“نیٹ فلکس پر دستاویزی سیریز میں پیش کی گئی قاتل راجا کولندر کی حقیقی کہانی”

نیٹ فلکس پر ریلیز ہونے والی دستاویزی سیریز ’انڈین پریڈیٹر : دی ڈائری آف اے سیریل کلر‘ میں ایک لرزہ خیز مجرم راجا کولندر کی سچی کہانی دنیا کے سامنے پیش کی گئی ہے۔

یہ خوفناک کہانی راجا کولندر نامی ایک شخص کی ہے جس پر نہ صرف درجنوں افراد کے قتل اور مبینہ طور پر آدم خوری کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔

اس کے جرائم میں سرفہرست بھارتی ریاست اترپردیش کے ایک صحافی کا قتل بھی شامل ہے جس کی تفتیش نے اس کی سفاکیت اور درندگی کو دنیا کے سامنے بےنقاب کیا۔

راجا کولندر کا اصل نام رام نرنجن ہے اور اس نے اپنا یہ نام خود رکھا ہے یہ شخص بظاہر ایک معمولی سا آدمی دکھائی دیتا تھا۔ وہ اتر پردیش میں گریڈ فور کا ملازم تھا اور سور فارم چلاتا تھا۔ اس کی بیوی پھولن دیوی (پیدائشی نام گومتی دیوی) مقامی پنچایت کی رکن تھی۔

کولندر کے تین بچوں کے نام بھی غیر معمولی اور حیرت انگیز نوعیت کے ہیں، عدالت، ضمانت اور اندولن، جو اس کی ذہنی کیفیت کا پتہ دیتے ہیں۔

تین اقساط پر مشتمل یہ سیریز ستمبر 2022 کو ریلیز کی گئی تھی جسے دھیرج جندال نے ڈائریکٹ کیا تھا، بہت سے ناظرین یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا یہ سیریز واقعی ایک سچی کہانی پر مبنی ہے؟ جی ہاں !! بدقسمتی سے یہ وارداتیں سچے واقعات کی عکاس ہیں۔

سزا یافتہ سیریل کلر راجہ کولندر نے دوران تفتیش 14 افراد کو قتل کرنے کا برملا بھی اعتراف کیا جن میں نسل کشی کے رجحانات بھی شامل تھے۔

اس لرزہ خیز کہانی کی ابتدا سال 2001 میں ہوئی جب بھارتی ریاست اترپردیش کے ایک صحافی دھیریندر سنگھ شہر سے گاؤں اپنے گھر جاتے ہوئے اچانک لاپتہ ہوگئے۔

یہاں سے ایک اس خوفناک واردات کا آغاز ہوا جو سننے والوں کو کوئی افسانہ لگے لیکن یہ سو فیصد حقیقت پر مبنی ہے۔

پولیس کے مطابق دھیریندر سنگھ کے موبائل فون سے آخری کال پھولن دیوی کو کی گئی تھی، جس کے بعد پولیس نے کولندر پر کڑی نظر رکھی پولیس کا شک اس وقت مزید گہرا ہوگیا جب پولیس نے کولندر اور اس کے سالے وکش راج کول کو ایک ٹاٹا سمو گاڑی میں بیٹھا دیکھا۔

گاڑی کی تلاشی کے دوران مقتول کا موبائل فون ملا جبکہ بعد ازاں اس کی موٹر سائیکل بھی سور فارم سے ہی برآمد ہوگئی۔

راجہ کولندر کی زیر ملکیت فارم پر جب پولیس پہنچتی ہے تو اسے وہاں موجود تجوری میں سے سرخ رنگ کی ایک ڈائری ملتی ہے جس میں چودہواں نام دھیریندر کا ہوتا ہے۔ جبکہ اس کے سرورق پر لکھا تھا راجہ کی ڈائری۔

بعد ازاں راجہ کولندر اور اس کے سالے نے پولیس کی حراست میں جرم قبول کرلیا کہ انہوں نے ہی دھیریندر کو فارم پر بلا کر قتل کیا اور اس کی لاش کے ٹکڑے کرکے تین مختلف مقامات پر پھینک دیے۔

صحافی دھیریندر کو قتل کرنے کی وجہ یہ تھی کہ اس نے راجا کولندر کے مجرمانہ راز جان لیے تھے اور وہ خاص طور پر اس کے ہاتھوں مارے گئے ٹاٹا سمو ڈرائیوروں کے قتل کی واردتوں کی رپورٹ اخبارات میں شائع کرنے والا تھا۔

اس ڈاکومینٹری سیریز میں کئی حقیقی کرداروں سے بھی بات کی گئی ہے، جس میں اناؤ جیل میں موجود قاتل راجہ کولندر، اس کے بچے، مقتول دھیریندر کے بیٹے اور کیس کا تفتیشی افسر شامل ہیں جبکہ کلینیکل سائیکا لوجسٹ اور اینتھرو پولوجسٹ سے بھی اس کیس سے متعلق بات چیت کی گئی۔

ڈاکومینٹری میں دکھائے گئے کلینیکل سائیکالوجسٹ اور اینتھرو پالوجسٹ اس بات پر متفق ہیں کہ رام نرنجن عرف راجہ کولندر دراصل ذہنی مرض کا شکار ایک ایسا شخص تھا، جو تصوراتی دنیا میں رہتا ہے اور اپنے تئیں خود کو راجہ سمجھتا ہے۔

رام نرنجن کا نام راجہ کولندر کیوں پڑا؟ اس کا تعلق کول قبیلے سے ہے، جو کئی برسوں تک بھارتی ریاستوں اتر پردیش اور مدھیا پردیش کے جنگلوں میں رہنے کے بعد اب شہری علاقوں کا رخ کر رہا ہے۔

شاید بھارتی معاشرے میں کول قبیلے کو وہ مقام نہیں ملا، جو رام نرنجن کے مطابق انہیں ملنا چاہیے تھا، اسی لیے اس نے خود کو ’راجہ کولندر‘ کہنا شروع کر دیا۔

اس نے بیوی کا نام تبدیل کرکے پھولن دیوی رکھ دیا تھا اور اسے ضلع کونسل کا رکن بھی منتخب کروایا۔ خیال رہے کہ پھولن دیوی اتر پردیش سے تعلق رکھنے والی ایک ڈکیت تھی، جو بعد میں بھارتی لوک سبھا کی رکن بھی رہی۔

جیل میں ڈاکومینٹری کے لیے دیے گئے ایک انٹرویو میں راجہ کولندر نے بتایا کہ وہ خود بھی 2001 میں لوک سبھا کا انتخاب لڑنا چاہتا تھا۔

رام نرنجن نے ان لوگوں کا قتل بھی شاید اسی لیے کیا، کیونکہ وہ خود کو واقعی راجہ سمجھتا تھا اور دماغی طور پر خود کو ’منصف‘ سمجھ بیٹھا تھا،

ڈاکومینٹری میں بتایا گیا ہے کہ اس نے اپنے ساتھ کام کرنے والے دو افراد کا بھی قتل کیا اور ان کے سر دھڑ سے الگ کیے اور ان کے دماغ نکالے اور ابال کر کھا گیا تاکہ اس کا ذہن مزید طاقتور ہوجائے لیکن آج تک یہ الزامات اس پر ثابت نہیں ہو سکے۔

دھیریندر سنگھ کے قتل پر اسے اور اس کے سالے کو سزا تو ہوگئی تھی لیکن اسے بھی اس نے عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔

ڈاکومینٹری میں ایک بات جو راجہ کولندر کی وحشی ذہنیت کو واضح کرتی ہے، وہ یہ ہے کہ اس نے معین نامی اپنے مسلمان دوست کو پیسوں کے لین دین پر قتل کیا اور اس کی لاش تالاب میں پھینک دی تھی۔

لاش تالاب میں پھینکنے کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ ایک مسلمان شخص کی لاش دفنائی جائے اور ’اس کی آتما کو شانتی ملے‘

راجہ کولندر مختلف جیلوں میں رہا اور ایک جیل کے سپرنٹنڈنٹ کے مطابق وہ اپنے جیل کے کمرے میں ایک ایسی ہندو دیوی کی پوجا کیا کرتا تھا، جسے کالے جادو سے جوڑا جاتا ہے۔

رام نرنجن عرف راجہ کولندر کا دماغی طور پر تصوراتی دنیا میں رہنا اس بات سے بھی واضح ہوتا ہے کہ اس نے ڈاکومینٹری کے لیے دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ اس کے بھگوان اس سے باتیں کیا کرتے ہیں۔

تاہم راجہ کولندر اپنے اوپر لگنے والے تمام الزامات کو مسترد کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اسے سیاست میں آنے سے روکنے کے لیے اس کے خلاف سازش ہوئی ہے۔

راجا کولندر اور اس کے ساتھی آج بھی جیل میں قید ہیں اگرچہ اس کیس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے، لیکن بہت سے سوالات اب بھی باقی ہیں کہ کیا واقعی وہ صرف تین قتل کا مجرم ہے یا پھر اس کی ڈائری میں چھپے اور بھیانک راز کبھی سامنے آئیں گے؟