سیلاب نے سب کچھ چھین لیا


سیلاب نے سب کچھ چھین لیا

سیلاب نے سب کچھ چھین لیا
سیلاب نے سب کچھ چھین لیا | 70-Year-Old Fazal Kareem Lost His Home in Swat Flood
بالکل، یہ ہے آپ کے لیے اردو میں ایک خبریں مضمون جو دیے گئے مواد پر مبنی ہے۔

***

### **سیلاب نے سب کچھ چھین لیا: سو سالہ فضل کریم کا چالیس سالہ کمایا گیا گھر تباہ**

**منگورہ:** (نامعلوم تاریخ) سوات میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے ایک بوڑھے شخص کی زندگی کی ساری کمائی اور چالیس سال کی محنت مزدوری پر پانی پھیر دیا ہے۔

فضل کریم نامی 70 سالہ بزرگ کا گھر سیلاب میں مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے اپنے گھر کے ملبے کے پاس کھڑے ہو کر اپنے دکھ کی داستان سنائی۔ ان کا کہنا تھا کہ سیلاب کے بعد اب تک بارہ دن گزر چکے ہیں لیکن حکومتی امداد کا کوئی مناسب انتظام نہیں ہو سکا۔

فضل کریم نے بتایا، “یہ گھر میں نے چالیس سال کی محنت مزدوری کر کے بنایا تھا، جو سیلاب نے ایک ہی رات میں تباہ کر دیا۔ اب نہ میرے پاس برتن ہیں، نہ چولہا ہے اور نہ ہی پانی کا بندوبست۔”

انہوں نے کہا کہ مقامی لوگ اپنی استطاعت کے مطابق ان کی مدد کر رہے ہیں اور کھانے پینے کا سامان دے رہے ہیں، لیکن حکومت کی طرف سے کوئی خاص مدد نہیں ملی۔ ان کا کہنا تھا، “حکومت والے مصروف ہیں، شاید ان کے پاس ٹیم نہیں ہے۔ جب ملے گی تو ضرور مدد کرے گی، ہمیں اسی امید پر ہے۔”

فضل کریم کا خاندان دس افراد پر مشتمل ہے، جن میں ان کی اہلیہ اور آٹھ بچے شامل ہیں۔ ان کے دو بیٹے خصوصی ضرورتوں کے حامل ہیں، جو نہ سن سکتے ہیں، نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی ذہنی طور پر بالکل صحت مند ہیں۔ دونوں بیٹے محنت مزدوری کر کے گھر چلاتے تھے۔

سیلاب سے تباہ ہونے والا یہ پکا مکان تقریباً چار سے پانچ کمروں پر مشتمل تھا۔ رپورٹر کے مطابق، یہ علاقہ ہر سال سیلاب کی زد میں رہتا ہے، لیکن موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث اس بار پانی کا لیول انتہائی خطرناک حد تک بلند ہو گیا تھا، جس نے تاریخی نقصان پہنچایا ہے۔

ماہرین کے مطابق، اب اس جگہ دوبارہ مکان تعمیر کرنا محفوظ نہیں ہے، کیونکہ مستقبل میں بھی یہاں سیلاب آنے کا خطرہ برقرار ہے۔ متاثرین کے لیے ضروری ہے کہ انہیں محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے، ان کے لیے زمین خریدی جائے اور نئے گھر کی تعمیر میں مدد کی جائے۔

اس وقت فضل کریم جیسے متاثرین خاندانوں کو نہ صرف فوری راشن اور بنیادی ضروریات کی اشیا کی سخت ضرورت ہے، بلکہ انہیں دوبارہ مستقل طور پر بحال کرنے کے لیے بھی جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔