باکسنگ ایک ایسا کھیل ہے جو انسانی فطرت کے قریب ترین سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس میں لوگ زیادہ تر مکے بازی پر انحصار کرتے ہیں۔ یہ کھیل اولمپکس میں اہم مقام رکھتا ہے اور دنیا کے مقبول ترین کھیلوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں تکنیک، توانائی، ذہانت اور قوت برداشت کی بھرپور ضرورت ہوتی ہے۔
دنیا میں کئی یادگار باکسنگ مقابلے ہوئے ہیں، لیکن تقریباً 130 سال قبل ہونے والا ایک میچ تاریخ میں ہمیشہ کے لیے یادگار بن گیا۔ اس میچ کی خاص بات یہ تھی کہ دونوں باکسرز نے مسلسل 7 گھنٹے تک ایک دوسرے پر مکوں کی بارش جاری رکھی۔ زخموں سے چُور ہونے کے باوجود ان کا حوصلہ اور عزم ناقابل شکست تھا۔
6 اپریل 1893 کو نیو اورلینز میں باکسنگ شائقین نے ایک شاندار اور تھکا دینے والا مقابلہ دیکھا، جو جیک برک اور اینڈی بووین کے درمیان ہوا۔ یہ میچ تاریخ کا سب سے طویل گلوز باکسنگ میچ قرار پایا۔
مقابلہ رات 9 بجے شروع ہوا اور اگلی صبح تقریباً 4 بجے تک جاری رہا، یعنی 110 راؤنڈز اور 7 گھنٹے 19 منٹ تک۔ دونوں باکسرز لگاتار ایک دوسرے پر حملے کرتے رہے اور تھکن کے باوجود ہمت نہیں ہاری۔
میچ کے اختتام پر جیک برک کے دونوں ہاتھوں کی ہڈیاں ٹوٹ چکی تھیں، جبکہ اینڈی بووین اتنے نڈھال ہو گئے کہ رنگ میں گر پڑے۔ چونکہ دونوں مزید لڑنے کے قابل نہیں تھے، ریفری نے مقابلے کو “نو کانٹیسٹ” قرار دیا، کیونکہ کوئی بھی ناک آؤٹ نہیں ہوا تھا۔ بعد میں یہ فیصلہ ڈرا میں تبدیل کر دیا گیا اور انعامی رقم دونوں باکسرز میں برابر تقسیم کی گئی۔























