مہمند ڈیم کی تعمیر تیزی سے جاری، 2025ء میں مکمل کر لیا جائے گا: چیئرمین واپڈا

منصوبے پر اب دِن کے ساتھ ساتھ رات میں بھی تعمیراتی کام کیا جارہا ہے، مہمند ڈیم کے دورے پر چیئرمین واپڈا کی گفتگو  ……مہمند ڈیم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے اور واپڈا قومی اہمیت کے اِس منصوبے کو شیڈول کے مطابق 2025 ء میں مکمل کر لے گا۔  مہمند ڈیم اپنی ساخت کے اعتبار سے پانچواں بڑا سی ایف آر ڈی(Concrete face-rock-fill)ڈیم ہے۔ منصوبے کے لئے تمام ترجیحی اراضی حاصل کی جاچکی ہے اور اِس حوالے سے مقامی قبائل، ضلعی انتظامیہ اور صوبائی حکومت خیبر پختونخوا کا تعاون مثالی ہے۔اُنہوں نے اِس ضمن میں واپڈا لینڈ ایکوزیشن اینڈ ری سیٹلمنٹ کے آفیسرز کی بھی تعریف کی۔ اُنہوں نے کہا کہ واپڈا مقامی لوگوں کی معاشرتی اور معاشی ترقی کیلئے اعتماد سازی کے اقدامات کے تحت پراجیکٹ ایریا میں تعلیم، صحت اور دیگر سہولیات کے منصوبوں پر 4 ارب 53 کروڑ روپے خرچ کرے گا۔ اُنہوں نے سیکورٹی فورس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مؤثر سیکورٹی انتظامات کے باعث پراجیکٹ پر اب دِن کے ساتھ ساتھ رات کو بھی تعمیراتی کام جاری ہے۔ پراجیکٹ کے فوائد پر روشنی ڈالتے ہوئے چیئرمین نے کہا کہ مہمند ڈیم ایک تاریخی اور منفرد منصوبہ ہے،جو خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع مہمند کے دورافتادہ علاقے میں دریائے سوات پر تعمیر کیا جارہا ہے۔ پراجیکٹ پانچ سال اور آٹھ ماہ میں مکمل ہوگا۔ تکمیل پر مہمند ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت مجموعی طور پر 1.2ملین ایکڑ فٹ ہوگی، 800 میگاواٹ پن بجلی پیدا ہوگی، نیشنل گرڈکو سالانہ 2  ارب 86 کروڑ یونٹ سستی   پن بجلی مہیا ہوگی اورساتھ ہی پشاور، چارسدہ اور نوشہرہ کے علاقوں میں سیلاب کی روک تھام ممکن ہوسکے گی۔ مہمند ڈیم میں ذخیرہ کئے گئے پانی سے ایک لاکھ 60 ہزار موجودہ اراضی کے علاوہ تقریباً 16 ہزار 7 سو ایکڑ نئی اراضی بھی سیراب ہوگی جبکہ پشاور کو روزانہ 300 ملین گیلن پانی بھی پینے کے لئے فراہم کیا جائے گا۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ منصوبے سے ہر سال تقریباً51ارب 60 کروڑروپے کے مساوی فوائد حاصل ہوں گے۔٭٭٭



اپنا تبصرہ بھیجیں