
قائداعظم نے غیرمسلم اقلیتوں کو تحفظ فراہم کیا، خواجہ رضی حیدر
”کراچی کے غیر مسلم کرکٹرز“ کو بین الاقوامی طور پر متعارف کرانے کی ضرورت ہے، سابق کپتان و منیجر پاکستان ٹیم معین خان
18 ویں صدی میں کرکٹ کی مقبولیت کا سبب جوا بنا، بین الاقوامی کرکٹ مبصر قمر احمد

کراچی ( ) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی اسپیشل ایونٹس کمیٹی کی جانب سے سینئر صحافی اور محقق شاہ ولی اللہ جنیدی کی تصنیف ”کراچی کے غیر مسلم کرکٹرز“ کی تقریب رونمائی حسینہ معین ہال میں کی گئی جس کی صدارت سابق ڈائریکٹر قائداعظم اکادمی خواجہ رضی حیدر نے کی جبکہ اظہارِ خیال کرنے والوں میں بین الاقوامی کرکٹ مبصر قمر احمد، سابق کپتان و منیجر پاکستان ٹیم معین خان، سینئر صحافی و تجزیہ کار مظہر عباس، عبدالرشید، اقبال رحمن مانڈویا، فرشید روحانی، اسپورٹس کالم نویس سہیل دانش و مصنف شاہ ولی اللہ جنیدی شامل تھے، تقریب کی نظامت کے فرائض اسپیشل ایونٹس کمیٹی کے چیئرمین محمد اقبال لطیف اور شکیل خان نے انجام دیے، اس موقع پر خواجہ رضی حیدر نے صدارتی خطبے میں کہاکہ برطانوی مصنف نے قائداعظم کی سوانح عمری لکھی جس میں انہوں نے کرکٹ کا تذکرہ کیا اور قائداعظم کی کرکٹ سے دلچسپی ظاہر کی، مولانا محمد علی جوہر اور شوکت علی کو بھی کرکٹ سے لگاﺅ تھا، ”قائد اعظم نے کہا تھا کہ پاکستان میں غیر مسلم اقلیتوں کو تحفظ فراہم کیا جائے گا“جس کے تحت انہیں تحفظ بھی فراہم کیا گیا، میں اتنی شاندار کتاب لکھنے پر شاہ ولی اللہ جنیدی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ وہ آئندہ بھی اپنا یہ سفر جاری رکھیں گے، بین الاقوامی کرکٹ مبصر قمر احمد نے کہاکہ کرکٹ کا مذہب سے کبھی تعلق نہیں رہا، 88 میں بھارت سے جو ٹیم انگلستان گئی
اس میں پارسی کرکٹر تھے، 18 ویں صدی میں کرکٹ کی مقبولیت جوئے کے سبب ہوئی، شاہ ولی اللہ کی کتاب بہت یونیک ہے، انہوں نے بہت تحقیق پر مبنی کتاب لکھی ہے جوکہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے، انہوں نے کہاکہ سندھ میں بہت کرکٹر پیدا ہوئے ہیں، کرکٹ کے فروغ میں سندھ کا اہم کردار تھا۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان معین خان نے کہاکہ کرکٹ پر لکھنا اور تحقیق کرنا بہت مشکل کام ہے، شاہ ولی اللہ جنیدی مبارکباد کے مستحق ہیں، اس کتاب کا انگزیری میں ترجمہ کرکے ان کرکٹرز کو پوری دنیا کے سامنے لانا چاہیے، سینئر صحافی و تجزیہ کار مظہر عباس نے کہاکہ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اس مقام تک پہنچتے ہیں شاہ ولی اللہ بھی ان میں سے ایک ہیں، بہت اچھی کاوش ہے میں اس کتاب پر انہیں مبارکباد پیش کرتا ہوں، انہوں نے کہاکہ افسوس ہوتا ہے کہ کرکٹ گراو¿نڈ ختم ہو رہے ہیں، کرکٹ بورڈ شفٹ ہوچکا ہے، پارسی گراو¿نڈ میں، میں نے کرکٹ کھیلی ہے، ٹیلنٹ کہیں سے بھی آسکتا ہے، میں نے ٹیلنٹ کو ضائع ہوتے دیکھا ہے، معین خان کی کرکٹ کے لیے خدمات قابل تعریف ہیں۔ اسپیشل ایونٹس کمیٹی کے چیئرمین محمد
اقبال لطیف نے کہاکہ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی پوری دنیا میں ثقافت کے فروغ کے لیے کام کررہا ہے جس کا سہرا صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ کو جاتا ہے، اکتوبر میں ”ورلڈ کلچر فیسٹیول“ کرنے جا رہے ہیں جس کی تیاریاں عروج پر ہیں، شاہ ولی اللہ جنیدی کی کتاب کی تقریب رونمائی میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا جمع ہونا خوش آئند بات ہے، انہوں نے بتایا کہ کرکٹ کی تاریخ 171 سال پرانی ہے، معین خان مجاہدِ کرکٹ ہے جس نے اپنے گلفس اور بلے سے کرکٹ کی جنگ لڑی۔ عبد الرشید شکور نے

کہاکہ آرٹس کونسل ہمیشہ اچھے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، شاہ ولی اللہ کی کتاب کا موضوع بہت منفرد ہے جس پر انہوں نے بہت محنت کی ہے، کراچی کے کرکٹرز کی تاریخ کو اکٹھا آسان کام نہیں۔








سینئر صحافی و محقق شاہ ولی اللہ جنیدی نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہاکہ برطانوی دور میں کراچی میں ترقی دیکھنے میں آئی اس میں کرکٹ بھی شامل تھا۔یہودی ہندوو¿ں نے اس کھیل میں دلچسپیوں کا حوالہ دیا، اتنی شاندار تقریب کے انعقاد پر صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ اور ان کی ٹیم کا شکر گزار ہوں۔























