پاکستانی ٹی وی کا سنہری دور اور آج کا منظرنامہ

ایک وقت تھا جب پاکستان ٹیلی ویژن (PTV) صرف تفریح کا ذریعہ نہیں تھا بلکہ یہ ثقافت، اخلاق، اور معاشرت کا آئینہ بھی تھا۔ شام کے وقت زندگی رک جاتی تھی اور خاندان والے Baseerat سے شام کا آغاز کرتے، اس کے بعد بچوں کے پروگرام، علاقائی شو اور پھر پرائم ٹائم ڈرامے دیکھتے۔ اس کے بعد Khabarnama کے ساتھ ہر شخص کی توجہ نیوز ریڈرز پر مرکوز ہوتی۔ والدین اینٹینا درست کرتے اور بچوں کو ہدایت دیتے کہ Ankahi دیکھنے سے پہلے اپنا ہوم ورک مکمل کریں۔

اس دور کے ڈرامے صبر، احترام اور رشتوں کو نبھانے کا سبق دیتے تھے۔ اشفاق احمد کے ایک مکالمے میں روح کو جھنجھوڑ دینے کی طاقت تھی، جبکہ حسینہ موئن کے کام نے ہنسی، آنسو اور زندگی کے بارے میں سوچنے کا موقع دیا—وہ بھی بغیر کسی زوردار شور یا غیر ضروری مناظر کے۔ یہ ڈرامے محض تفریح نہیں بلکہ ذہنی اور جذباتی تربیت فراہم کرتے تھے۔

سنہری دور کا اثر

60، 70، 80 اور 90 کی دہائیوں میں پاکستانی ڈرامے سماجی اور ثقافتی شعور کا حصہ بن چکے تھے۔ اشفاق احمد، بانو قدسیہ، فاطمہ سوریہ باجیا، اور حسینہ موئن صرف کہانی کار نہیں بلکہ معاشرتی فلسفی بھی تھے۔ ان کی کہانیاں ہمیں صبر، برداشت اور عزت کے ساتھ رشتوں کو نبھانے کا درس دیتی تھیں۔

اداکار جیسے تالاط حسین، خالدہ ریاضات، ذبیہ بختیار اور راحت کاظمی نے محض اداکاری نہیں بلکہ فن کی اعلیٰ مثالیں قائم کیں۔ ڈرامے جیسے Tanhaiyan، Waris، Dehleez، Bandish، Alpha Bravo Charlie نے اخلاقیات، معافی، وطن پرستی اور سماجی ذمہ داری کے اسباق دیے۔

پاکستانی فلمیں جیسے Armaan، Aina، Bandish، Humraz بھی صرف تفریح نہیں بلکہ معاشرتی سبق فراہم کرتی تھیں۔ یہ کہانیاں ایک نسل کے لیے اخلاقی اور ثقافتی تربیت کا ذریعہ تھیں۔

جدید ٹی وی کا منظر

پرائیویٹ چینلز کے آغاز کے بعد مواد تو زیادہ ہوا مگر معیار کم ہوگیا۔ خاندانی کہانیاں دھوکہ، تعلقات میں کشمکش اور سازشوں سے بھر گئی۔ کہانیاں ریٹنگ کے لیے بنیں، نہ کہ اخلاق یا ثقافت کی تربیت کے لیے۔ خاندان کے ساتھ ٹی وی دیکھنے کا رواج ختم ہو گیا اور افراد الگ الگ ڈیوائسز پر مصروف ہوگئے۔ نوجوان نسل وہ اخلاقی اور تاریخی سبق نہیں دیکھ رہی جو پہلے ٹی وی کے ذریعے سیکھتے تھے۔

ادب اور کہانی نویسی کی طاقت

پرانے لکھاری جیسے نورالحدہ شاہ اور امجد اسلام امجد محض کہانیاں نہیں لکھ رہے تھے بلکہ اقدار قائم کر رہے تھے اور ذہنوں کی تربیت کر رہے تھے۔ آج کے لکھاری صرف ریٹنگ اور مشہوری کے لیے کام کرتے ہیں، پلاٹ ایک جیسے اور بار بار دہرائے جاتے ہیں۔

غیر ملکی ڈرامے، خاص طور پر ترکی اور کوریائی، پاکستانی ناظرین میں مقبول ہوگئے ہیں۔ اگرچہ یہ مسلم تاریخ اور ثقافت کو اجاگر کرتے ہیں، مگر پاکستان کی اپنی تاریخی اور ثقافتی کہانیاں نظر انداز ہو رہی ہیں۔ ملک کے بانی رہنماؤں، شاعروں، سائنسدانوں اور قومی ہیروز پر مبنی کہانیاں کم دکھائی جاتی ہیں۔

اب بھی امید باقی ہے

حالانکہ زیادہ تر جدید ٹی وی مواد معیار میں کم ہے، مگر کچھ ڈرامے اب بھی معنی خیز ہیں جیسے Udaari، Dar Si Jati Hai Sila، Parizaad، Raqeeb Se۔ بی گل، زنجبیل عاصم شاہ، اور آمنہ مفتی جیسے نئے لکھاری ثابت کرتے ہیں کہ معیاری اور مؤثر کہانی نویسی آج بھی ممکن ہے، اگرچہ یہ نایاب ہیں اور اکثر درمیانے یا غیرمعیاری ڈراموں کے درمیان چھپ جاتے ہیں۔

جدید ہائی ڈیفینیشن اور سوشل میڈیا کی دھوم کے باوجود اکثر ناظرین کی روح آج بھی پیاسے رہتی ہے۔ تبدیلی ممکن ہے—لیکن اس کے لیے مقصد کے ساتھ کہانی نویسی، حوصلہ اور سماج کی عکاسی کی ضرورت ہے۔ ایسی کہانیاں جو سکھائیں، متاثر کریں، اور معاشرے کی نمائندگی کریں نہ کہ صرف تفریح فراہم کریں۔

ٹی وی میں طاقت ہے: اتحاد پیدا کرنے، سوچ بیدار کرنے اور دل جیتنے کی۔ پاکستانی ٹی وی کے بدلتے ہوئے منظرنامے پر غور کرتے ہوئے ہمیں یہ سوچنا ہوگا: ہم چاہتے ہیں کہ ہماری اگلی نسل کیا دیکھے اور اہم بات یہ ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ وہ لوگ کیسے بنیں؟