پاکستان گرے لسٹ میں رہےگایا نہیں،ایف اے ٹی ایف اجلاس آج سےشروع ہوگا

عالمی منی لانڈرنگ واچ ڈاگ تنظیم،پانچ روزہ اجلاس میں پاکستان کی تقدیر کا فیصلہ کرے گی۔ پاکستانی وفد کی قیادت میں وفاقی وزیربرائے اقتصادی امور حماد اظہرپیرس پہنچ گئے ہیں جبکہ پاکستانی وفد میں وزارت خزانہ، سٹیٹ بنک، ایف ایم یو حکام بھی شامل ہیں ۔اجلاس میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے دئیے گئے 27 اہداف پرعملدرآمد کیلئے پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا ۔ اجلاس میں پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ سے نکالنے یا ستمبر تک کی مہلت دینے سے متعلق فیصلہ ہو گااوریہ اجلاس 21 فروری تک جاری رہے گا۔
رواں برس 25 جنوری کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ساتھ مذاکرات میں پاکستان کو 31 مارچ تک کامزید وقت دیا گیا تھا ،اورمزید 27 اہداف پرعملدرآمد کے لئے کہا گیا ۔ایف اے ٹی ایف کے اہداف کے مطابق قوانین میں ترامیم کی جائیں گی۔ وزارت قانون وکلا کیلئے ریگولیشن بہتر کرے گا، انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنس آئی کیپ چارٹرڈاکاؤنٹنس کے لیے ریگولیشن بنائے گا، وزارت مواصلات اور سیکوریٹی اینڈ ایکس چینج کمیشنکو بھی مزید متحرک کیا جائے گا، پاکستان پوسٹل انشورنس کو باضابطہ طور پر کمپنی بنایا جائے گا، پاکستان پوسٹل انشورنس کو70 کروڑ کی انشورنس کمپنی میں بدل دیاجائے گا۔
ماہرین کی جانب سے توقع کی جارہی ہے کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی جانب سے بڑے پیمانے پر عمل درآمد کرنے کے بعد جلد ہی گرے لسٹ سے باہر ہوجائے گا یا اسے عملدرآمد کے لئے واچ ڈاگ سے مزید وقت مل سکتا ہے۔ گزشتہ ماہ ہونے والے مشترکہ گروپ کی رپورٹ کی بنیاد پرایف اے ٹی ایف اجلاس کے بعد سے پاکستان ’گرے لسٹ‘ سے ممکنہ طور پر نکلنے یا کم از کم بلیک لسٹ میں داخل ہونے سے بچ جائے گا۔
اکتوبر 2019 میں، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے پاکستان کی طرف سے پیش کی جانے والی عملدرآمدی رپورٹ پر اطمینان کا اظہار کرنے کے بعد فروری 2020 تک پاکستان کو اپنی گرے لسٹ میں رکھنے کا اعلان کیا۔ اس حوالے سے ایف اے ٹی ایف کے صدر کا پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ٹاسک فورس نے پاکستان کو دہشت گردوں کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے مکمل خاتمے کے لئے مزید اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔ پیرس میں ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں فروری 2020 میں ملک کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات پر دوبارہ نظرثانی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں