جمعرات کی شب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، پنجاب، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر کے کئی شہروں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے باعث عوام میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ گھروں سے باہر نکل آئے۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.9 ریکارڈ کی گئی، اس کی گہرائی 111 کلومیٹر جبکہ مرکز ہندوکش، افغانستان کا علاقہ تھا۔ یہ پاکستان میں محض پانچ روز کے دوران پیش آنے والا پانچواں زلزلہ ہے۔
اس سے پہلے اتوار کی شب بھی زلزلے کے شدید جھٹکے آئے تھے جبکہ منگل کو ایک ہی دن میں ملک کے مختلف علاقوں میں تین بار زمین لرزی تھی۔ جمعرات کی رات آنے والے جھٹکوں کے باعث کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
گزشتہ دنوں سوات اور گردونواح میں بھی متعدد بار زلزلے کے جھٹکے ریکارڈ کیے گئے۔ منگل کی شب آنے والے زلزلے کی شدت 4.1 جبکہ گہرائی 236 کلومیٹر تھی، جس کا مرکز بھی ہندوکش کا پہاڑی سلسلہ تھا۔ اس کے علاوہ پشاور، صوابی، ملاکنڈ، مہمند، مانسہرہ، ایبٹ آباد اور لنڈی کوتل سمیت مختلف اضلاع میں زلزلے کی شدت محسوس کی گئی۔
ماہرین کے مطابق زمین کی پرتیں تین بڑی پلیٹوں (یوریشین، انڈین اور اریبین) پر مشتمل ہیں۔ زیر زمین دباؤ بڑھنے کے باعث ان پلیٹوں کی حرکت سے زلزلے اور آتش فشانی عمل رونما ہوتا ہے۔ پاکستان کا تقریباً دو تہائی علاقہ فالٹ لائنز پر واقع ہونے کی وجہ سے خطرے کی زد میں ہے۔ کراچی سے لے کر اسلام آباد اور کوئٹہ سے پشاور تک کئی شہر زلزلوں کے حساس زونز میں آتے ہیں۔ کشمیر اور گلگت بلتستان سب سے زیادہ خطرناک علاقے شمار ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں زلزلے کے اعتبار سے پاکستان پانچواں سب سے زیادہ حساس ملک ہے۔ انڈین پلیٹ اور یوریشین پلیٹ کے ملاپ کی وجہ سے ملک کے مختلف حصوں میں وقفے وقفے سے زلزلے آتے رہتے ہیں۔























