کراچی میں زہریلی گیس کا معمہ حل نہ ہوسکا، ہلاکتوں کی تعداد 6 ہوگئی

کراچی کے علاقے کیماڑی میں ممکنہ طور پر زہریلی گیس کے اخراج سے جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 6 ہوگئی جبکہ 2 کی حالت بدستور تشویشناک ہے۔ کیماڑی کے علاقے میں فضائی صورتحال خراب ہونے سے مجموعی طور پر 130 سے زائد افراد متاثر ہوئے تھے جن میں سے اکثریت کو علاج کے بعد گھر بھیج دیا گیا۔ دوسری جانب فضائی صورتحال خراب ہونے سے کسٹمز ہاؤس کے بھی 4 ملازمین بے ہوش جبکہ متعدد کی حالت غیر ہوگئی جس کے بعد کسٹمز ہاؤس کو بند کردیا گیا۔ پولیس حکام کا کہنا تھا کہ واقعے کا مقدمہ درج کرنے کے لیے تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں۔اس سلسلے میں پولیس سرجن ڈاکٹر قرار احمد عباسی نے بتایا کہ لاشیں کسی سرکاری ہسپتال میں نہیں لائی گئیں کہ جہاں ان کی موت کی وجہ کا تعین کیا جاتا۔ پولیس حکام کے مطابق متاثرہ افراد میں سے 56 مریض ڈاکٹر ضیاالدین ہسپتال جبکہ 10 کتیانہ ہسپتال لائے گئے جہاں ان کو ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد گھر بھیج دیا گیا۔ اس سلسلے میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) جنوبی شرجیل کھرل نے بتایا کہ 3 اموات ضیاالدین جبکہ 2 کتیانہ میمن ہسپتال میں ہوئیں۔
متاثرہ علاقوں کی صورتحال
کراچی میں زہریلی گیس کے اخراج کے بعد کیماڑی اور اس سے ملحقہ علاقوں میں موجود تعلیمی اداروں میں طالبعلموں کو جلدی چھٹی دے دی گئی۔ ادھر شہریوں میں خوف ہراس پھیلنے کے باعث متاثرہ علاقوں میں لوگ گھروں تک محدود ہوکر رہ گئے جس سے کاروباری سرگرمیاں متاثر اور سڑکیں پر آمد و رفت معمول سے کم ہے۔  علاوہ ازیں ان علاقوں کی دکانوں پر فیس ماسک کی قلت اور دستیاب ماسکس زائد قیمت پر فروخت کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ دوسری جانب کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کے چیئرمین ریئر ایڈمرل جمیل اختر نے زہریلی گیس کے واقعے پر نیول کمانڈر کراچی ریئر ایڈمرل زاہد الیاس سے رابطہ کیا۔

اس سلسلے میں ترجمان کے پی ٹی نے کہا تھا کہ نیوی کی بائیولوجیکل اینڈ کیمیکل ڈیمیج کنٹرول ٹیم نے متاثرہ جگہ کا معائنہ کر کے صورتحال کا جائزہ لیا اور محکمہ ماحولیات بھی گیس اخراج کی تحقیقات میں شامل ہے تا کہ واقعے کے پیچھے حقائق معلوم کیے جاسکیں۔ انہوں نے بتایا کہ کے پی ٹی ریسکیو اور سیکیورٹی ٹیمز گیس سے متاثرہ افراد کو مکمل مدد فراہم کررہی ہیں اور کیماڑی کے علاقے میں واقع کے پی ٹی ہسپتال میں بھی متاثرہ افراد کا علاج کیا جارہا ہے۔
گیس کا اخراج جہاز سے نہیں ہوا، علی زیدی
ڈان نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر علی زیدی نے 6 افراد کی ہلاکت اور 2 کی حالت تشویشناک ہونے کی تصدیق کی۔ انہوں نے بتایا کہ ’کسٹم ہاؤس کی بیسمنٹ میں کچھ ہوا ہے، انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بیسمنٹ 2 دن سے بند تھا جس کا جائزہ لیا جارہا ہے‘۔ علی زیدی کا کہنا تھا کہ رات کو کہیں سے گیس لیک ہوئی تھی اور یہ واقعہ رات کو ہی ختم ہوگیا تھا اب گیس کا کوئی اثر موجود نہیں، ساحل سمندر پر بھی ہزاروں افراد موجود ہیں جنہیں گیس محسوس نہیں ہورہی۔ انہوں نے کہا کہ گیس کراچی کی بندرگاہ سے خارج نہیں ہوئی کیوں کہ میں نے خود پورٹ کا دورہ کر کے صورتحال کا جائزہ لیا ہے جو معمول کے مطابق ہے۔ گیس کے اخراج کے بارے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر علی حیدر زیدی نے بتایا کہ کیماڑی میں ریلوے کالونی کے پاس جیکسن مارکیٹ کے عقب میں زمین کے اندر سے اس گیس کا اخراج ہوا ہے تاہم اس بات کا تعین کرنا ابھی باقی ہے کہ گیس کسی فیکٹری کی وجہ سے نکلی یا کوئی کیمیکل کا ڈبہ وہاں موجود تھا۔اس کے علاوہ انہوں رات سے میڈیا میں سامنے آنے والی ان رپورٹس کی بھی تردید کی جن میں کہا جارہا تھا کہ کراچی پورٹ پر آنے والے کسی جہاز میں سے زہریلی گیس خارج ہوئی۔
سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے علی حیدر زیدی کا کہنا تھا کہ ’اگر زہریلی گیس کا اخراج کسی جہاز سے ہوتا تو ڈاکیارڈ پر عملے کا جانی نقصان ہوتا لیکن معاملہ یہ نہیں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس لیے رات سے مسلسل درخواست کررہا ہوں کہ برائے مہربانی افواہیں نہ پھیلائیں اور نہ ان پر یقین کریں، جب ہمیں رپورٹ مل جائے گی ہم آپ کو بتادیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں