پاکستان کی طرح انڈیا میں بھی سانولے یا سیاہ رنگ کو بدصورتی کی علامت سمجھا جاتا ہے، خواتین احساس کمتری میں مبتلا نظر آتی ہیں اور گوری رنگت کے لیے نت نئے ٹوٹکے آزماتی رہتی ہیں۔

پاکستان کی طرح انڈیا میں بھی سانولے یا سیاہ رنگ کو بدصورتی کی علامت سمجھا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ گہری رنگت کی خواتین احساس کمتری میں مبتلا نظر آتی ہیں اور گوری رنگت کے لیے نت نئے ٹوٹکے آزماتی رہتی ہیں۔
ٹیلی ویژن پر بیوٹی کریموں کے اشتہارات، بیوٹری پارلروں میں رنگ گورا کرنے کی مختلف ٹریٹمنٹس کی ڈیمانڈ سے تو یوں تو لگتا ہے کہ شاید رنگ گورا کرنا ہی اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہو-ٹی وی اشتہارات کے ذریعے آئے روز نئی نئی فیئرنیس کریمیں متعارف کرا دی جاتی ہیں جن سے یہ سوچ پروان چڑھتی ہے کہ شاید گورا رنگ خوبصورتی کی ضمانت ہے، اور یہ اشتہارات سانولی یا گندمی رنگت کی خواتین میں احساس محرومی کو اور بھی بڑھا دیتے ہیں۔
انڈیا میں گذشتہ چند روز سے ان فیئرنیس کریموں کے اشتہارات کے خلاف مہم چلائی جا رہی تھی اور اب بالآخر ان کریموں کے اشتہارات پر پابندی عائد کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
انڈین وزارت صحت کی جانب سے تجویز کردہ مسودے کے مطابق رنگ گورا کرنے والی کریموں کے اشتہارات کی کڑی نگرانی کی جائے گی، خلاف ورزی پر 5 سال قید اور 50 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
بالی وڈ اداکاراؤں کی جانب سے حکومت کے اس اقدام کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔بالی وڈ اداکارہ تنوشری دتہ کہتی ہیں کہ ’میں حکومت کے اس اقدام کو سراہتی ہوں، میں شروع سے ہی ان اشتہارات کے خلاف رہی ہوں جو انڈین لڑکیوں میں گہرے رنگ کی وجہ سے احساس کمتری پیدا کرتے ہیں۔ 2004 میں جب مس انڈیا یونیورس بننے کے بعد مجھے ایک بیوٹی کریم کے اشتہار کی پیش کش ہوئی تھی تو میں نے وہ (پیش کش) ٹھکرا دی تھی۔‘
دیا مرزا کا کہنا ہے کہ ’جب ہمیں یہ اندازہ ہو جائے کہ کون سے اشتہارات دقیانوسی سوچ، صنفی امتیاز اور غلط باتوں کی ترویج کررہے ہیں تو ہمیں مل کر ان کے خاتمے کی ذمہ داری لینی چاہیے۔‘
ارمیلا متونڈکر کا کہنا ہے کہ ‘ یہ بہت اچھا اقدام ہے کیونکہ بدقسمتی سے آج بھی لوگوں خصوصاً خواتین کو پرکھنے کا معیار رنگت ہی ہے۔‘
بالی وڈ ہدایت کارہ نندیتا داس کہتی ہیں کہ ’2013 میں جب میں ’سیاہ خوبصورت ہے‘ مہم کا حصہ بنی تھی تو رنگت کی بنیاد پر امتیاز کے حوالے سے بحث شروع ہو گئی تھی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’وہ ان پابندی کے حق میں نہیں ہیں کیونکہ لوگوں کے ذہن بدلنے کی ضرورت ہے۔ جب تک ہم لوگوں کی سوچ نہیں بدلیں گے تب تک اس پابندی کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ پھر یہ کام چوری چھپے شروع ہو جائے گا۔‘urdunews-report

اپنا تبصرہ بھیجیں