درجنوں افراد کی موت کی ذمہ دار ‘منحوس’ فلم سنیما میں دکھانے کا فیصلہ

واشنگٹن : ہالی ووڈ فلم ‘انٹرم’ جس کے ہدایتکار کا دعویٰ ہے کہ وہ ابتک 86 افراد کی جانیں لے چکی ہیں کو پہلی مرتبہ سینما گھروں میں دکھایا جائے گا۔

واشنگٹن : درجنوں افراد کو موت کے گھاٹ اتارنے والی خطرناک ترین ہالی ووڈ فلم ‘انٹرم’ کو پہلی مرتبہ سینما گھروں میں دکھایا جائے گا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق 1970 کی دہائی میں بننے والی ہالی ووڈ فلم انٹرم کو ملعون اور ابتک کی سب سے خطرناک ترین فلم کہا جاتا ہے کیوں کہ اس فلم کو دیکھنے کی ہمت کرنے والے 86 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

یہ دعویٰ فلم کے امریکی ہارر فلم انٹرم کے تخلیق کاروں کا ہے، جن کا کہنا ہے کہ اس فلم یں ایک راز ہے جس کو صرف کچھ ناظرین ہی دیکھ سکتے ہیں اور جو لوگ اس کا مشاہدہ کرتے ہیں ‘ان کا مرنا یقینی ہے’۔

برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سنہ 1970 میں بننے والی اس فلم میں ایک ایسے بھائی اور بہن کی کہانی دکھائی گئی ہے جو اپنے پالتوں کی موت پر کافی پریشان ہوتے ہیں اور ایک جنگل میں جاکر گڑھا کرتے ہیں تاکہ جہنم کا راستہ بناسکیں اور اپنے کتوں کی روح کو ریسکیو کرسکیں
فلم کے تخلیق کار ڈیوڈ امیتو اور مائیکل لاسینی کو یقین ہے اس فلم کے نحس اثرات یقینی ہے، جس کے نتیجے میں ماضی میں بھی دو بڑے حادثے ہوچکے ہیں لیکن جاپان میں ابھی صرف اس فلم کو سینما گھروں میں دکھانے کی تیاری کی گئی ہے، پھر بھی جو اس نظرئیے کو دیکھنا چاہتے ہیں ہو اپنا سامان باندھ لیں۔

فلم کے تخلیق کاروں کا دعویٰ ہے کہ 1988 میں جب اس فلم کو جرمنی کے فلم فیسٹول میں پیش کیا گیا تھا تو سینما گھر میں آگ بھڑک اٹھی تھی جس کے نتیجے میں 56 افراد ہلاک ہوگئے تھے اس کے بعد 1993 میں سان فرانسسکو سے نمائش کےلیے پیش کیا گیا تو وہاں عمارت پھٹنے کے باعث 30 افراد لقمہ اجل بنے۔

فلم کے ہدایتکار ایرک تھرتین کا کہنا ہے کہ اس خوفناک فلم کو 2020 میں پورے جاپان کے سینما گھروں میں دکھایا جائے گا، جس نے وسیع پیمانے پر سوشل میڈیا صارفین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی ہے



اپنا تبصرہ بھیجیں