وائس چانسلر نے کہا کہ بی ایس اے آئی پروگرام جامعہ کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگا، جو نہ صرف معیاری تعلیم فراہم کرے گا بلکہ طلبہ کو عالمی معیار کے مطابق مستقبل کی ضروریات کے لیے تیار کرے گا۔

وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظہور احمد بازئی نے کہا کہ بی ایس اے آئی پروگرام جامعہ کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگا، جو نہ صرف معیاری تعلیم فراہم کرے گا بلکہ طلبہ کو عالمی معیار کے مطابق مستقبل کی ضروریات کے لیے تیار کرے گا۔

خبرنامہ نمبر5857/2025
کوئٹہ 27اگست :۔جامعہ بلوچستان کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظہور احمد بازئی کی زیر صدارت وائس چانسلر آفس میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں بی ایس آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) پروگرام کے آغاز، حکمت عملی اور منصوبہ بندی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس پروگرام کا مقصد بلوچستان کے نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا اور مستقبل کی ضروریات کے مطابق تیار کرنا ہے۔اجلاس میں رجسٹرار محمد طارق جوگیزئی، ڈین فیکلٹی پروفیسر ڈاکٹر نظام الدین شاہوانی، ڈین ڈاکٹر محمد عالم ترین، ڈائریکٹر جی آئی ایل ڈاکٹر وحید نور، چیئرمین شعبہ کمپیوٹر سائنس ڈاکٹر احسان اللہ، ڈاکٹر عبدالباسط اور ڈاکٹر انور علی سجرانی نے شرکت کی۔اجلاس میں نصاب کی تیاری، فیکلٹی ڈیولپمنٹ، انفراسٹرکچر کی فراہمی اور صنعت و تعلیمی اداروں سے اسٹریٹجک شراکت داری


جیسے اہم امور پر غور کیا گیا۔ یہ پروگرام جامعہ کے اس وڑن کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت طلبہ کو آرٹیفیشل انٹیلیجنس، مشین لرننگ اور ڈیٹا سائنس جیسے جدید شعبہ جات میں مہارت فراہم کی جائے گی۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظہور احمد بازئی نے کہا کہ بی ایس اے آئی پروگرام جامعہ کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگا، جو نہ صرف معیاری تعلیم فراہم کرے گا بلکہ طلبہ کو عالمی معیار کے مطابق مستقبل کی ضروریات کے لیے تیار کرے گا۔ انہوں نے متعلقہ شعبہ جات کو ہدایت کی کہ منصوبہ بندی کے عمل کو تیز کیا جائے اور نصاب کی تیاری و تدریسی نظام میں بین الاقوامی معیار کو مدنظر رکھا جائے۔اجلاس اس عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ پروگرام کو جلد از جلد جامعہ بلوچستان کی مکمل انتظامی اور تعلیمی حمایت کے ساتھ لانچ کیا جائے گا۔

﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر5852/2025
کوئٹہ 27 اگست:۔ گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے پاکستان ائیرپورٹ اتھارٹی کے زیر اہتمام ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کی پہلی “فل اسکیل ایمرجنسی ایکسرسائز” کا مقصد کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال کو ناکام بنانا ہے۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی یہ فرضی مشق ایک واضح پیغام ہے کہ ہم تیار، چوکس اور متحد ہیں۔ ہنگامی حالات وارننگ نہیں دیتے لیکن ہماری اپنی تیاری اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ ہم فوری جواب دے سکتے ہیں، سرکاری املاک بچا سکتے ہیں اور اپنے لوگوں کی بہتر طور پر حفاظت کر سکتے ہیں۔ حکومت بلوچستان اس کاز کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔ اس موقع پر ائیرکموڈور بلال احمد میر، ایڈوائزرز ٹو چیف منسٹر نسیم الرحمٰن، ربابہ بلیدی اور کوئٹہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے منیجر وحید عباسی سمیت متعدد اہم اشخاص موجود تھے. تقریب کے شرکائ سے خطاب میں گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ ہمارے ہوائی اڈوں پر حفاظت صرف ایک محکمے کا کام نہیں ہے بلکہ یہ ایک مشترکہ ذمہ داری ہے. پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی اور ایئر لائنز سے لیکر قانون نافذ کرنے والے اداروں، سول ایوی ایشن اتھارٹی، صحت کی ٹیموں، ریسکیو سروسز، پی ڈی ایم اے، اور ہماری ضلعی انتظامیہ تک غیرمتوقع واقعہ پیش آنے کے موقع پر ایک ٹیم کے طور پر کام کرتے ہیں۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ قبل از وقت تیاری مسافروں کو محفوظ رکھتی ہے اور دنیا کو یہ اعتماد دیتی ہے کہ ہم ہر چیلنج سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں۔ اس فرضی مشق کو کامیاب بنانے میں تمام متعلقہ اداروں کی انتھک کوششیں لائق تحسین ہیں لہٰذا ضروری ہے کہ ہم اسے سیکھنے، بہتر بنانے اور اپنی کارکردگی کو مزید مضبوط اور مستحکم بنائیں. مشترک کاوشوں اور متعلقہ اداروں کے درمیان مضبوط روابط بڑھانے سے ہم ملکر کوئٹہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو زیادہ محفوظ اور موثر بنا سکتے ہیں اسطرح آپ عوام کے جان و مال کی حفاظت پر بھرپور توجہ دیں کیونکہ چوکسی کبھی نہیں سوتی ہے۔ بعد ازاں گورنر بلوچستان نے فل اسکیل ایمرجنسی ایکسرسائز کا معائنہ کیا اور حصہ لینے والے تمام متعلقہ اداروں کے عہدیداروں کو داد دی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5853/2025
کوئٹہ 27اگست :۔صوبے میں معیاری تعلیم کی فراہمی یقینی طور پر عوام کا بنیادی حق ہے کیونکہ تعلیم انسان کی ترقی کا بنیادی ستون ہے۔ معیاری تعلیم سے نہ صرف فرد کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معاشرتی اور اقتصادی ترقی میں بھی اہم کردار ادا ہوتا ہے۔ ہر شہری کو معیاری تعلیم حاصل کرنے کا حق ہونا چاہیے۔ صوبے میں معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے حکومت دستیاب وسائل میں رہتے ہوئے بہترین اقدامات اٹھا رہی ہیں اور شعبہ تعلیم کے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے تاکہ تعلیمی اداروں کی ضروریات پوری ہو اور اساتذہ و طلباءکو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ ان خیالات کا اظہار چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے محکمہ تعلیم میں ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ سکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، جن میں کلاس رومز، باو¿نڈری والز، بجلی، پینے کا پانی اور بیت الخلا، لیبارٹریز اور لائبریریوں کی فراہمی کے لئے ہر ممکن کوششیں جاری ہیں تاکہ طلباء کو جدید تعلیم کے مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے تعلیم کے فروغ کے لیے مختلف اہم اقدامات اٹھائے ہیں جن کا ہدف تعلیم کے معیار کو بلند کرنا اور زیادہ سے زیادہ بچوں کو اسکولوں میں داخل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد تعلیم کے معیار کو بلند کرنا، تعلیم تک رسائی کو آسان بنانا اور نوجوانوں کو جدید دور کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کرنا ہے۔ اجلاس میں سیکرٹری سکولز اسفندیار خان ، سیکرٹری مواصلات لعل جان جعفر و دیگر بھی موجود تھے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5854/20258
سبی 27اگست :۔کمشنر سبی ڈویژن اسد اللہ فیض کی صدارت میں ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے پروگریس ریویو اجلاس منعقد ہوا، جس میں متعلقہ محکموں کے ایگزیکٹو انجینئرز اور افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کی جاری اور نئی اسکیمات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ کمشنر سبی ڈویژن نے اس موقع پر کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ اسکیمات پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے اور معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ کمشنر اسد اللہ فیض نے کہا کہ ترقیاتی منصوبے عوامی فلاح و بہبود کے لیے ہیں، لہٰذا تمام افسران اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری سے سرانجام دیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کام میں تاخیر اور ناقص معیار کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اجلاس کا سلسلہ جاری رہے گا اور کل دیگر محکموں کی ترقیاتی اسکیمات کے حوالے سے تفصیلی جائزہ لیا جائے گا تاکہ عوامی ضروریات کے مطابق منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچ سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5855/2025
سبی 07اگست :۔ڈپٹی کمشنر سبی میجر (ر) الیاس کبزئی کی صدارت میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر میر بہادر خان بنگلزئی، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر عبدالستار لانگو، تحصیلدار زابر علی ڈومکی، ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر RTSM مرزا اطہر بیگ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر نسواں سمیت متعلقہ تمام افسران نے شرکت کی اجلاس میں ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر RTSM نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یکم اگست سے 26 اگست تک 89 اسکولوں کے معائنے کیے گئے، جن میں 49 اساتذہ غیر حاضر پائے گئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حالیہ ایس بی کے اور کنٹریکٹ کی بنیاد پر ہونے والی بھرتیوں کے باعث 47 اسکول فعال ہوچکے ہیں جبکہ 26 اسکول تاحال غیر فعال ہیں، جن میں سے 13 اسکول نان ایگزسٹ قرار دیے گئے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر سبی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام افسران ترقیاتی کمیٹی کے اجلاس میں لازمی شرکت کریں اور جن اسکولوں کی عمارت یا چار دیواری موجود نہیں، ان کی فہرست فوری طور پر فراہم کی جائے تاکہ ان کے لیے عمارت، چار دیواری اور سولرائزیشن جیسے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی جاسکے مزید برآں، ڈپٹی کمشنر نے محکمہ تعلیم کے افسران کو ہدایت کی کہ اسکولوں میں حاضری کو یقینی بنانے اور تدریسی معیار کو بہتر بنانے کے لیے سخت مانیٹرنگ کی جائے، غیر حاضر عملے کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے اور بچوں کے بہتر تعلیمی ماحول کے لیے فوری عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔ اجلاس میں پانچ مستقل غیر حاضر خواتین اساتذہ کو برطرف کرنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے۔ ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ تعلیم کے معاملے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5856/2025
گوادر27اگست :۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے پیشکان میں منعقدہ کھلی کچہری کی صدارت رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کی، جس میں مختلف محکموں کے افسران ، کونسلران اور عوام نے شرکت کی۔کھلی کچہری میں سب سے زیادہ شکایات سمندر میں غیر قانونی ٹرالنگ سے متعلق سامنے آئیں۔ عوام نے کہا کہ ٹرالنگ کے باعث چھوٹی مچھلیاں اور ان کی افزائش نسل بری طرح متاثر ہو رہی ہے، جبکہ کئی قیمتی مچھلیوں کی اقسام سمندر سے ختم ہوتی جا رہی ہیں۔ شہریوں نے مو¿قف اختیار کیا کہ ان کی روزی روٹی سمندر سے وابستہ ہے اور غیر قانونی ٹرالنگ ان کے مستقبل کے لیے شدید خطرہ بن چکی ہے۔اس موقع پر مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے واضح کیا کہ ٹرالنگ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا:”میری جدوجہد ٹرالنگ کے خلاف ہر فورم پر جاری ہے۔ حکومتِ بلوچستان نے متعلقہ اداروں اور محکمہ فشریز کو واضح احکامات دیے ہیں کہ اگر کوئی ٹرالنگ کے دوران پکڑا جائے تو اس کے جہاز کو فوراً ضبط کیا جائے۔انہوں نے اعتراف کیا کہ اب بھی بعض کیسز نظر آ رہے ہیں، لیکن ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ فشریز افسر نے بتایا کہ پیشکان کا پیٹرولنگ بوٹ طویل عرصے سے خراب پڑا ہے، جس کی وجہ سے ٹرالنگ کو مو¿ثر طریقے سے روکنا مشکل ہو رہا ہے۔ اس پر رکن صوبائی اسمبلی نے کہا کہ وہ اس مسئلے پر روزانہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے رابطے میں ہیں۔کھلی کچہری میں بجلی کے مسائل بھی تفصیل سے زیر بحث آئے۔ مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے بتایا کہ گوادر کو اب نیشنل گرڈ سے منسلک کر دیا گیا ہے، کیونکہ ایران سے بجلی کی فراہمی انتہائی کم، بعض اوقات صرف پانچ میگاواٹ تک محدود رہتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کے پرانے ڈھانچے کی وجہ سے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے ایکسین کیسکو حسین بخش پیچو کو ہدایت کی کہ پیشکان کے ٹرانسفارمرز، لائنوں اور کھمبوں کے مسائل کا فوری ڈیٹا تیار کر کے حل نکالا جائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔اسی طرح پانی کے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماضی میں پیشکان میں پانی کا بحران سنگین تھا، مگر نئی پائپ لائن کے ذریعے براہ راست فراہمی سے کافی بہتری آئی ہے۔ تاہم خشک سالی کے باعث ڈیم خشک ہو چکے ہیں جس سے دوبارہ قلت پیدا ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پیشکان کو “سنٹ سر” منصوبے کے ذریعے منسلک کیا جا رہا ہے، جبکہ نئے پی ایس ڈی پی میں ایک پمپنگ اسٹیشن کی منظوری بھی ہو چکی ہے، جس پر جلد کام شروع ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مقصد یہ ہے کہ ٹینکروں پر انحصار ختم کر کے پانی کا مستقل حل نکالا جائے۔مزید برآں، مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان نے گوادر کے پانی اور بجلی کے بحران سے نمٹنے کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دی ہے، جس کے مثبت نتائج جلد سامنے آئیں گے۔کھلی کچہری میں عوام نے تعلیم، صحت اور روزگار کے مسائل بھی اجاگر کیے۔ اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی نے پولیس افسران کو ہدایت کی کہ پیشکان میں منشیات فروشوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے، کیونکہ منشیات معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

https://www.youtube.com/watch?v=5uur1wv4yi