جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب کی شاندار کارکردگی

بدعنوانی تمام برائیوں کی جڑہے جو ملک کی ترقی اور خوشحالی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔بدعنوانی نہ صرف ملک کو مالی طور پر نقصان پہنچاتی ہے بلکہ بدعنوان عناصر معاشرے میں بھی عزت واحترام کی نگاہ سے نہیں دیکھے جاتے ۔ پاکستان کو بدعنوانی دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ بدعنوانی کے ملکی ترقی و خوشحالی پر مضر اثرات کے پیش نظر 1999 میں قومی احتساب بیورو کا قیام عمل میں لایا گیا تا کہ ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ اور بدعنوان عناصر سے لوگوںکی حق حلال کی کمائی سے لوٹی گئی رقوم برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کرانے کے علاوہ بدعنوان عناصر کو قانون کے مطابق سزا دلائی جاسکے ۔
معاشرے اور ملک کو بدعنوانی سے پاک کرنے کیلئے قومی احتساب بیورو کے چیئر مین جنا ب جسٹس جاوید اقبال نے اپنا منصب سنبھالنے کے بعد نیشنل اینٹی کرپشن سٹریٹجی بنائی َجس کو بدعنوانی کے خلاف موئثر ترین حکمت عملی کے طور پر تسلیم کیا گیاہے۔ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین نے ادارے میںبہت سی نئی اصلاحات متعارف کرائیںجن کی وجہ سے آج نیب ایک متحرک ادارہ ہے جو ہمہ وقت بدعنوان عناصر کے خلاف بلا تفریق قانون کے مطابق کارروائی کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ قومی احتساب بیورو کا صدرمقام اسلام آباد جبکہ اس کے آٹھ علاقائی دفاتر کراچی، لاہور ، کوئٹہ ، پشاور، راولپنڈی، سکھر، ملتان اورگلگت بلتستان میں کام کررہے ہیں جو بدعنوان عناصر کے خلاف اپنے فرائض قانون کے مطابق سرانجام دے رہے ہیں۔ قومی احتساب بیورو کے چیئر مین جنا ب جسٹس جاوید اقبال بدعنوانی کے خاتمہ کو اپنی اولین ترجیح قرار دیتے ہیں۔ نیب کو2019 میں مجموعی طور پر51591 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 46123 شکایات کو قانون کے مطابق نمٹا دیا گیاجبکہ اس وقت 13299 شکایات پر کارروائی کی جارہی ہے ۔ نیب نے سال 2019 میں 1464 شکایات پر جانچ پڑتال کی منظوری دی جن میں سے 1362شکایات کی جانچ پڑتال کو قانون کے مطابق مکمل کیا گیا جبکہ اس وقت 770 شکایات کی جانچ پڑتال پر قانون کے مطابق تحقیقات جاری ہیں ۔ نیب نے 2019 میں 574 انکوائریوں کی منظوری دی جبکہ658 انکوائریوں کومکمل کیا گیا۔ اس وقت 859 انکوائریوں پر قانون کے مطابق تحقیقات جارہی ہیں۔ اسی طرح نیب نے 2019 میں221 انوسٹی گیشنزکی منظوری دی جن میں سے 217 انویسٹی گیشن پرقانون کے مطابق کاروائی مکمل کی گئی۔ اس وقت 335 انویسٹی گیشن پر قانون کے مطابق تحقیقات جاری ہیں ۔ نیب نے 2019 میںبدعنوان عناصر سے بلواسطہ اور بلا واسطہ طو ر پر 150 ارب روپے برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کرائے جو کہ ایک ریکارڈ کامیابی ہے۔ اس کے علاوہ نیب نے 179 میگا کرپشن مقدمات میں سے 101 بدعنوانی کے ریفرنس معزز احتسا ب عدالتوں میں دائر کئے ہیں جبکہ 46 ریفرنسز کو قانون کے مطابق نمٹا دیا گیا ہے۔ اس وقت 179 میگا کرپشن مقدمات میں سے 13 انکوائریوںاور 19 انویسٹی گیشن تکمیل کے مراحل میں ہیں۔ قومی احتساب بیورو کے چیئر مین جنا ب جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب نے بلاواسطہ اور بلواسطہ طور پر178 ارب روپے کی لوٹی ہوئی رقم برآمد کر کے قومی خزانے میں جمع کرائی جو کہ ایک ریکارڈ کامیابی ہے ۔ جبکہ اس وقت ملک کی 25معز ز احتساب عدالتوں میں نیب کے 1275بدعنوانی کے ریفرنسز زیر سماعت ہیں جنکی کل مالیت تقریباََ 943ارب روپے سے زائد ہے۔
نیب نے انویسٹی گیشن آفیسرز کے کام کرنے کے طریقہ کار کا ازسرنو جائزہ لیا اور ان کے کام کو مزید موئژ بنا نے کے لئے سی آئی ٹی کا نظام قائم کیا گیا ہے ۔ اس نظام کے تحت سینئر سپروائزری افسران کے تجربے اور اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈائریکٹر، ایڈیشنل ڈائریکٹر، انویسٹی گیشن آفیسرز اور سینئر لیگل کونسل پر مشتمل سی آئی ٹی کا نظام قائم کیا گیا ہے جس سے نہ صرف کام کا معیار بہتر ہوا ہے بلکہ کوئی بھی شخص انفرادی طور پر تحقیقات پر اثرا انداز نہیں ہوسکے گا۔ نیب اپنے کام کرنے کے طریقہ کار میں جہاں بہتری لایا وہاں شکایات کی تصدیق سے انکوائری اور انکوائری سے لے کر انویسٹی گیشن اوراحتساب عدا لت میںقانون کے مطابق ریفرنس دائر کرنے کے لئے دس ماہ کا عرصہ مقرر کیا جو کہ وائٹ کالر مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے نیب کی سنجیدہ کاوشوں کامنہ بولتا ثبوت ہے۔
چیئر مین نیب جنا ب جسٹس جاوید اقبال کی ہدایت پر قومی احتساب بیورو نے اپنے ہر علاقائی دفتر میں ایک شکایت سیل بھی قائم کیا گیا ہے ۔ چیئر مین نیب ہر ماہ کی آخری جمعرات کو عوام کی بدعنوانی سے متعلق شکایات کو ذاتی طور پر سنتے ہیں۔مزید بر آں چیئرمین نیب بزنس کمیونٹی کے ملک کی ترقی میں اہم کردار کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ بزنس کمیونٹی کے مسائل کے حل کے لئے نہ صرف ہیڈ کوارٹر اسلام آؓباد میں خصوصی سیل قائم کیا بلکہ تمام علاقائی دفاتر میں بھی سیل قائم کئے گئے ہیں ۔ اس کے علاوہ بزنس کمیونٹی کے مسائل کے حل کے لئے ایک مشاورتی کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے جس پر بزنس کمیونٹی نے چئیرمین نیب کا ان کے مسائل کے حل کے لئے ذاتی کاوشوں کرنے پر شکریہ ادا کیا۔اس کے علاوہ چیئر مین نیب جنا ب جسٹس جاوید اقبال بیوروکریسی کو ملک کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت قرار دیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ چئیرمین نیب کی ہدایت پر نیب کے تمام ڈی جیز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سیا ست دان ،بزنس مین ،بیورو کریسی اور معاشرے کے دیگر افسراد جب نیب میں آتے ہیں تو ان کی عزت نفس کا خیال کیا جائے کیونکہ نیب ایک انسان دوست ادارہ ہے۔ اور اس کا مقصدکسی کی دل آزاری کرنا مقصود نہیں۔
قومی احتساب بیورو کیچیئر مین جنا ب جسٹس جاوید اقبال کی ہدایت پر نیب کے افسران کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لینے اور اسے مزید بہتر بنانے کیلئے جامع معیاری گریڈنگ سسٹم شروع کیا گیا ہے ۔ اس گریڈنگ سسٹم کے تحت نیب کے تمام علاقائی بیور وز کی کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ انہیں نہ صرف ان کی خوبیوں اور خامیوں سے آگاہ کیا جاتاہے بلکہ ان خامیوں کو دور کرنے کی ہدایت بھی کی جاتی ہے۔ مزید بر آںنیب نے ایک موثر مانیٹرنگ اینڈ ایلیویشن نظام بنایا ہے۔ موثر مانیٹرنگ اینڈ ایلیویشن سسٹم کے ذریعہ اعدادوشمار کا معیاراور مقدار کا تجزیہ بھی کیا جا رہا ہے جس کے بڑے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں اور نیب کی کارکردگی جانچنے میں بڑی مدد ملتی ہے۔
قومی احتساب بیورو کو مضاربہ /مشارکہ سیکنڈل جس میں ہزاروں افراد نے بعض افراد کے جھانسے میں آ کر اپنی رقوم ڈبل کرنے کے چکر میں دھوکہ کھایا۔نیب کو اس سلسلہ میں30ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں ہیں۔نیب نے قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے اب تک مضاربہ/ مشارکہ سیکنڈل میں مبینہ طور پر ملوث45 افراد کو گرفتار کرنے کے علاوہ ان سے لوٹی گئی رقوم کی واپسی کیلئے سنجیدہ کوششیں کرتے ہوئے اب تک 28ریفرنس احتساب عدالتوں میں دائر کیے ہیں جن میں سے کچھ ریفرنسز کا فیصلہ نیب کے حق میں ہو چکا ہے ۔نیب بدعنوان عناصر سے عوام کی لوٹی ہوئی رقوم ملزمان سے ریکور کرکے متاثرین کو واپس کرنے کے لئے دن رات کوشا ں ہے اور وہ دن دور نہیں جب مضاربہ /مشارکہ سیکنڈ ل کے تما م متاثرین کو ان کی لوٹی گئی رقوم واپس کرنے کی پوزیشن میں ہو گا۔ قومی احتساب بیورو کی کاوشوں کی بدولت غیر قانونی ہائوسنگ سوسا ئیٹیوں/کو آپریٹو سوسا ئیٹیوںکے افراد سے نیب نے عوام کے لوٹے گئے اربوں روپے برآمد کرکے جب ان کو با عزت طریقے سے واپس کئے تو انہوں نے چیئر مین نیب جنا ب جسٹس جاوید اقبال کا شکریہ ادا کیا جو کہ نیب کے افسران کے بد عنوانی کے خاتمہ کے جذبہ کو مزید تقویت دیتا ہے۔تاہم نیب عوام سے توقع رکھتا ہے کہ وہ اپنی عمر بھر کی جمع پونجی قانونی ہائوسنگ سوسا ئٹیوں/کو آپریٹو سوسا ئیٹیوں میں سرمایہ کاری کریں ۔اس کے علاوہ نیب سی ڈی اے ، آر ڈی اے ، ایل ڈی اے ، کیو ڈی اے ، کے ڈی اے،ایم ڈی اے ، ایس بی سی ، پی ڈی اے اور آئی سی ٹی وغیرہ جیسے حکومت کے اداروں کو بھی متنبہ کرتا ہے کہ وہ اپنے دائرہ اختیار میں غیر قانونی ہائوسنگ سوسا ئیٹیوں/کو آپریٹو سوسا ئیٹیوں کے قیام کو بروقت روکیں اور ان کے خلاف تادیبی کارروائی قانون کے مطابق عمل میں لائیں۔ نوجوان کسی بھی ملک کا اثاثہ ہوتے ہیں۔ قومی احتساب بیورونے ہائر ایجوکیشن کے ساتھ مل کر ملک بھر کی یونیورسٹیوں اور کالجز کے طلبہ وطالبات کو کرپشن کے اثرات سے آگاہی فراہم کرنے کیلئے ایک (MoU) پر دستخط کئے۔قومی احتساب بیورو کی اس مہم کا مقصد ایک طرف نوجوان نسل کو بدعنوانی کے مضر اثرات سے آگاہی فراہم کرنا تھا۔دوسری طرف نوجوانوں کی توجہ اس بات کی طرف بھی باور کروانا تھی کہ آپ ملک کا مستقبل ہیں اگر آپ کو بدعنوانی کے بارے میں آگاہی حا صل ہو گی تو مستقبل میں بدعنوانی پر قا بو پانے میں بھی مدد ملے گی۔ قومی احتساب بیوروہائر ایجوکیشن کے ساتھ مل کر ملک بھر کی یونیورسٹیوں اور کالجز میں اس وقت تک تقریباً 50 ہزارکریکٹر بلڈنگ سوسائٹیز کا قیام عمل میں لاچکا ہے جس کے حو صلہ افزاء نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔asim-ali-nawaiwaqt


اپنا تبصرہ بھیجیں