
* پاکستان کی نوجوان نسل رات 10 بجے سے آدھی رات تک موسیقی سنتی ہے
کراچی 29 اگست 2025۔ اگست کے مہینے میں نوجوانوں اور ہِپ ہاپ موسیقی کے عالمی ایام کے موقع پر اسپاٹیفائی نے پاکستان کی نوجوان نسل (Gen Z)کے بدلتے ہوئے موسیقی کے ذوق اور رجحانات پر روشنی ڈالی ہے۔ اسمارٹ فونز اور ایئر بڈز کے ساتھ نوجوان صرف گانے نہیں سنتے بلکہ وہ عالمی آڈیو پلیٹ فارم پر نئی کمیونٹیز تشکیل دے رہے ہیں، پرانی اصناف کو زندہ کر رہے ہیں، عالمی رجحانات پر اثرانداز ہورہے ہیں اور اپنی موسیقی سے ایک نئی ثقافتی لہر پیدا کر رہے ہیں۔
دیسی پاپ اور انڈی سے لے کر پنجابی ہِپ ہاپ کی شاندار دھنوں کے ساتھ، اسپاٹیفائی کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستانی نوجوان سب سے زیادہ رات 10 بجے سے آدھی رات تک موسیقی سنتے ہیں اور موبائل کا استعمال بدستور ان کا سب سے پسندیدہ کام ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نوجوان صرف موسیقی کی سماعت تک محدود نہیں ہیں بلکہ وہ اپنی پلے لسٹس بھی بنا رہے ہیں، جو اس سال 45 فیصد بڑھ گئی ہیں۔ ان پلے لسٹس میں انورال خالد اور مانو کا گیت، ‘جھول’، عبدالحنان اور روالیو کا گیت، ‘بکھرا’، اور حسن رحیم، عمیر اور تلوندر کا ”وشز” قابل ذکر طور پر شامل ہیں۔
ہِپ ہاپ کی بات کی جائے تو پاکستانی نوجوان صرف سامعین نہیں رہے بلکہ اب وہ رجحان ساز بن چکے ہیں۔ 2022 سے اب تک ہِپ ہاپ کی اسٹریمنگز میں 245 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس میں سب سے پیش پیش طلحہ انجم ہیں، جن کے گیت، ‘ڈیپارچر لین’ اور ‘ہارٹ بریک کِڈ’ نے ریلیز کے بعد بالترتیب 2700 فیصد اور 500 فیصد اضافہ ہوا۔ اسکے علاوہ، JJ47، جو کھے، اور جانی جیسے گلوکار بھی تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں، جبکہ 2022 کے بعد سے بذات خود عمیر کی اپنی اسٹریمنگز میں 1200 فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
اسپاٹیفائی کی پاکستان اور یو اے ای کے لیے آرٹسٹ اینڈ لیبل پارٹنرشپ منیجر رطابہ یعقوب نے کہا، ”جنریشن زی (Gen Z)کا نیا میوزک سننے اور اپنانے کا رجحان اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ نسل بے خوف اور تخلیقی ہے اور تجربات کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔ یہ جنریشن صرف گانے سننے والی نہیں ہے بلکہ پلے لسٹس بنا کر نئی کمیونٹیز کو تشکیل دے رہی ہے۔ یہ نسل واضح طور پر پاکستان کے میوزک منظرنامے کی نئی سمت متعین کر رہی ہے اور اپنے پسندیدہ گلوکاروں کی آواز کو سامنے لاکر عالمی سطح تک پہنچا رہی ہے۔”
نوجوانوں کی پسندیدہ فہرست اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ پرانی یادوں اور نئے انداز دونوں کو قبول کرتے ہیں۔ طلحہ انجم، عمیر، عاطف اسلم، حسن رحیم اور بیان چارٹس میں سب سے زیادہ سنے جانے والے گلوکاروں میں شامل ہیں۔ البمز جیسے ”سفر” (بیان)، ”مائی ٹیربل مائنڈ” (طلحہ انجم) اور ”راک اسٹار ودآؤٹ اے گٹار” (عمیر) نوجوانوں کے لیے ثقافتی حوالہ بن گئے ہیں۔
اسپاٹیفائی کی رپورٹ مقامی ٹیلنٹ کو اجاگر کرنے کے ساتھ یہ پہلو بھی واضح کرتی ہے کہ پاکستان کے نوجوان جذبے، تخلیقی صلاحیت اور موسیقی کے ذریعے نہ صرف آپس میں جڑے ہوئے ہیں بلکہ اپنی ثقافت کو برقرار رکھنے کے ساتھ عالمی سطح پر اپنی پہچان قائم کر رہے ہیں۔























