تعلیمی اداروں میں میٹھے اور سوڈے والے مشروبات سمیت سافٹ ڈرنکس پر پابندی، سوشل میڈیا صارفین نے سگریٹ سے بھی یہی سلوک کرنے کا مطالبہ کر ڈالا

اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں میٹھے اور سوڈے والے مشروبات سمیت سافٹ ڈرنکس پر پابندی عائد کرنے کا اعلان سامنے آیا تو سوشل میڈیا صارفین نے سگریٹ سے بھی یہی سلوک کرنے کا مطالبہ کر ڈالا۔
اسلام آباد کی انتظامیہ نے میٹھے اور سوڈے والے مشروبات پر پابندی کا حکم نامہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تعلیمی اداروں کی کینٹینز اور کیفیز میں ایسے مشروبات فروخت کیے جا رہے ہیں جو بچوں کی صحت کے لیے نقصان دہ ہیں-ڈپٹی کشمنر اسلام آباد حمزہ شفقات کے دستخطوں سے جمعرات کو جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن کے مطابق انسانی زندگی کی حفاظت اور عوام کو نقصان سے بچانے کے لیے معاملے پر دفعہ 144 کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے۔
ضلعی مجسٹریٹ کی حیثیت سے جاری کردہ حکم نامے میں حمزہ شفقات کا کہنا ہے کہ کسی بھی سرکاری و نجی تعلیمی ادارے اور مدارس کی حدود میں میٹھے، سوڈے اور سافٹ ڈرنکس فروخت کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔
فوری طور پر نافذ العمل ہونے والی پابندی کا اطلاق دو ماہ کے لیے کیا گیا ہے۔
نوٹیفیکیشن کے ساتھ ڈپٹی کمشنر نے 27 جنوری کو ٹوئٹر پر کرائے گئے ایک پول کا حوالہ بھی دیا۔ اس میں انہوں نے سوشل میڈیا صارفین سے پوچھا تھا کہ کیا اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں 15 برس سے کم عمر بچوں کے لیے انرجی ڈرنکس پر پابندی ہونی چاہیے؟گذشتہ روز جاری کردہ نوٹیفکیشن کے ساتھ انہوں نے اس جائزے کے نتائج بھی شیئر کیے جس کے مطابق رائے عامہ کے جائزے میں 20 ہزار افراد نے شرکت کی تھی اور 90 فیصد میٹھے مشروبات پر پابندی چاہتے تھے۔
سوشل میڈیا صارفین نے نوٹیفیکیشن پر تبصرے کرتے ہوئے اس اقدام کی حمایت و مخالفت میں تو گفتگو کی ہی، ساتھ ہی ساتھ تعلیمی اداروں کے اردگرد سگریٹ کی فروخت پر بھی سوال اٹھائے۔

ریڈیو پاکستان کے سابق ایم ڈی اور تجزیہ کار صحافی مرتضی سولنگی نے لکھا کہ بچوں کے تعلیمی اداروں اور کھیل کے میدانوں کے قریب سگریٹ کی فروخت کو روکا جائے یہ بڑی قومی خدمت ہو گی۔ انہوں نے موت کے سوداگر کا ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے لکھا کہ سگریٹ کمپنیاں بچوں کو ہدف بنا رہی ہیں۔جواب میں ڈپٹی کشمنر کے ٹوئٹر ہینڈل سے لکھا گیا کہ ’ہم اسے بھی یقینی بنا رہے ہیں۔‘
کچھ صارفین نے اسلام آباد کی حد تک کیے گئے اقدام پر تبصرے میں کہا کہ اگر سافٹ ڈرنکس اتنے ہی نقصان دہ ہیں تو حکومت ملک بھر میں ان پر پابندی عائد کیوں نہیں کرتی۔
اظہار اللہ نامی صارف نے لکھا کہ کیا ایسے مشروبات صحت سے متعلق اداروں سے محفوظ ہونے کے لائسنس حاصل نہیں کرتے؟ صرف تعلیمی اداروں میں ہی پابندی کیوں؟
تعلیمی اداروں اور سافٹ ڈرنکس پر پابندی کا ذکر ہوا تو یونیورسٹی طلبہ اپنے لیے فکر مند دکھائی دیے۔ کاربن بنز نامی ہینڈل نے استفسار کیا کہ کیا اس کا اطلاع جامعات پر بھی ہوگا؟ ساتھ ہی مطالبہ کیا کہ ہم بڑے بچوں کو خراب صحت کے فیصلے خود کرنے دیں-سافٹ ڈرنکس پر پابندی کے اقدام کو سراہنے والے سوشل میڈیا صارفین میں سے کچھ نے حکم نامے کی مدت پر سوال کیا۔ کشمیر آفریدی نامی صارف نے لکھا کہ یہ ڈرنکس بچوں کے لیے اتنے نقصان دہ ہیں تو پابندی کا اطلاق صرف دو ماہ کے لیے ہی کیوں، کیا اس کے بعد ان کے نقصان دہ اثرات ختم ہو جائیں گے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں