“زیرو سے ہیرو تک: کے ای کے زیرو لوڈشیڈنگ نے تنویر کی زندگی کو کیسے بدل ڈالا”

“زیرو سے ہیرو تک: کے ای کے زیرو لوڈشیڈنگ نے تنویر کی زندگی کو کیسے بدل ڈالا”

تنویر، بہاولپور کا 27 سالہ نوجوان جو اپنی اہلیہ اور بچے کے ساتھ کراچی میں مقیم ہے، آبادی سے بھرے ایک متوسط طبقے کے علاقے میں ایک پینے کے پانی کے پلانٹ پر کام کرتا تھا جہاں اسے ایک معمولی تنخواہ اور کمیشن ملتا تھا۔ تاہم، چند ماہ قبل اس کی زندگی میں ایک انقلابی موڑ اس وقت آیا جب اسے کرائے کے مکان سے رخصت ہونے کا نوٹس ملا۔

معاشی مشکلات کا سامنا کرنے کے باوجود، تنویر کے عزم اور محنت نے اسے بائیکیا کے ساتھ جزوقتی کام شروع کرنے پر مجبور کیا، جہاں وہ اپنی موٹر سائیکل چلاتا اور کبھی کبھار کار کرائے پر لے کر سواری فراہم کرنے کا کام بھی کرتا۔ تاہم، اس کے پانی کے پلانٹ اور واٹر سپلائی کے کام پر اس علاقے میں ہونے والی زبردست لوڈشیڈنگ کی وجہ سے شدید منفی اثرات پڑے، جس نے پلانٹ کی زیادہ سے زیادہ صلاحیت کو متاثر کیا اور زندگی اور کاروبار دونوں کو بدحال کر دیا۔

لیکن قسمت میں تنویر کے لیے کچھ بہتر لکھا تھا۔ اگست 2025 میں، وہ دوسرے علاقے میں چلا گیا اور ایک نئے واٹر فلٹر پلانٹ پر کام شروع کیا۔ خوشخبری یہ تھی کہ غیرقانونی کنکشن ختم کرنے اور تقریباً 100% بل وصولی کے کے ای کے اقدامات کی بدولت اس علاقے میں لوڈشیڈنگ بالکل نہیں تھی۔ تنویر کا کاروبار پھلنا پھولنا شروع ہو گیا اور وہ آخرکار بغیر لوڈشیڈنگ کے خوف کے کام کرنے کے قابل ہو گیا۔

تنویر جیسے جیسے اپنے کام کی جگہ کے قریب ایک نئے کرائے کے مکان میں منتقل ہونے کی تیاری کر رہا ہے، وہ ان مواقع کا شکرگزار ہے جو اس کے راستے میں آئے ہیں۔ کے ای کے زیرو لوڈشیڈنگ کی بدولت، وہ اپنے کاروبار کو بڑھانے، بہتر آمدنی حاصل کرنے اور ایک زیادہ آرام دہ زندگی گزارنے کے قابل ہوا ہے۔ تنویر کی کہانی چھوٹے کاروباروں اور افراد پر کے ای کے اقدامات کے اثرات کی ایک روشن مثال ہے، جو نہ صرف زندگیوں کو بدل رہے ہیں بلکہ لوگوں کو ان کی پوری صلاحیت تک پہنچنے کے قابل بنا رہے ہیں۔

By Salik Majeed editor Jeeveypakistan.com Karachi.