لندن پلان کی خبریں سازش کا حصہ ہیں، بلاول بھٹو زرداری

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ چند روز سے میڈیا میں گردش کرنے والی لندن پلان کی خبروں کو سازش کا حصہ قرار دے دیا۔

ڈان نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ‘جو سیاسی و معاشی صورتحال ہمیں نظر آرہی ہے، سمجھتے ہیں کہ 2020 تبدیلی کا سال ہے، اپوزیشن کے پاس ان ہاؤس تبدیلی اور نئے انتخابات کا آپشن ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘جس طرح سے پی ٹی آئی نے آئی ایم ایف ڈیل عوام پر ڈالی ہے، سمجھتے ہیں کہ اس ملک کی عوام اس حکومت کو زیادہ دیر تک برداشت نہیں کرسکے گی’۔

انہوں نے کہا کہ جو سیاست دان عوام کا ساتھ نہیں دیں گے ان کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ ‘یہ حکومت اس بات پر ڈٹی ہے کہ سیاسی مخالفین سے انتقام کیسے لیا جائے’۔

مولانا فضل الرحمٰن کے مارچ میں عوام میں جانے کے اعلان کے حوالے سے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن کے شیڈول کے بارے میں نہیں جانتے تاہم مہنگائی اور بجٹ کے خلاف ہمارا ایک نئے پہلو کا آغاز مارچ میں ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘جیسے ہی ہم نے یہ اعلان کیا تو حکومت نے ہمیں دھمکانے اور دباؤ میں ڈالنے کی کوشش کی تاہم ہم پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں’۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے مارچ کا مقصد پاکستان کے عوام تک معاشی صورتحال کا موقف پہنچائیں اور حکومت کو پیغام پہنچائیں کہ پی ٹی آئی ایم ایف معاہدہ پاکستان کی عوام کو قبول نہیں اور حکومت اس معاہدے کو چھوڑ کر پھر سے مذاکرات کرے اور عوام دوست منصوبہ لے کر آئے۔

اہم شخصیات کی لندن روانگی اور لندن پلان کے حوالے سے خبروں پر سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ‘مجھے اس کا کوئی علم نہیں اور سمجھتا ہوں کہ یہ خبریں سازش کا حصہ ہیں، فیصلہ کرنے والی پاکستان کی عوام ہے اور کسی کی مرضی یا سازش کے تحت اس حکومت کو نہیں چلنا چاہیے’۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے لندن میں اکٹھے ہونے کے والے سے ان کا کہنا تھا کہ ہر سیاسی جماعت کا اپنا کردار ہوتا ہے اور امید ہے کہ یہ کوئی ڈیل کا نتیجہ نہیں ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘میں ملک میں موجود ہوں کہیں بھاگنے والا نہیں اور عوام کے لیے مسائل پر جدوجہد جاری رکھوں گا’۔

مولانا فضل الرحمٰن کے دھرنے کے دوران ہونے والے معاہدے کی خبروں کے حوالے سے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ایسے کسی معاہدے کا علم نہیں، دھرنے کے دوران بھی اعتراض کیا تھا کہ ہم جمہوری طریقے کو مانتے ہیں اور کسی قسم کے معاہدے کا نہ حصہ تھے اور نہ ہوسکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں