خوف کی علامت بننے والا’ نقاب پوش پروفیسر’ گرفتار

کویتی صرافہ مارکیٹ میں خوف کی علامت اور پولیس کے لیے چیلنچ بننے والے ’نقاب پوش پروفیسر‘ کو بالاخر گرفتار کرلیاگیا۔
ملزم نے ایک ہفتے کے دوران 13منی چینجزکی دکانوں کا صفایا کردیاتھا۔14 ویں واردات کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق ملزم کویتی شہری ہے جو نشے کا عادی ہے، ملزم کے گھر اور گاڑی سے واردات کے دوران استعمال ہونے والی اشیا بھی برآمد کر لی گئی جو وہ دکانوں کے دروازے توڑنے کے لیے استعمال کیا کرتاتھا۔کویتی جریدے القبس کے مطابق شہرکی صرافہ مارکیٹ میں خوف کی علامت بن جانے والےنقاب پوش چورکی تلاش اور گرفتاری کے لیے پولیس نے خفیہ اہلکاروں کے ساتھ مل کرحکمت عملی مرتب کی تاکہ ملزم کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا جاسکے۔
صرافہ مارکیٹ کی دکانوں میں کی گئی تمام وارداتیں میں یکساں طریقہ اختیار کیا گیا تھا جنہیں دیکھتے ہوئے پولیس اس نتیجے پر پہنچی کہ وارداتیں کرنے والاایک ہی شخص یا گروہ ہے۔
پولیس ذرائع کاکہنا ہے کہ ملزم وارداتوں کے دوران اپنی شناخت چھپانے کے لیے مخصوص نقاب اور لباس استعمال کیا کرتا تھا تاکہ دکانوں میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ کے دوران اس کی شناخت نہ ہو سکے۔

خفیہ پولیس ٹیم نے ملزم کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر نے کےلیے مختلف سادہ لباس والے اہلکاروں کو مارکیٹوں کی نگرانی کے لیے متعین کر دیا تاکہ وہ ملزم تک پہنچ سکیں۔اخبار کا کہنا تھا کہ 14ویں واردات ملزم کے لیے آخری ثابت ہوئی جس میں پولیس نے اسے اس وقت گرفتا ر کیاجب وہ ایک دکان میں نقب لگا کر دروازہ توڑنے کی کوشش کررہا تھا۔
پولیس ٹیم کو ملزم کی گاڑی سے متعدد نقاب اور دکانوں کے تالے توڑنے والے آلات بھی مل گئے۔ ملزم کے گھر کی تلاشی لینے پر وہاں سے مزید نقاب بھی برآمد ہوئے۔ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ ملزم نشے کا عادی ہے جو دن میں دکانوں کی ’ریکی‘ کرکے تمام معلومات حاصل کر لیتا اور رات کو جب مارکیٹ بند ہوجاتی تو اپنے منتخب کیے گئے ٹارگٹ پر پہنچ جاتا۔
ایک ہفتے کے دوران ملزم نے 13 منی ایکسچینج کی دکانوں کا صفایا کیا تھا۔ ایک ہی دن میں ملزم نے ایک سے زائد دکانوں میں نقب لگائی تھی۔
پولیس نے نقاب پوش چور کے خلاف مقدمہ درج کرکے اسے محکمہ تحقیقات و استغاثہ کے سپرد کر دیا جہاں چالان مکمل کرنے کے بعد اسے عدالت میں پیش کیاجائےگا۔
urdunews-report



اپنا تبصرہ بھیجیں