سوات سیلاب متاثرین


سوات سیلاب متاثرین

سوات سیلاب متاثرین
Swat Flood Victims | 14 Days After Flood, No Relief Yet DC Swat & Locals Voices سوات سیلاب متاثرین

**سوات میں سیلاب کے 14 دن بعد بھی متاثرین کو ریلیف نہیں ملا، ڈی سی سوات اور مقامی افراد کی آوازیں**

سوات (جسٹس نیوز) سوات میں تباہ کن سیلاب کو دو ہفتے گزرنے کے باوجود، متاثرین امدادی کارروائیوں کے فقدان اور بحالی کے سست کام پر تشویش اور مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ان کے گھر اب بھی کیچڑ اور ملبے سے اٹے ہوئے ہیں، اور انہیں بنیادی ضروریات جیسے صاف پانی، بجلی، گیس، رہائش، بلکہ چادر اور بستر تک میسر نہیں ہیں۔

ایک متاثر محمد شفیق نے کہا، “حکومت کی طرف سے کچھ نہیں آیا۔ یہ تمام کام عوام اور اداروں نے کیا۔” انہوں نے الرازاکار اور الخدمت جیسی این جی اوز کی کوششوں کو سراہا لیکن زور دیا کہ ابھی بہت زیادہ مدد درکار ہے۔

مقامی افراد نے بتایا کہ ان کے گھر کے سامان، فرنیچر، حتیٰ کہ قیمتی سوغاتیں اور جمع پونجی سب سیلاب کے رحم و کرم پر ہیں۔ ایک مقامی شخص فضل حمید نے کہا، “یہ آفت militancy (عسکریت پسندی) سے بھی بڑھ کر ہے۔ ہماری تمام یادوں اور ورثے کو بہا لے گئی ہے۔”

**ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) سوات کا موقف:**

ڈپٹی کمشنر سوات نے جسٹس نیوز کو بتایا کہ سیلاب سے خاص طور پر 12 سے 13 ویلیج کونسلوں میں بہت زیادہ تباہی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی سڑکوں اور گلیوں کی صفائی تقریباً مکمل ہو چکی ہے اور اب گھروں کی صفائی کا آغاز ہو رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مکمل طور پر تباہ شدہ گھروں کے لیے دس لاکھ روپے اور جزوی طور پر تباہ شدہ گھروں کے لیے تین لاکھ روپے کے معاوضے کا سروے مکمل ہو چکا ہے اور آج سے چیک دینے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جن گھروں میں ملبہ یا پانی بھرا ہوا ہے، ان کے لیے ایک لاکھ روپے کے معاوضے کا اعلان کیا گیا ہے اور اس کی تصدیق کا عمل بھی شروع ہو رہا ہے۔

ڈی سی نے کہا کہ تقریباً تین سے چار دن میں تمام عمل مکمل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہر متاثرہ خاندان کے بینک اکاؤنٹ میں 15,000 روپے کی براہ راست امداد بھی منتقل کی جا رہی ہے تاکہ وہ فوری ضروریات خرید سکیں۔

**ابھی بھی بہت کام باقی:**

تاہم، زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ بحالی کے کام میں ابھی بہت تاخیر ہے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ ان کے گھروں سے ریت اور ملبہ صاف کرنے کے لیے بڑی مشینری اور زیادہ افرادی قوت درکار ہے۔ وہ مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت فوری طور پر بحالی کے عمل کو تیز کرے اور متاثرین کو فوری ریلیف مہیا کرے۔

ویڈیو رپورٹ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ متاثرین کے گھر اب بھی بری حالت میں ہیں، فرنیچر اور گھریلو سامان کیچڑ میں لت پت اور ناکارہ پڑا ہوا ہے۔ متاثرین کے پاس نہ بیٹھنے کی جگہ ہے اور نہ ہی سونے کے لیے بستر۔

یہ واضح ہے کہ سیلاب زدگان کے لیے بحالی اور تعمیر نو کا عمل ابھی طویل ہے اور فوری اور موثر اقدامات کی شدید ضرورت ہے۔

**#سوات_سیلاب_متاثرین**
**#SwatFloodVictims**
**#ReliefForSwat**