مفکر اسلام مولانا حبیب ریحان ندوی ازہری کی پو ری پوری زندگی فروغ اسلام کے تابع تھی

قابل فخر بھوپالی
مفکر اسلام مولانا حبیب ریحان ندوی ازہری کی پو ری پوری زندگی فروغ اسلام کے تابع تھی
انھوں نے بیرون ممالک میں بھی اپنی اعلیٰ دینی صلاحیتوں کی دھاک بٹھا رکھی تھی
عربی زبان و ادب میں آپ کی گراں قدر خدمات پر صدارتی اعزاز سے نوازا گیا
آپ کی ادبی، علمی، دینی، تدریسی اور صحافتی خدمات قابل تحسین تھیں

قابل فخر بھوپالی
مفکر اسلام مولانا حبیب ریحان ندوی ازہری کی پوری زندگی فروغ اسلام کے تابع رہی
انھوں نے بیرون ممالک میں بھی اپنی اعلیٰ دینی صلاحیتوں کی دھاک بٹھا رکھی تھی
عربی زبان و ادب میں آپ کی گراں قدر خدمات پر صدارتی اعزاز سے نوازا گیا
آپ کی ادبی، علمی، دینی، تدریسی اور صحافتی خدمات قابل تحسین تھیں

مسرور احمد مسرور

بھوپال شہر بے مثال، یہاں کے لوگ باکمال اور قابل دید ہے قدرتی حسن و جمال، بھوپال میں جنم لینے والے جس طرح مسلمان ہونے پر فخر محسوس کرتے ہیں اسی طرح بھوپال کی مٹی کو بھی اپنا فخر سمجھتے ہیں اور اسے سلام پیش کرتے ہیں اور بھوپال کو اپنی خصوصی شناخت سمجھتے ہیں یہاں کے ہر شعبے میں بھوپال کا نام پوری دنیا میں جمگمگاتا دکھائی دیتا ہے کیوں کہ دین دنیا دونوں میں یہاں کے لوگوں نے اپنی قابلیت اور صلاحیتوں سے کارنامہ ہائے نمایاں انجام دیئے ہیں ہر شعبے میں قابل فخر بھوپالی لوگ اپنے حسین شہر بھوپال کا نام روشن کرتے نظر آئیں گے۔
آج بھوپال دین اسلام کا ایک بڑا اور معتبر مرکز جانا جاتا ہے جہاں سے علم و دین کی خدمت کے حوالے سے نہایت ہی موثر انداز میں کوششوں کا سلسلہ جاری ہے یہی وجہ ہے کہ بھوپال کو اسلام کا ایک مضبوط قلعہ کہا جاتا ہے۔ ان تمام کوششوں کا آغاز بھوپال کی ایک بہت بڑی علمی اور دینی محترم شخصیت مولانا محمد عمران خان ندوی کی دینی علمیت اور قابلیت کا کمال ہے وہ اگرچہ آج ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں لیکن ان کا حقیقی مشن اسلام کی سربلندی کی سمت کامیابی سے جاری ہے۔ آپ کے ساتھ اور آپ کے بعد دین اسلام کی تبلیغ کے لیے دیگر حضرات نے بھی پوری دلچسپی کے ساتھ حصہ لیا اور ان کے مشن کو آگے بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کیا اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ اہل ایمان اور اہل اسلام ان کوششوں کو قدر و احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں۔
یہاں میں مولانا عمران خان ندوی (مرحوم) کے بڑے صاحبزادے مولانا حبیب ریحان خان ندوی ازہری کا نام ایک قابل فخر بھوپالی کے طور پر پیش کرتے ہوئے ان کی علمی، دینی، ادبی اور صحافتی اور تدریسی قابل قدر خدمات کو نئی نسل کی آگہی کے لیے احاطہ تحریر میں لانا چاہتا ہوں۔ ہمیں ایسی شخصیات کو بھولنا نہیں چاہیے بلکہ گاہے بہ گاہے ایسی شخصیات کی خدمات سے نئی نسل کو آگاہ کرنا چاہیے۔
مولانا حبیب ریحان ندوی جب حیات تھے تو کئی بار بھوپال جانے اور ان سے ملاقات کا شرف حاصل کر نے کا موقعہ ملا اور دوران گفتگو ان کی علمی صلاحیتوں سے فیض یاب ہونے کا موقعہ ملا۔ میں ان کی علمیت اور قابلیت کا ہمیشہ سے معترف رہا ہوں بلکہ میں تو انھیں ایک علامہ سے کسی طرح کم نہیں سمجھتا۔تاج المساجد میں ایک بار ان کی امامت میں نماز عید بھی ادا کی اور ان کا طویل خطبہ بھی پوری دلچسپی کے ساتھ سنا، بے پناہ خوبیوں کے مالک۔ ایسے لوگ کم ہی ملتے ہیں اللہ ان کو درجات کی سربلندی سے سرفراز کرے۔
مولانا حبیب ریحان ندوی ازہری کی تعلیم و تربیت مکمل طور پر علمی و دینی ماحول میں ہوئی ان کے دادا پردادا کے زمانے سے خاندان میں دینی تعلیم و تربیت اور علمی، تصنیف و تالیف کی سرگرمی کی روایت چلی آ رہی تھی۔
آپ 13 اگست 1936 کو بھوپال میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم سے لے کر تکمیل تک کی تمام تعلیم دارالعلوم ندوة العلمائمیں حاصل کی جہاں آپ کے والد پرنسپل تھے۔ ندوہ میں اپنی تعلیمی زندگی میں ہمیشہ سب سے آگے رہے اور وہاں کی تمام سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
15 سال کی عمر میں 1951 میں عالم، سترہ سال کی عمر میں 1953 میں فاضل اور 19 سال کی عمر میں 1955 میں تکمیل میں نمایاں نمبروں کے ساتھ کامیابی حاصل کی۔ ان کی تعلیمی قابلیت کا ریکارڈ ہر لحاظ سے بہترین تھا انھوں نے ہمیشہ علم کی اہمیت کو مقدم جانا اور زندگی کو علم کے لیے وقف کیے رکھا۔ آپ کو ندوہ سے گہری محبت اور خاص تعلق تھا اور ندوہ کے فیصلوں اور پالیسیوں میں آپ کی رائے کو اہمیت دی جاتی تھی۔
ندوة العلمائسے فراغت کے بعد آپ واپس بھوپال تشریف لے آئے اور تاج المساجد کے رسالے ”نشان منزل بھوپال“ کی ادارت کی ذمے داریاں سنبھالیں۔ آپ نے نہایت مہارت اور قابلیت کے ساتھ ”نشان منزل“ کی ادارت کی ذمے داری انجام دی۔ اسی دوران آپ نے دارالعلوم تاج المساجد میں اعزازی طور پر تدریسی خدمات بھی انجام دیں۔
1958 میں آپ اعلیٰ تعلیم کے لیے مصر تشریف لے گئے اور جامعہ ازہر میں دعوت و رہنمائی میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اور تدریس میں ایم ایڈ کی ڈگری حاصل کی، بعد میں قاہرہ یونیورسٹی سے عربی ادب کے مضمون میں بی۔اے آنرز اور جدید عربی ادب میں بھی ڈپلومہ حاصل کیا۔
اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ نے 1963 سے 1989 تک تقریباً 25 سال لیبیا کے شہر البیضا میں امام محمد بن علی میں علوم اسلامیہ اور عربی زبان و ادب میں استاد کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ 1976 میں آپ دارالعلوم کی مجلس شوریٰ میں منتخب ہوئے اور 1980 میں ہندوستان واپسی پر آپ دارالعلوم تاج المساجد بھوپال میں سیکریٹری تعلیمات مقرر ہوئے۔ 1989 سے 1994 تک آپ نائب صدر دارالعلوم بھی رہے اور اپنی خلوص مندی اور بھرپور صلاحیتوں کے ساتھ خدمات انجام دیتے رہے۔ طالب علمی کے زمانے ہی سے آپ کو اردو اور عربی میں مضامین لکھنے کا شوق تھا۔ ”نشان منزل“ کی ادارت نے آپ کے وقار میں مزید اضافہ کیا۔
ندوہ میں قیام اور اپنے والد مرحوم کی وجہ سے آپ کی ملاقات ملک اور بیرون ممالک کے جید علما و دانشوروں سے رہتی تھی۔ آپ کی غیر معمولی ذہانت اور مطالعے کا بے پناہ شوق آپ کے علم کو نئی فکری بلندیوں تک لے گیا۔ آپ کی تحریر، تقریر، جرائت، وقار، فکری عظمت سے خالی نہیں ہوتی تھی۔
آپ نے 11 کتابیں تصنیف کیں اور 300 سے زیادہ مضامین تحریر کیے۔ یہ تمام مضامین دینی، اصلاحی اور معاشرتی پہلوؤں سے متعلق ہوتے تھے اور اپنے ملک کے علاوہ غیر ممالک کے اخبارات اور رسائل میں شایع ہوتے رہے۔ دنیا بھر میں منعقدہ درجنوں سیمیناروں اور کانفرنسوں میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کا اعزاز حاصل ہے۔ عالمی سطح پر آپ کو عزت و احترام سے مدعو کیا جاتا تھا اور ان کی شخصیت کو قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھا جا تا تھا
کئی انٹرنیشنل اسلامی اداروں میں انھیں اعزازی عہدوں سے نوازا گیا۔ اپنے ملک میں پرسنل لائبورڈ، آل انڈیا مشاورتی کونسل، فقہ اکیڈمی اور مدھیہ پردیش وقف بورڈ میں شامل رہے۔ عربی زبان و ادب میں آپ کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں جمہوریہ ہند کے صدر نے آپ کو سند اعزاز عطا کی۔ دارالعلوم تاج المساجد کے اساتذہ اور طلبا کی فکری ترقی اور دارالعلوم کے نصاب کی اصلاح میں آپ کا نمایاں کردار رہا۔ 8 اگست 2009 کو آپ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔