس موقع پر آ کر اپنی وزارت کے حوالے سے پالیسی بیان دیتا ہے یا ٹاک شوز میں جا کر حکومت کا دفاع کرتا ہے۔ کابینہ کے وہ ارکان جو میڈیا پالیسی ترتیب دے رہے ہیں وہ موقف دینے کے لیے خود کتنا دستیاب ہیں۔ اس کے لیے زیادہ محنت کی ضرورت نہیں۔ دو تین ٹاک شوز کے کوارڈینیٹرز سے مہینے بھر کی لاگ شیٹ منگوا لیں تو صورتحال واضح ہو جائے گی۔اس ساری بحث کا ہر گز مقصد یہ نہیں کہ میں میڈیا کو کسی بھی قسم کی خود احتسابی یا الزام سے مبرا قرار دے رہی ہوں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ میڈیا میں مس رپورٹنگ ہوتی ہے، خبریں لگوائی بھی جاتی ہیں۔ اگر خان صاحب کے خلاف مختلف حلقوں سے مہم چلوائی جا رہی ہے تو اس کا سامنا اور دفاع کرنے کے لیے تحریک انصاف میں صلاحیت بھی ہے اور افرادی قوت بھی۔ کمی ہے تو صرف صبر اور تحمل کی۔
ویسے یہ حکومت اپنی نوعیت کی منفرد حکومت ہے کہ اقتدار میں رہ کر بھی اپوزیشن کا کردار ادا کرنا چاہتی ہے اور جواب دینے کے بجائے خود تنقید کا سہارا لینا چاہتی ہے۔ میڈیا پر الزام تراشی سے پارٹی کےکچھ حواری یا کچھ خوشامدی تو خوش ہوں گے مگر عوام کی رائے نہیں بدلے گی ۔۔ مہنگائی سے متعلق معروضی حالات وہی ہیں جو دکھائے جا رہے ہیں۔ عوام صرف حکومت سے جواب چاہتے ہیں اور اگرمہنگائی کا جن قابو نہ کیا گیا تو ایسا نہ ہو کہ کہیں اس حکومت کو خود ہی جادو کی جھپی کی ضرورت پڑ جائے۔ماریہ میمن-urdunews

اپنا تبصرہ بھیجیں